مسلم ملکوں کا اجتماعی المیہ
تھوڑے کوبہت جانیے اور اپنے کردار پرغور فرمائیے،دماغ میں چکاچوند ہونے لگے گی اور اس میں ہمارا ہی چہرہ سامنے ہوگا۔
دنیا میں مسلم ملکوں کی تعداد 57 ہے، دنیا میں مسلمانوں کی تعداد ڈیڑھ ارب کے لگ بھگ ہے، مسلم ملک قدرتی وسائل سے مالا مال ہیں، افرادی قوت کے حوالے سے بھی مسلم ملک تہی دست نہیں ہیں، پاکستان کا شمار ایٹمی ملکوں میں ہوتا ہے، مشرق وسطیٰ دنیا کو تیل سپلائی کرنے والا سب سے بڑا علاقہ ہے، یہ مسلم ملکوں کے پلس پوائنٹ ہیں۔ مسلم ملکوں میں ایک بھی بڑا صنعتی ملک نہیں ،کسی میں ایسے اسلحہ سازی کے کارخانے موجود نہیںجو اسے خودکفیل بناسکیں۔ مسلم ملکوں میں مغرب کے تعلیمی اداروں کے معیار کا ایک بھی تعلیمی ادارہ موجود نہیں، مسلم ملکوں میں ایک بھی معیاری تحقیقی ادارہ موجود نہیں۔
مسلم ملکوں کے تعلیمی اداروں کے معیار کا عالم یہ ہے کہ دنیا مسلم ملکوں کے تعلیمی اداروں کی ڈگریاں تسلیم نہیں کرتی۔ مغربی دنیا میں ایسی کائناتی دوربینیں ایجاد ہورہی ہیں جو ہمارے نظام شمسی سے پرے نظاموں تک رسائی رکھتی ہیں ہماری دوربین کا استعمال سال میں چار بار رویت ہلال کے دیدار تک محدود ہے ہمارے مولوی حضرات حبیب بینک کی بلڈنگ پر کھڑے ہوکر مغربی افق پر چاند تلاش کرتے ہیں اور تین تین عیدیں کرتے ہیں۔ خودکش بمبار، بارودی گاڑیاں، سیمنٹ بلاک، ٹارگٹ کلنگ ہماری ایجاد ہیں، ہمارے ملک میں ساٹھ ہزار دینی مدارس ہیں جن میں انتہا پسند تیار ہوتے ہیں۔
ہمارے پاس بہت کم تعداد میں ڈاکٹر انجینئر سائنسدان وغیرہ ہیں جو جان کے خوف سے دوسرے ملکوں کو بھاگ رہے ہیں بیشتر مسلم ملکوں میں یا تو آمرانہ حکومتیں قائم ہیں یا بادشاہتیں یا قبائلی شیوخ برسراقتدار ہیں۔ پاکستان میں دو سو کے لگ بھگ سیاسی جماعتیں موجود ہیں، لیکن جمہوریت نہیں۔ ہمارے پڑوسی ملک میں 65 سال سے تسلسل کے ساتھ انتخابات ہورہے ہیں اور سول حکومتیں ہی نئی منتخب حکومتوں کو اقتدار منتقل کرتی آرہی ہیں۔ ہمارا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ 65 سال میں پہلی بار ایک سول حکومت نے اپنے پانچ سال پورے کیے ہیں پاکستان مسلم ملکوں کا دارالامان اور اسلام کا قلعہ ہے اس دارالامان اور اسلام کے قلعے میں ہر روز پچاسوں بے گناہ دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ میں مارے جارہے ہیں۔
فوجی چوکیوں، فوجی اداروں، مہران بیس، کامرہ بیس، پشاور ایئرپورٹ، جی ایچ کیو پر تباہ کن حملے ہوچکے ہیں۔ ہمارے تھانے، ہماری پولیس، ہماری رینجرز خود غیر محفوظ ہیں۔ ہمارے ملک میں گریڈ 7 سے گریڈ 22 تک کی ملازمتیں فروخت ہورہی ہیں گریڈ 7 کی قیمت 5 لاکھ ہے۔ میٹرک سے لے کر ماسٹر تک A اور O لیول کے نمبر بک رہے ہیں ایک پرچے میں اے اور او لیول کے نمبر 50 ہزار میں حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ آج مسلم ملکوں کا سب سے بڑا مسئلہ شیعہ سنی کا مسئلہ ہے۔ عراق سے پاکستان تک ہر روز سب سے زیادہ ہلاکتیں اسی مسئلے کی وجہ سے ہورہی ہیں اور مسلم دنیا کی سب سے بڑی تقسیم فقہی تقسیم ہے۔
میں نے مسلم دنیا اور اسلام کے قلعے کے مثبت اور منفی پہلوؤں کا مختصر جائزہ بغض معاویہ میں نہیں بلکہ حب علی میں لیا ہے کہ شاید ہمارے مسلم حکمران مسلم دانشور مسلم مفکر مسلم فلسفی اپنی اس حالت زار کا جائزہ لے کر اپنی خامیوں، اپنی کمزوریوں، اپنی کوتاہیوں، اپنی عیاشیوں سے باہر نکلیں اور نشاۃ ثانیہ کے رنگین خواب سے نکل کر دنیا کی ترقی یافتہ قوموں کی صف میں شامل ہونے کی منصوبہ بندی کریں۔ اس حوالے سے ہمارے راستے کی سب سے بڑی دیوار ہماری فکری پسماندگی ہے۔
ہمارا مذہب دنیا کے دوسرے مذاہب کے مقابلے میں زیادہ منطقی ہے لیکن ہم نہ جانے کیوں اپنے مذہب کے بارے میں اس حد تک احساس کمتری میں مبتلا ہیں کہ ہمارے علمائے کرام کو ہر وقت اسلام خطرے میں نظر آتا ہے۔ یہ خطرہ اسلام کو نہیں بلکہ پچاس ٹکڑوں میں بٹی اس مذہبی قیادت کو ہے جو اپنی چودھراہٹ کے تحفظ کے لیے اسلام خطرے میں ہے کے نعرے لگا کر مسلمانوں کی ساری توجہ اپنی طرف مبذول کرالیتی ہے۔
ہم بڑے فخر سے پاکستان کو اسلام کا قلعہ کہتے ہیں لیکن اپنے اس گریبان میں جھانکنے کی کوشش نہیں کرتے جو ان منفی لوازمات سے بھرا ہوا ہے جن کا مختصر جائزہ ہم نے اوپر پیش کیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جب احساس برتری شدت کو پہنچ جاتا ہے تو احساس کمتری میں بدل جاتا ہے کیا ہم کسی ایسے ہی احساس میں تو مبتلا نہیں ہیں؟ ہم نے اس بات کی نشاندہی کردی ہے کہ ہماری خرابیوں، ہماری کوتاہیوں کا اصل مرکز ہماری فکری پسماندگی ہمارا تخلیقی بانجھ پن ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم بحیثیت مجموعی اپنے پسماندہ فکری حصار سے باہر آنے کے لیے تیار نہیں۔
مسئلہ یہیں تک محدود نہیں بلکہ مسئلہ یہ بنا ہوا ہے کہ ہم فکر نو کے سامنے ڈنڈے، چھری، چاقو لے کر کھڑے ہوئے ہیں اور کسی ایسی فکر نو کو راستہ دینے کے لیے تیار نہیں جو ہماری فکری پسماندگی سے متصادم ہو، ہمارے ناخواندہ اور سیاسی شعور سے بیگانہ عوام کی فکری بلندی کا عالم یہ ہے کہ 1970 سے 2008 تک وہ فکری پسماندگی کو رد کرتے آرہے ہیں اور کسی نہ کسی نسبتاً روشن خیال قیادت کو اپنا ووٹ اپنی حمایت فراہم کر رہے ہیں۔ یہ عوام کا کردار ہے لیکن ہماری صنعتی اور مغربی ماحول میں پلی بڑھی قیادت کا عالم یہ ہے کہ وہ انتخابی دنگل میں فکری پسماندگی کا قدم قدم پر اس طرح اظہار کرتی ہے کہ ہمارے فکری پسماندگی کو مسترد کرنے والے عوام ذہنی انتشار کا شکار ہوجاتے ہیں۔
ہمارے فکری تضادات، ہمارے سیاسی مفادات کو ملاحظہ کرنا ہو تو ذرا ہمارے انتخابی اتحادوں، ہماری پارٹی بدلیوں، ہماری سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر نظر ڈالیں، کس کس کے سیاسی کارندے کہاں کہاں مل رہے ہیں ان پر نظر ڈالیں۔ ہمارے ایک دوسرے پر عدم اعتماد کی حالت ملاحظہ فرمائیں وہ سیاسی جماعتیں، وہ سیاسی رہنما جو ایک سول حکومت کو پہلی بار اپنی مدت پوری کرنے پر فخر سے پھولے نہیں سما رہے ہیں وہ نہ کسی نگراں وزیر اعلیٰ پر متفق نظر آتے ہیں نہ ان کی اجتماعی دانش اور ایمانداری انھیں اجازت دیتی ہے کہ وہ دو دو مواقعے ملنے کے باوجود کسی نگراں وزیر اعظم کے انتخاب پر متفق ہوں۔
جب ان کی نااہلی اور بے اعتمادی کے بعد الیکشن کمیشن نے نگراں وزیر اعظم منتخب کرنے کی کوشش کی تو یہاں بھی بالواسطہ درپردہ اثرانداز ہونے کی کوشش کرتے رہے اور جب مجبوراً الیکشن کمیشن نے نگراں وزیر اعظم کا انتخاب کرلیا تو اس پر بھی انگلیاں اٹھانی شروع کردیں۔ کوئی الیکشن کمیشن کو غیر آئینی کہہ رہا ہے تو کوئی گورنروں پر معترض ہے۔
اس قومی پیش منظر کے بعد آئیے اب ذرا ہم ''عالم اسلام'' پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔ سامراجی طاقتیں ہمیشہ سے مسلم ملکوں کی ترقی اور خوشحالی کی دشمن رہی ہیں۔ انھیں اندازہ ہے کہ مسلم ملک جن قدرتی وسائل اور افرادی قوت سے مالا مال ہیں اگر ان کا درست اور مثبت استعمال ہو تو بلاشبہ وہ مغرب کے ترقی یافتہ ملکوں سے آگے نکل سکتے ہیں اسی ممکنہ خطرے کا سدباب کرنے کے لیے انھوں نے ہمیشہ مذہبی انتہا پسند طاقتوں کی بھرپور مالی مدد کی۔
روس کو افغانستان سے نکالنا ان کی سیاسی اور اقتصادی ضرورت تھی، لیکن انھوں نے اس سیاسی مقصد کے حصول کے لیے اپنی فوجیں افغانستان نہیں بھیجیں بلکہ احمق زمانہ مرد حق ضیاء الحق کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جب مجاہدین کی مدد سے روس کو افغانستان سے نکالنے میں کامیابی حاصل کرلی تو افغانستان کو اپنی آگ میں جلتا چھوڑ کر چلے گئے۔ جب یہ آسیب خطرہ بنا تو پھر خود افغانستان پر چڑھ دوڑے۔ عراق پر صدام کی حکومت کے دوران شیعہ سنی کا مسئلہ سر نہیں اٹھاپایا جب امریکا عراق میں وارد ہوا تو حیرت انگیز طور پر عراق میں شعیہ سنی جنگ کے شعلے بھڑکنے لگے اور ان شعلوں کو ہوا دے کر مسلم ملکوں کو تقسیم کردیا گیا۔
اب یہ شعلے عالم اسلام کو اپنی لپیٹ میں لے رہے ہیں اس تقسیم کا مقصد مسلم ملکوں کو آپس میں لڑا کر ان کی توجہ جدید علوم سائنس ٹیکنالوجی صنعتی ترقی سے ہٹانا اور انھیں اپنے قدرتی وسائل کے استعمال سے محروم رکھنا ہے۔ ایران اس وقت امریکا کی نظر میں سب سے بڑا کانٹا ہے اس کے گرد گھیرا ڈالنے کے لیے شیعہ سنی کا مسئلہ کھڑا کیا گیا ہے۔ اس مسئلے کو کون ہوا دے رہے ہیں کون سے مسلم ملک درہم و دینار لٹا رہے ہیں یہ سب جانتے ہیں۔ سازش امریکا کی، عملدرآمد ہم کر رہے ہیں۔ بات بڑی طویل ہے کالم میں نہیں سموئی جاسکتی، اس تھوڑے کو بہت جانیے اور اپنے کردار پر غور فرمائیے، دماغ میں چکاچوند ہونے لگے گی اور اس چکا چوند میں ہمارا ہی مجرمانہ چہرہ ہمارے سامنے ہوگا۔