پی ایس ایل فائنل دنیا کو امن کا پیغام

پی ایس ایل فائنل کے ذریعہ کھیل کی سحر انگیزی نے پاکستانیت کی شناخت دوبالا کی۔


Editorial March 27, 2018
پی ایس ایل فائنل کے ذریعہ کھیل کی سحر انگیزی نے پاکستانیت کی شناخت دوبالا کی۔ فوٹو: اے ایف پی

پی ایس ایل فائنل میں اسلام آباد یونائیٹڈ نے دفاعی چیمپئن پشاور زلمی کو دلچسپ اور سنسنی خیز مقابلے کے بعد 3 وکٹوں سے شکست دے کر دوسری بار پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کا ٹائٹل جیت لیا۔اس جیت کو پاکستان کرکٹ کی جیت سے منسوب کرنا صائب ہوگا۔

یہ محض ایک کرکٹ میچ کا فائنل نہ تھا بلکہ اس میں پاکستان کی جانب سے دنیا کو امن کا پیغام ملا اور ثابت بھی ہوا کہ کسی بھی شعبے میں کوئی پاکستان کے قومی جذبے کو نہیں ہرا سکتا۔ پشاور زلمی کے کھلاڑیوں نے مقابلہ بھی خوب کیا مگر اسلام آباد یونائیٹڈ نے جنگ جیت لی، وہ فیورٹ بھی بتائی جارہی تھی، اس تناظر میں قومی خوشیوں کا دل افروز گلشن اتوار اور پیر کی شب کراچی میں جس شاندار طریقے سے سجایا گیا اس کے پیش نظر یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ کھیلوں کا منظم اور سیکیورٹی کے موثر میکنزم کے ساتھ انعقاد بھی گیم چینجر ثابت ہوا ہے۔

اس گیم چینجر فائنل میں اہالیان کراچی کا ولولہ اور جوش وخروش دیدنی تھا جس میں پرامن منی پاکستان کی وہ جھلک بھی نظر آئی جس کا ذکر وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اپنے تاثرات میں کیا، ان کا کہنا تھا کہ کراچی کی رونقیں بحال ہونے پر دلی خوشی محسوس ہورہی ہے۔ صدر، وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب سمیت دیگر حکام نے اسلام آباد یونائیٹڈ کو جیت پر مبارکباد دی، وزیراعظم نے پشاور زلمی کے اچھے کھیل کو بھی سراہا۔

صدر ممنون حسین نے اپنے ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ پی ایس ایل کی کامیابی پوری قوم کی کامیابی ہے، انھوں نے پاکستانی قوم کو بھی مبارکباد دی، صدر نے پی ایس ایل کے پرامن انعقاد پر پاک فوج، پولیس اور دیگر اداروں کی تعریف کی اور سندھ حکومت کے بہترین انتظامات کو سراہا۔ فائنل کے دن شہر قائد میں شدید گرمی رہی مگر کرکٹ شائقین اسلام آباد یونائٹڈ اور پشاور زلمی کا فائنل میچ دیکھنے نیشنل اسٹیدیم امڈ آئے، عوام نے بھرپور طریقے سے کھیل کو انجوائے کیا، غیر ملکی کھلاڑی بھی خوشگوار یادیں لے کر اپنے وطن روانہ ہوں گے۔

جیل میں قیدیوں کو میچ دکھانے کے لیے بڑی اسکرین لگائی گئی۔ میچ کی صورتحال اور نتائج کے لحاظ سے مسرور شائقین کا ردعمل توقع سے بھی بڑھ کر سامنے آیا۔ لیوک رونکی شاندار بیٹنگ پر مین آف دی میچ قرار پائے، پشاور زلمی کے دیے گئے 148 رنز کے ہدف میں 16 ویں اوور کی پانچویں گیند پر فہیم اشرف نے چھکا مار کر میچ جتوایا، 15 ویں اوور میں آصف علی نے حسن علی کو لگاتار 3 چھکے مار کر میچ ون سائیڈڈ بنا دیا تھا، اسلام آباد یونائیٹڈ نے مطلوبہ ہدف 7 وکٹ کے نقصان پر 17ویں اوور میں حاصل کیا، کئی کھلاڑیوں نے بہترین کھیل پیش کیا۔

نوجوان ٹیلنٹ کا ایک یادگار منظرنامہ نیشنل اسٹیڈیم کی رونقیں بڑھا گیا، جب کہ اختتامی تقریب میں ملک کے معروف فنکاروں نے اپنی آواز کا جادو جگایا اور اپنی پرفارمنس سے حاضرین کو محظوظ کیا، تقریب کے دوران پشاور زلمی کے کپتان ڈیرین سیمی اور حسن علی نے اسٹیج پر رقص بھی کیا۔ تقریب کے دوران دونوں ٹیموں کے کپتان بھی اسٹیج پر آئے، اسلام آباد یونائیٹڈ کے موجودہ کپتان جے پی ڈومینی نے سیکیورٹی انتظامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا پاکستان میں بہت پیار مل رہا ہے اور وہ فائنل کے لیے بہت پرجوش ہیں۔

پشاور زلمی کے کپتان ڈیرن سیمی نے ''پاکستان زندہ باد'' کا نعرہ بھی لگایا۔ پشاور زلمی کے ڈینجر مین کامران اکمل پر قسمت فائنل کے دن مہربان نہ رہی، یہ بات دلچسپی کی حامل ہے کہ ایک نجومی پہلے ہی پیشگوئی کرچکے تھے کہ کامران اکمل کا جادو نہیں چلے گا، وہ صرف ایک رن بنا سکے اور ایک کیچ بھی چھوڑ دیا، تاہم اس سے قبل کامران اکمل نے اپنے کھیل اور چوکوں چھکوں سے شائقین کے دل موہ لیے تھے، زلمی کو ان سے بڑی امید تھی اسی طرح مصباح الحق نے بھی اس حقیقت کو اجاگر کیا کہ کھلاڑی بھی فنکار اور تخلیق کار کی طرح کبھی بوڑھا نہیں ہوتا۔ پی ایس ایل کی فاتح اسلام آباد یونائیٹڈ کے اونر علی نقوی نے کہا کہ آیندہ سال پی ایس ایل ٹائٹل جیت کر ہیٹ ٹرک کریں گے۔

تقریب کے دوران بات کرتے ہوئے پی سی بی کے چیئرمین نجم سیٹھی نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں اور سیکیورٹی فورسز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آج تاریخی دن ہے، کراچی میں 9 سال بعد کرکٹ واپس آرہی ہے۔ وزیر داخلہ سندھ، رینجرز اور آئی جی سندھ کی جانب سے پی ایس ایل تھری فائنل کے انعقاد پر انتہائی فول پروف سیکیورٹی کے اقدامات اور عوام کے تعاون پر مبارکباد پیش کی ہے۔

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے غیر ملکی سیکیورٹی کنسلٹنٹ رگ ڈوکسن بھی پی ایس ایل کا فائنل دیکھنے نیشنل اسٹیڈیم پر موجود تھے، ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی مسرت آمیز ہے، جب کہ ویسٹ انڈیز کی آمد پر بھی سیکیورٹی کے مربوط اقدامات کیے جائیں گے۔ اسٹیڈیم کا رخ کرنے والے شہریوں کا کہنا تھا کہ نو سال بعد کرکٹ کی بحالی کے بعد اب یقین ہوگیا ہے کہ کرکٹ کی رونقیں مستقل رہیں گی، سندھ حکومت نے شٹل سروس کی کامیابی کے لیے پنجاب سے بھی بسیں منگوائیں۔

بلاشبہ پی ایس ایل فائنل کے ذریعہ کھیل کی سحر انگیزی نے پاکستانیت کی شناخت دوبالا کی، کھلاڑیوں نے بحیثیت سفیر اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔ پی ایس ایل نے موتیوں کی وہ بین الاقوامی اور قومی لڑی پیش کی جس میں کرکٹرز نے رنگ، نسل، عقیدہ، زبان اور ہر قسم کے تعصبات سے بالاتر ہوکر پاکستان کی دھرتی سے دنیا کو امن اور خیر سگالی کا پیغام دیا اور منتظمین، حکومت سندھ اور سیکیورٹی اداروں نے مل کر اس ایونٹ کو یادگار بنادیا۔