ایف بی آر کیخلاف درآمد کنندگان تاجر اور کلیئرنگ ایجنٹس متحد

متنازع ایس آراوزکیخلاف مزاحمت شروع، پہلے مرحلے میں کسٹمزاے ایف یو میں ہینڈسیٹس کی کلیئرنس روک دی گئی۔


Ehtisham Mufti April 09, 2013
موبائل فون پرسیلزٹیکس کیخلاف عدالت میں پٹیشن دائر کرنے کے لیے قانونی مشیرکی تقرری کردی،چیئرمین کراچی الیکٹرانکس ڈیلرزایسوسی ایشن فوٹو: فائل

کسٹمز کلیئرنگ ایجنٹس، درآمدکنندگان اور دیگر تاجر فیڈرل بورڈ آف ریونیوکے حالیہ متنازع ایس آراوز کے خلاف مشترکہ طور پرمزاحمت پر متفق ہوگئے ۔

جبکہ کراچی الیکٹرانکس ڈیلرز ایسوسی ایشن نے دیگر اسٹیک ہولڈرز کے اشتراک سے ایس آراو280 کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے، پہلے مرحلے میں ملک بھر کے ایئرپورٹس کے کسٹمز ایئر فریٹ یونٹس میں درآمدی2 لاکھ سے زائد موبائل سیٹس کی کلیئرنس روک دی گئی ہے۔ کراچی الیکٹرانکس ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ادریس میمن نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ ایف بی آر کے اقدامات کے خلاف عدالت عالیہ میں پٹیشن دائر کرنے کے لیے قانونی مشیرکی تقرری کردی گئی ہے۔

کیونکہ ایف بی آر حکام امن وامان کی بدتر صورتحال، اغوابرائے تاوان، بھتہ خوری کے واقعات کو بالائے طاق رکھ کر من مانے انداز کے فیصلے تھوپ رہے ہیں جو اس امر کی واضح انداز میں نشاندہی ہے کہ ایف بی آر میں نان پروفیشنلز اور میرٹ کو بالائے طاق رکھ کر تعیناتیاں کی گئی ہیں اور یہی عناصر ملکی تجارت وصنعت، درآمدات وبرآمدات کو خراب کرنے کے مشن پر گامزن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اعلیٰ عدلیہ کی جانب سے پیر کو ایف بی آر میں تقرریوں کے حوالے سے کیے گئے فیصلے کی تاجربرادری مکمل حمایت کرتی ہے۔

کراچی کسٹمز ایجنٹس ایسوسی ایشن اے ایف یو کراچی کے چیئرمین مرزا حنان بیگ نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ ایف بی آرکے من مانے اقدام کے بعد سے مختلف کمپنیوں ودرآمدکنندگان کی جانب سے درآمدی 2 لاکھ سے زائد موبائل سیٹس کی کلیئرنس نہیں کی جارہی جبکہ درآمدکنندگان کی جانب سے 5 لاکھ سے زائد موبائل فون سیٹوں کے درآمدی معاہدے منسوخ کردیے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں یومیہ ڈیڑھ لاکھ سے 1 لاکھ80 ہزار تک مختلف موبائل فونزکی درآمدات ہوتی ہیں جن سے ایف بی آر کو کثیرریونیو حاصل ہوتا ہے۔

1

دوسری جانب ایف بی آر نے موبائل فونز کی درآمد پر حالیہ فکسڈ سیلز ٹیکس کو رائج 16 فیصد کی شرح سے14 فیصد کم قراردیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ رائج 16 فیصد شرح کے تناظر میںجائزہ لیا جائے توفکسڈ سیلزٹیکس کے نفاذ سے فی موبائل سیٹ پر شرح 2 فیصد سے زائد نہیں ہے، ایف بی آر کی جانب سے رواں مالی سال کے اختتام تک2ارب47کروڑ50لاکھ روپے مالیت کی اضافی ریونیوکے حصول کے لیے موبائل سیٹس کی درآمد پر500 تا1000 روپے کا سیلزٹیکس عائد کیا گیا ہے لیکن اس اقدام کے بعد تیزرفتاری کے ساتھ افزائش کا حامل واحد ٹیلی کام سیکٹربھی تنزلی کا شکار ہوجائے گا۔

ایف بی آرحکام کا یہ بھی موقف ہے کہ ایس آراو280کے ذریعے کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا بلکہ یہ ایس آراو 390 مجریہ 2001کانیا ورژن ہے۔ ایس آر او 280 کے خلاف متعلقہ درآمدکنندگان وٹریڈرز کے شدید ردعمل پرایف بی آرنے تاجربرادری کے خدشات دورکرنے کی ناکام کوشش کی ہے ۔

کیونکہ اس متنازع ایس آراوکے اجرا کے بعد مالی سال کی اختتامی سہ ماہی میں موبائل فونز سیٹس کی درآمدمتاثرہونے کا خطرہ ہے جو ریونیو میں مزید کمی کا بھی سبب بن سکتا ہے۔ ایف بی آرنے اپنے ایک وضاحتی اعلامیہ کے ذریعے یہ بات باورکرانے کی کوشش کی ہے کہ موبائل فون کی درآمدپر جوسبسڈی دی گئی تھی وہ سی ڈی ایم اے ٹیکنالوچی کومدنظررکھتے ہوئے دی گئی تھی تاکہ صارف کو ایکٹیویشن چارجز کے اضافی بوجھ سے بچایا جاسکے اوراب جبکہ سی ڈی ایم اے ٹیکنالوجی ماضی کا حصہ بن چکی ہے تو اس سبسڈی کاکوئی جوازباقی نہیں رہا۔

مقبول خبریں