نوشہرہ میں جشن خوشحال

جشن خوشحال خان خٹک تو مثالی تھا کہ اس میں پورے ضلعے کا ثقافتی رنگ بھی تھا۔


Saad Ulllah Jaan Baraq March 23, 2018
[email protected]

آپ کو تو ہم کئی بار بتا چکے ہیں کہ آج کل ہم ''تقریبات'' سے یوں بھاگتے ہیں جسے گھوڑا اونٹ کی بوسے، سانپ انسانی اینٹ اور چوہا بلی سے بھاگتا ہے لیکن پھر بھی کوئی نہ کوئی موقع ایسا آجاتا کہ پکڑائی دینا پڑ جاتی ہے۔چنانچہ اس مرتبہ نوشہرہ کی انتظامیہ نے ''جشن خوشحال خان خٹک'' کے سلسلے میں جن تقریبات کا اہتمام کیا تھا ان میں دو دن تک ہم نے مسلسل اورمکمل حاضری دی بلکہ ہم خود بھی حیران کہ ایسا کیوں ہوا کہ ہم نے پکڑائی دینے میں پس و پیش کی نہ آدھے میں بھاگنے کا خیال آیا اور نہ ہی تقریب کے دوران اپنے اوپر مصنوعی نیند طاری کی، یہ بڑے تعجب اور فکر مندی کی بات تھی۔

کسی نہ کسی حد تک بعض ڈپٹی کمشنروں کو دیکھا ہے کہ جو عوام کی طرف سے ہونے والی ادبی و ثقافتی سرگرمیوں میں ایک خاص حد تک دلچسپی اور تعاون کا مظاہرہ کردیتے ہیں وہ بھی کچھ لوگوں کا تنظیموں کے بے پناہ اصرار پر۔لیکن یہاں تو متعلقہ ادبی و ثقافتی تنظیموں اور شخصیات کو تو پتہ بھی نہیں چلا کہ ضلع میں ادبی و ثقافتی سرگرمیوں کو انتظامیہ نے اپنا کام سمجھ کر ہاتھوں میں لے لیا ہے بلکہ اب تک کی تاریخ اور روایات میں ایسی کوئی بھی مثال نہیں ملتی۔ مسلسل ایک زمانے سے یہ سمجھا جاتا رہا ہے کہ انتظامیہ کا ایسے کاموں سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا۔

اس سلسلے کا پہلا قدم اس وقت سامنے آیا کہ اس سے مہینہ بھر پہلے ایک بہت بڑا پروگرام مکمل کیا گیا جس میں ضلع نوشہرہ کے تمام اسکولوں کے طلباء کے تقریری، تصویری اور تعلیمی مقابلے ہوئے اور پھر ایک مجموعی پروگرام میں ایوارڈز اور انعامات کی تقسیم ہوئی اور اس پروگرام میں ادبی و ثقافتی رنگ خاصا تیز تھا۔ نامور اسکالروں، دانشوروں اور ادیبوں نے ضلع نوشہرہ کی تاریخ ادب و ثقافت اور نامور شخصیات پر روشنی ڈالی۔

اس کے بعد یہ جشن خوشحال خان خٹک تو مثالی تھا کہ اس میں پورے ضلعے کا ثقافتی رنگ بھی تھا اور خوشحال خان خٹک کی شخصیت پر ہر ہر پہلو پر روشنی بھی ڈالی گئی تھی۔ جش میں مشہور خوشحال شناس اقبال نسیم خٹک، یار محمد مضموم خٹک، پروفیسر ہمایون ہمدرد، ڈاکٹر اباسین یوسف زئی اور بہت سارے اسکالروں نے مقالے پیش کیے۔

معروف فنکاروں نے خوشحال خٹک کا کلام موسیقی سے گایا، کتابوں کی رونمائیاں بھی ہوئی ابتدا پہلے دن خوشحال خان خٹک کے مزار پر پھولوں کی چادر ڈالنے سے ہوئی اور اختتام ایک دلچسپ مشاعرے پر ہوا۔ بیٹھے بیٹھے ہم دیکھ رہے تھے کہ ڈپٹی کمشنر نوشہرہ خود بھی اور ان کا تشکیل دی ہوئی رضا کار فورس بھی مسلسل حرکت میں تھی کہ کہیں کوئی رکاوٹ یا مسٔلہ یا بے انتظامی نہ ہونے پائے۔

دوسرے دن وزیر اعلیٰ جناب پرویز خٹک نے بھی اپنی بے پناہ مصروفیات کے باوجود حاضری دی، کچھ ایوارڈ تقسیم کیے اور اختتامی خطاب کیا جس کا لب لباب یہ تھا کہ ہمارے پاس کیا کچھ نہیں ہے قابل فخر ماضی بہترین تاریخ شخصیات اور راہنما بہت ہیں زمین زرخیز ہے کسی چیز کی کوئی کمی نہیں ہے لیکن پھر بھی اگر ہم محروم اور ساری دنیا سے پیچھے ہیں تو اس کی وجہ صرف اور صرف ''دیانت'' اور خلوص کی کمی اپنے بزرگوں اور رہنماؤں کے نظریات و تعصیمات سے روگردانی ہے۔

ہم نے ابتدا میں باوجود تقریبات سے توبہ کرنے اپنی شرکت پر تعجب کا جو اظہار کیا تھا اس کی وجہ آخر میں یہ نکلی کہ آخر یہ کتنی بے غیرتی اور بے حمیتی ہوگی کہ ایک شخص جو اس ضلعے اور علاقے کی زبان سے بھی واقف نہیں ہے وہ آکر انتہائی تکالیف جفاکشی اور ہمت و جوش کے ساتھ ہمارے ضلعے کو جگاتا ہے حالانکہ اگر وہ ایسا کچھ بھی نہ کرے تو بھی ٹھیک ہے آرام سے اپنے سرکاری فرائض ادا کرکے دوسرے بہت سارے افسروں کی طرح وقت بتا سکتا ہے لیکن وہ خوا مخواہ۔

اب آخر میں نوشہرہ ضلعے کے بارے میں بھی کچھ معلومات عرض کرنا ضروری بھی ہے اور سبق آموز بھی۔نوشہرہ ضلع واحد ضلع ہے جس میں ہر سطح کے بہت بڑے بڑے مشاہیر پید ا ہوئے ہیں خوشحال خان خٹک کے گھرانے کے علاوہ اس میں پشتو کا پہلا صاحب دیوان شاعر خوشحال خان سے بہت پہلے ''ملا ارزانی'' خویشکی بھی پیدا ہوئے تھے زیارت کاکا صاحب کا گھرانہ تو علم و ادب کی ایک کان ہے کاکا جب ان کے والد محترم بہادر بابا اور پھر ان کے والد مست بابا اور پھر ان کے والد غالب گل بابا اس ضلع کے روحانی شان ہیں شعرا اور ادبا میں اجمل خٹک، سمندر خان سمندر، سید رسول رسا اور پشتو صحافت کے بانی راحت زاخیلی بسید سرحد عبد اللہ استاد اور دور جدید میں تو حساب ہی نہیں ہے سیاسی لیڈروں میں نصر اللہ خٹک نصیر اللہ بابر، پرویز خٹک قاضی حسین احمد، سرتاج عزیز، فرحت اللہ بابر اور نہ جانے کتنے نامور ہوئے۔

فن کی دنیا میں سب سے پہلے نام گل حمید کا آتا ہے جو ہندی سینما اور اسکرین کا ایک ناقابل فراموش نام ہے۔ دور جدید میں آصف خان اس کا بیٹا ارباز خان ، بابا خان جمیل بابر، جاوید بابر، لیاقت میجر وغیرہ قابل ذکر ہیں اور بھی بہت سارے بڑے بڑے نام مختلف زمروں میں شامل ہیں۔ لیکن یہ ذکر ادھورارہے گا اگر ہم اس کی ''وجہ'' نہ بتائیں اس کی وجہ یہ ہے کہ نوشہرہ میں کاشتی زمین بہت کم بلکہ نہ ہونے کے برابر ہے۔

آدھی زمین پر پہاڑوں نے قبضہ کر رکھا ہے اور باقی آدھی کی آدھی سے زیادہ زمین '' سیم و تھور'' نے بیکار کی ہوئی ہے کیونکہ وادیٔ پشاور کا سب سے نشیبی علاقہ ہونے کا فخر بھی اسے حاصل ہے ان تمام وجوہات کی وجہ سے یہاں پر زمین جائیداد یا خان خوانین کا کوئی وجود نہیں ہے اور روزی کا حصول بہت ہی مشکل ہوتا ہے لیکن اس محرومی کا فائدہ یہ ہوا ہے کہ یہاں کے باشندے اپنا بوجھ خود اٹھانے کی عادی ہو چکے ہیں اور ظاہر ہے کہ محنت کرنے والوں کو اس کا پھل مل ہی جاتا ہے کیونکہ محرومی بے بسی کمزوری انتہا کو پہنچ کر ایک قوت بن جاتی ہے جس کے پیچھے کچھ بھی نہ ہو وہ آگے ہی آگے بڑھتا جاتا ہے۔