زائد المیعاد ویکسین سے بچوں کی ہلاکتیں

ہمارے ہاں انسانی صحت اور جان کے ساتھ کیا کھلواڑ ہو رہا ہے۔


Editorial March 23, 2018
ہمارے ہاں انسانی صحت اور جان کے ساتھ کیا کھلواڑ ہو رہا ہے۔ فوٹو : فائل

ISLAMABAD: تھرپارکر کا ضلع طویل عرصہ سے قحط سالی کاشکار ہے جہاں پانی اور شدید غذائی قلت کے علاوہ لوگوں کے لیے زندگی کی دیگر ضروریات بھی موجود نہیں اور اس پر مستزاد وہاں کے سرکاری اہلکاروں کی اپنے فرائض منصبی سے مجرمانہ غفلت نے زندگی اور بھی اجیرن بنا دی ہے۔

ایک اخباری خبر کے مطابق مٹھی کے سرکاری اسپتال میں پانچ نومولود بچوں کی یکلخت موت ہو گئی جس کا سپریم کورٹ نے از خود نوٹس لے کر ذمے داروں کو عدالت میں طلب کر لیا۔ عدالت کے استفسار پر بتایا گیا کہ بچوںکی ہلاکتیں زائدالمیعاد ویکسین سے ہوئی ہیں تاہم عدالت نے حکومت سندھ کی رپورٹ مستردکرتے ہوئے مقدمہ31 مارچ کو کراچی رجسٹری میں سماعت کے لیے مقررکر دیا ہے۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثارکی سربراہی میں فل بنچ نے سندھ حکومت کی رپورٹ پر شدید تحفظات کا اظہارکرتے ہوئے اگلی سماعت پر صوبائی سیکریٹری صحت اور دیگر تمام متعلقہ افسران کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دے دیا اور ریمارکس دیے جن کے گھرکے چراغ بجھا دیے گئے ہیں ان کے ماں باپ کی کسی ماتحت کی معطلی سے تسلی تشفی نہیں ہو سکتی۔

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ کی رپورٹ پر کہ ہلاکتیں زائد المیعاد ویکسین کے استعمال سے ہوئیں، چیف جسٹس نے کہا کس کو ذمے دارٹھہرایا گیا اور ان کے خلاف کیا کارروائی ہوئی، بچے غفلت سے مرگئے ہیں، والدین انھیں سرکاری اسپتال میں علاج کے لیے لے گئے اور وہاں سے لاشیں واپس آئیں، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کے یہ کہنے پر کہ ذمے دار افرادکو معطل کر دیا گیا ہے چیف جسٹس نے شدید برہمی کا اظہارکیا اور کہاکسی جونیئر اہلکارکو معطل کرنا کوئی کارروائی نہیں، پہلے اصل کرداروںکا تعین کیا جائے۔

محکمہ صحت کے افسر نے بتایا کہ ابتدائی طور پر یہ نواب شاہ کے ضلعی صحت افسرکی ذمے داری تھی لیکن ویکسین تیارکرنے والے، اسے رکھنے والے اور استعمال کرنے والے بھی ذمے دار ہیں۔ چیف جسٹس نے ایک اور کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ اگلے دو ہفتوں کے دوران وہ مقدمے عدالت میں پیش کیے جائیں جنھیں گزشتہ 28 سال کے دوران کسی نے ہاتھ تک نہیں لگایا۔

اس صورت حال سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہمارے ہاں انسانی صحت اور جان کے ساتھ کیا کھلواڑ ہو رہا ہے' اصولی طور پر جعلی ادویات تیار کرنے والوں اور ان سرکاری اہلکاروں جنہوں نے غفلت کا مظاہرہ کیا سخت سزا دی جانی چاہیے۔