خریف کے موسم میں پانی کی شدید کمی کا خطرہ

ٹیکنیکل کمیٹی پانی کی قلت کی ایک خوفناک صورت حال کی عکاسی کر رہی ہے۔


Editorial March 25, 2018
ٹیکنیکل کمیٹی پانی کی قلت کی ایک خوفناک صورت حال کی عکاسی کر رہی ہے۔ فوٹو:فائل

جیسے جیسے فصل خریف( چاول، مکئی، سرسوں اورکپاس وغیرہ )کا موسم نزدیک آ رہا ہے، یہ موسم جولائی سے اکتوبر تک ہوتا ہے، اسے مون سون کی فصلوں کی کاشت کا موسم بھی کہا جاتا ہے، بکرمی سال کے مطابق یہ موسم ہاڑ سے لے کر کاتک ، مگھر تک ہوتا ہے۔

ٹیکنیکل کمیٹی پانی کی قلت کی ایک خوفناک صورت حال کی عکاسی کر رہی ہے۔ اس موسم کے لیے فصل کی کاشت کی خاطر 107 ایم ایف (ملین ایکڑ فٹ) پانی درکار ہے جب کہ قابل حصول پانی کی مقدار بمشکل 95 ایم اے ایف بتائی گئی ہے جو مطلوبہ مقدار سے بہت کم ہے۔ پانی کی اتنی زیادہ کمی سے فصل کا بہت بڑا نقصان ہو سکتا ہے بالخصوص کپاس کی فصل میں جو خریف کی سب سے اہم فصل ہے۔

پانی کی تمام تر کمی صرف دریائے جہلم کے پانی سے پوری کرنے کی کوشش کی جائے گی جو بہت مشکل ہے کیونکہ دریائے جہلم کے بہاؤ میں اتنی زیادہ کمی واقع ہو چکی ہے جو گزشتہ 42 سال میں سب سے زیادہ کمی ہے۔ ٹیکنیکل کمیٹی کی رائے ہے کہ پانی کی یہ کمی سندھ طاس معاہدے سے پوری کرنے کی کوشش کی جائے لیکن یہ بھی اس صورت میں ممکن ہو سکے گا جب تمام دریاؤں کا بہاؤ معمول کے مطابق ہو۔

لیکن دوسری طرف بھارت کی طرف سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی میں پاکستان کی طرف بہنے والے دریاؤں پر مسلسل بند اور ڈیم بنائے جا رہے ہیں جن سے پاکستان کا پانی کمی کا شکار ہو رہا ہے۔ جب کہ بھارتی حکمران جماعت بی جے پی کی قیادت کھلے عام کہہ رہی ہے کہ پاکستانی دریاؤں کا پانی جس قدر ممکن ہو روک لیا جائے کیونکہ مودی حکومت اپنی تقاریر میں پاکستان کو صحراء میں تبدیل کرنے کی دھمکیاں برملا دے چکی ہے۔

دریں اثنا محکمہ موسمیات نے موسم گرما کے جلد حدت اختیار کرنے کا انتباہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی موسم گرما میں دریائی پانی کے بہاؤ میں بھی کمی واقع ہو جائے گی۔ اس کی وجہ موسم سرما میں برفباری میں کمی کو بتایا گیا ہے۔ اس وجہ سے دریا کے بہاؤ میں کمی ہو گی۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ ہمیں خریف کے موسم میں پانی کا استعمال انتہائی سوچ بچار کے ساتھ کرنا ہو گا اور پانی کے ضیاع کے بارے میں سوچنا بھی نہیں ہو گا۔

دریائی پانی میں کمی کا کچھ مقابلہ بارشوں کے موسم میں بارشوں کے پانی کو ضائع ہونے کے بجائے اسے خشک سالی کے لیے بچانے کی تدبیریں بروئے کار لانے سے ہو سکتا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں زیرزمین میٹھے پانی کے ذخائر کابھی بڑی بے دردی سے استعمال ہو رہا ہے۔ اس پانی کے ضیاع کو روکنے کے لیے خاطرخواہ اقدامات نہیں کیے جا رہے۔ پاکستان کے بڑے شہروں میں پانی کے ذخائر مسلسل کم ہو رہے ہیں۔

کراچی میں پانی کی قلت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ دارالحکومت اسلام آباد اور راولپنڈی میں بھی پانی کی قلت موجود ہے۔ اب لاہور میں بھی زیرزمین میٹھے پانی کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔ پانی جیسی انمول نعمت کے تحفظ کے لیے ہنگامی بنیادوں پر پالیسی تشکیل دی جانی چاہیے۔