قومی آبی پالیسی پر اتفاق دیر آید درست آید فیصلہ

برسات نہ ہونے کے باعث پیدا ہونے والی پانی کے بحران کے وقت ان ڈیموں کا پانی استعمال کیا جاسکے


Editorial March 29, 2018
چھوٹے بڑے ڈیموں کی تعمیر کے ساتھ کئی سفارشات میڈیا سمیت ہر فورم پر پیش کی گئیں۔ فوٹو: فائل

مشترکہ مفادات کونسل نے قومی آبی پالیسی اختیار کرنے کی ضرورت پر اتفاق کرتے ہوئے صوبائی تجاویز شامل کرنے کے بعد مجوزہ پالیسی حتمی منظوری کے لیے مشترکہ مفادات کونسل کے آیندہ اجلاس میں لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کو دیر آید درست آید کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے، حقیقت تو یہ ہے کہ قومی آبی پالیسی کو عشروں پہلے ہی مکمل کیا جانا چاہیے تھا کیونکہ خطے میں موسمیاتی تبدیلیوں اور میٹھے پانی کے ذخائر میں تیزی سے ہوتی کمی ایک الارمنگ سچویشن ہے۔ سائنسدان اور ماہر موسمیات ایک عرصہ سے پانی کے ذخائر میں کمی اور مستقبل میں پیش آنے والے خطرات سے آگاہ کرتے آرہے ہیں، چھوٹے بڑے ڈیموں کی تعمیر کے ساتھ کئی سفارشات میڈیا سمیت ہر فورم پر پیش کی گئیں لیکن حکومتی اور اعلیٰ سطح پر کسی جانب سے سنجیدہ اقدامات نہیں کیے گئے۔

حکمرانوں کے اسی عاقبت نااندیشانہ رویوں کے باعث آج صورتحال یہ ہے کہ پاکستان تیزی کے ساتھ پانی کی کمیابی کا حامل ملک بنتا جارہا ہے۔ ملک میں وقتاً فوقتاً پانی کا بحران جنم لے رہا ہے جب کہ گرم موسم میں پانی کی قلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پائیدار ترقیاتی اہداف کا تقاضا ہے کہ مربوط آبی وسیلہ انتظام اختیار کیا جائے۔ آبادی میں اضافہ اور معیشت کے مختلف شعبوں کے لیے پانی کی طلب کی بنا پر ذخیرہ کی گنجائش بڑھانے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ مشترکہ مفادات کونسل کو بتایا گیا کہ مجوزہ قومی آبی پالیسی کے مسودہ میں تزویراتی اقدامات شامل ہیں اور یہ قومی موسمیاتی تبدیلی پالیسی 2012 سے ہم آہنگ ہے۔

قومی آبی پالیسی کے مسودہ میں قومی آبی کونسل، صوبائی آبی حکام، وفاقی اور صوبائی سطحوں پر انتظامی اداروں کا قیام بھی شامل ہے تاکہ آبی وسائل کے انتظام کے حوالے سے رابطے کو بہتر بنایا جاسکے۔ یہ امر خوش آیند ہے کہ جو کام برسوں پہلے پایہ تکمیل تک پہنچ جانا چاہیے تھا بالآخر اس کی جانب پیش رفت دیر سے سہی، ہورہی ہے۔ جب کہ تشویشناک امر تو یہ ہے کہ شرپسند پڑوسی کی آبی دہشت گردی بدستور جاری ہے۔ بھارت نے پاکستان کا پانی روکنے کے لیے مزید 3 ڈیمز بنانے کا اعلان کیا۔ بھارتی وزیر مملکت برائے ٹرانسپورٹ و پانی نتن گڈکری نے ہریانہ میں ایگریکلچرل سمٹ 2018 کی اختتامی تقریب کے دوران پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا کہ اترکھنڈ کے دریاؤں پر تین ڈیم بنا کر پاکستان جانے والے پانی کو روک لیں گے تاکہ برسات نہ ہونے کے باعث پیدا ہونے والی پانی کے بحران کے وقت ان ڈیموں کا پانی استعمال کیا جاسکے۔

متعصب بھارتی حکومت خشک موسم میں دریاؤں کا پانی روک کر پاکستان میں پانی کا بحران پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہے اور دوسری طرف مون سون میں جب دریاؤں کا پانی عروج پر ہوتا ہے اپنے ڈیم کا پانی بھی پاکستان کی جانب چھوڑ دیتا ہے جس کے باعث پاکستانی دریاؤں میں سیلاب کی سی صورت پیدا ہوجاتی ہے۔ بھارت کی ان شرپسندانہ حرکتوں کے باعث پاکستان کو بے پناہ نقصان بھی اٹھانا پڑا جب کہ پاکستانی دریاؤں پر بنائے جانے والے بھارتی ڈیمز پر عالمی فورم پر اٹھائے جانے والے اعتراضات بھی پاکستانی کمزور موقف اور نمایندگی کے باعث ہرزہ سرائی کا باعث بنے۔ کیا پاکستانی زعما اس بات سے بے خبر ہیں سائنسدان آیندہ ہونے والی جنگیں ''پانی'' کے مسئلے کو قرار دے رہے ہیں۔ صائب ہوگا کہ جلد آبی سٹرٹیجی مکمل کی جائے، ملک میں چھوٹے بڑے ڈیموں کی تعمیر سمیت بھارت کو آبی جارحیت سے روکنے کا بندوبست کیا جائے۔