کراچی کی نشاۃ ثانیہ… وقت کا تقاضہ

حقیقت یہ ہے کہ کراچی کی مقامی حکومت اور بلدیاتی ادارے بااختیار ہونے چاہئیں


Editorial March 28, 2018
حقیقت یہ ہے کہ کراچی کی مقامی حکومت اور بلدیاتی ادارے بااختیار ہونے چاہئیں، فوٹو: فائل

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے متحدہ قومی موومنٹ کی کنوینر شپ سے متعلق خالد مقبول صدیقی اور کنورنوید جمیل کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق ستار کو ایم کیو ایم پاکستان کی کنوینرشپ سے ہٹادیا۔

بادی النظر میں یہ متحدہ قومی موومنٹ کی داخلی ہئیت ترکیبی، قیادت کے فشار،کراچی میں اس کی غیر معمولی سیاسی فعالیت، طرز سیاست اور الطاف حسین کی قیادت میں سندھ اور کراچی کی سماجی، سیاسی اور لسانی کشمکش کا شاخسانہ ہے جو کئی سیاسی حوالوں سے لائق توجہ اور فوری حل طلب ہونے کا متقاضی بھی، تاہم شہر کے فہمیدہ حلقوں اور اردو بولنے والوں کی غالب اکثریت کا انداز نظر اس نکتہ پر مرکوز ہے کہ تنظیمی قیادت، سیاسی حکمت عملی اور آیندہ کے لائحہ عمل کی بنیاد بلا تاخیر عملیت پسندی پر استوار ہو جو متحدہ قومی موومنٹ کی اصل سیاسی اور سماجی و معاشی جدوجہد کا بنیادی پتھر تھا۔اب بلاشبہ وہ حالات نہیں رہے۔

تین عشروں پر محیط سیاسی کشیدگی، حوادث اور سیاسی و تاریخی عوامل کی سنگین جدلیاتی ضربوں سے کراچی کی جو حالت ہوئی ہے اس کو دیکھتے ہوئے وقت کی اولین تلقین یہی ہوگی کہ کراچی و سندھ کی سیاست میں فطری ٹھہراؤ کی کوئی حقیقت پسندانہ راہ نکالی جائے اور ہوشمندی سے کام لیا جائے جب کہ اس صائب فرق پر نظر رکھی جائے جو ماضی کے سخت گیر سیاسی رویوں کے برعکس آج کی آزادنہ جمہوری فضا کے باعث حاصل اسپیس اور گنجائش سے استفادہ کے آپشن کی شکل میں موجود ہے، ایم کیوایم کے تمام سرکردہ رہنما کراچی سے جڑے ملکی سیاسی ماحول کو پیش نظر رکھیں اور سندھ حکومت کو بھی اعتدال پسندی کے ساتھ ایم کیو ایم کے بحران کے تنظیمی اور سیاسی حل کے لیے جتنی جلد ہوسکے اسے مکمل جمہوری سپورٹ دینی چاہیے، اسی میں کراچی اور ملک کا مفاد ہے۔

اس وقت پانسہ پلٹنے اور سبقت حاصل کرنے سے زیادہ اہم چیز باہمی اختلافات ختم کر کے سیاسی اتفاق رائے سے کراچی کی تعمیر نو کی ہے، ایک شکستہ، موئن جودڑو اور معاشی ، سیاسی اور سماجی انحطاط سے دوچارکراچی کسی سیاسی مہم جوئی، محاذ آرائی، ٹکراؤ اور تنظیمی شکست و ریخت کا متحمل نہیں ہوسکتا، کوشش یہ ہو کہ پیدا شدہ صورتحال میں متحدہ کے رہنما اورمنقسم کارکن عدالتوں سے رجوع کرنے پر مائل نہ ہوں، توجہ داخلی اتحاد پر دیں، ملکی سیاست پر صورتحال کے اثرات ومضمرات کی دھمک اور زیر زمین گڑگڑاہٹ صاف سنائی دیتی ہے جب کہ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ جب تک ایم کیوایم کے تمام دھڑے اس تقسیم در تقسیم کے عمل کے دوررس فال آؤٹ کا کوئی ٹھوس جمہوری حل تلاش نہیں کرلیتے اس کے ناقابل یقین نقصانات سے کراچی اور سندھ کی دیہی و شہری سیاسی فضا کبھی سنبھل نہیں سکے گی ۔

ایم کیو ایم کو درپیش بحران صرف کراچی تک محدود نہیں اس کے شرارے ملک گیر ہیں، یہ ملکی اقتصادیات ، ریونیو، تجارتی سرگرمیوں ، تعمیر و سلامتی اور قومی یکجہتی کا نیوکلیئس ہے اورخوشحالی کا استعارہ بھی۔کراچی پاکستان کا معاشی انجن ہے، شہر قائد آج ماضی کی سیاسی تشدد پسندی سے الگ ہوکر اپنی بقا کی اعصاب شکن جنگ لڑنے پر مجبور ہے لہٰذا اس مجبوری کو متحدہ کے تمام دھڑے مل کر اپنی اجتماعی جمہوری طاقت بنائیں، تقسیم کی وجہ سے اختلافات یا قیادت کے مسئلہ پر آمنے سامنے بیٹھ کر اتفاق رائے سے کسی ٹھوس نتیجہ پر پہنچیں۔

متحدہ قومی موومنٹ سے الگ تمام اکائیوں کو اب سوچنا چاہیے کہ الیکشن کمیشن نے فاروق ستار کی جانب سے کرائے جانے والے انٹراپارٹی انتخابات بھی کالعدم قرار دے دیے، پیر کو چیف الیکشن کمشنر جسٹس سردار رضا کی سربراہی میں 5 رکنی کمیشن نے ایم کیو ایم پاکستان بہادر آباد گروپ کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق ستار کی کنوینرشپ سے متعلق محفوظ کیا گیا مختصر فیصلہ سنادیا۔

ایک بیان میں رابطہ کمیٹی نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ اصولوں کی فتح ہے ، تاہم رابطہ کمیٹی نے ڈاکٹر فاروق ستار کو ایک بار پھر دعوت دی کہ وہ آئیں اور مل بیٹھ کر معاملات طے کریں ۔ متحدہ قومی موومنٹ (پی آئی بی) نے الیکشن کمیشن کی جانب سے انٹرا پارٹی انتخابات کے حوالے سے فیصلے کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کی طرف سے ماضی میں انٹراپارٹی انتخابات کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں دیا گیا، ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کو جماعتوں کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے گریز کرنا چاہیے۔

ادھر میئر کراچی وسیم اختر کا کہنا تھا کہ کراچی کے لوگوں کے پاس بدستورایک ہی آپشن ہے اور وہ ہے ایم کیوایم اور پتنگ، انتخابات ہوئے تو پھر جیتیں گے، وہ کراچی کی تباہ حالی پر فریاد کناں ہیں، ان کا کہنا ہے کہ کراچی تباہ اورکچرے کا ڈھیرہے، اسپتالوں کا برا حال ہے، کوئی سڑک سلامت نہیں، ٹرانسپورٹ ہے ہی نہیں، صوبے میں 99 فیصدلوگوں کو پینے کا صاف پانی نہیں ملتا،کراچی کو 25ہزارارب درکارہیں ۔

حقیقت یہ ہے کہ کراچی کی مقامی حکومت اور بلدیاتی ادارے با اختیار ہونے چاہئیں، صوبوں کواختیارات ملنا چاہئیں ، ریاست کے اندر ریاست نہیں بننی چاہیے۔اب ضرورت اسٹیک ہولڈرز میں کشادہ نظری کے عملی اظہار کی ہے۔ کراچی کی صورتحال سے سیاسی اور انتخابی فائدہ اٹھانے کی کسی بھی غیر جمہوری روش کی حوصلہ افزائی نہیں ہونی چاہیے، کراچی کی سیاسی نشاۃ ثانیہ ہونی چاہیے۔