سندھ بھر میں انتخابی ٹریبونلز قائم کر دیے گئے6اپیلیں دائر

بیشتر اپیلیں ضلع سانگھڑ سے ہیں،3 اپیلوں کی سماعت، ابتدائی دلائل کے بعد مدعا علیہان کو 10اپریل کے لیے نوٹس جاری.


Staff Reporter April 09, 2013
پی ایس 125 اور این اے241 سے سید کرم درویش کی اپیلیں،ریٹرننگ افسران کے فیصلے کالعدم قراردیے جائیں،درخواست گزار. فوٹو: فائل

صوبہ سندھ میں ہائیکورٹ کے ججوں پر مشتمل انتخابی ٹریبونلز نے کام شروع کردیا۔

کراچی حیدرآباد اور میر پورخاص ڈویژن کے لیے تشکیل دیے گئے ٹریبونل کے روبرو پیر کو6 اپیلیں دائر کی گئیں جن میں سے بیشتر کا تعلق ضلع سانگھڑ سے ہے،سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس فیصل عرب ، جسٹس غلام سرور کورائی اور جسٹس منیب اختر پرمشتمل تین رکنی انتخابی ٹریبونل کے روبرو 4اپیلیں سماعت کے لیے پیش کی گئیں،فاضل ٹریبونل نے تین اپیلوں کی سماعت کرتے ہوئے درخواست گزاروں کے وکلا کے ابتدائی دلائل سننے کے بعد مدعا علیہان کو10اپریل کے لیے نوٹس جاری کردیے۔

جبکہ ایک اپیل کنندہ کی جانب سے کسی نمائندے کی عدم موجودگی کے باعث اسکی سماعت بھی 10اپریل کے لیے ملتوی کردی گئی، پیر کو جن امیدواروں کی اپیلیں انتخابی ٹریبونل کے روبرو پیش کی گئیں،ان میں این اے 234 سانگھڑ سے حاجی خدا بخش نظامانی،پی ایس 86ٹھٹھہ سے رمیض الحق ظہور، پی ایس 125 کراچی شرقی اور کراچی غربی این اے241سے سید کرم درویش کی اپیلیں شامل تھیں ،ان امیدواروں نے ریٹرننگ افسران کے فیصلوں کے خلاف اپیلیں دائر کرتے ہوئے موقف اختیار کیاہے کہ ریٹرننگ افسران نے معاملات کا درست طریقے سے جائزہ نہیں لیا اور درخواست گزاروں کے کاغذات نامزدگی مسترد کردیے ۔



اس لیے ریٹرننگ افسران کے فیصلوں کو کالعدم قراردیتے ہوئے انھیں انتخابات میں شرکت کی اجازت دی جائے ، جبکہ این اے 241سے سیدکرم درویش کی جانب سے سماعت کے موقع پر کوئی نمائندہ موجود نہیں تھا اس لیے سماعت 10اپریل کے لیے ملتوی کردی گئی ، جبکہ پیر کو پی ایس 62 مٹھی سے رسول بخش نے بھی ریٹرننگ افسر کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی ہے جبکہ پی ایس 81 سانگھڑ سے فنکشنل لیگ کے میر خان کھوسو نے محمد خان جونیجو کے خلاف اپیل دائر کی ہے۔

مقبول خبریں