پاک افغان جوائنٹ چیمبر گول میز کانفرنس تجارتی فروغ پر زور

پالیسی مسودے کی تیاری شروع،آرمی چیف، وزیراعظم، افغان صدرکو نکات سے آگاہ کیا جائے گا۔


Ehtisham Mufti March 30, 2018
5 ارب ڈالر استعداد،اعتمادکے فقدان،سیکیورٹی خدشات کے باعث 1.4 ارب ہے، زبیر موتی والا۔ فوٹو : فائل

پاکستان اور افغانستان کے درمیان اعتماد سازی کوفروغ دے کر باہمی تجارت اور ٹرانزٹ ٹریڈ کے حجم کو بڑھانے کے لیے پاک افغان جوائنٹ چیمبر آف کامرس نے پالیسی مسودہ مرتب کرنا شروع کردیا ہے۔

جوائنٹ چیمبرکی راؤنڈ ٹیبل کانفرنس میں پاکستان اور افغانستان کے تاجرنمائندوں اور پاکستان میں تعینات افغانستان کے نائب سفیر زردشت شمس بھی شریک ہوئے۔ راؤنڈ ٹیبل کانفرنس میں بتایا گیا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت کی استعداد اگرچہ 5 ارب ڈالر سالانہ ہے لیکن دونوں جانب سے اعتماد کے فقدان، آئے دن سرحدوں کی بندش اور غیریقینی سیاسی وسیکیورٹی حالات کی وجہ سے پورے استعداد کے ساتھ تجارت نہیں ہوپارہی ہے۔

کانفرنس میں تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے یہ طے پایا کہ دونوں ممالک کے درمیان بلارکاوٹ تجارت کے لیے پالیسی مسودہ تیارکیا جائے اور اس مسودے کے ہمراہ افغانستان کے صدر، پاکستانی مسلح افواج کے سربراہ اور وزیراعظم سے باقاعدہ ملاقات کرکے مسودے کے اہم نکات سے آگاہ کیا جائے۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاک افغان جوائنٹ چیمبر کے چیئرمین زبیرموتی والا نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان اب تک باہمی تجارت کے بلند ترین اعداد و شمار صرف 2.5 ارب ڈالرکے ہیں لیکن غیریقینی سیاسی وسیکیورٹی حالات اعتماد کے فقدان آئے دن سرحدوں کی بندش کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان باہمی تجارت کے مذکورہ حجم میں بھی نمایاں کمی واقع ہوئی ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کا حجم گھٹ کر 1.4 ارب ڈالر کی سطح پر آگئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سیاسی وسیکیورٹی کشیدگی کا فائدہ بھارت اور ایران اٹھارہے ہیں۔

بھارت کا افغانستان کے ساتھ تجارتی سرگرمیاں بڑھتی جارہی ہیں اور وہ افغان مارکیٹ میں اپنے قدم مضبوط سے مضبوط کررہا ہے جبکہ ایران نے افغان تاجروں کو ٹرانزٹ ٹریڈ کی صورت میں لاتعداد ترغیبات فراہم کی ہیں جس کی وجہ سے افغان تاجراب ایران کے راستے ٹرانزٹ ٹریڈ میں زیادہ دلچسپی لینے لگے ہیں حالانکہ کراچی بندرگاہ کے مقابلے میں ایرانی بندرگاہ کے راستے ٹرانزٹ ٹریڈ کی لاگت زیادہ ہے۔ یہی وہ عوامل ہیں جن کی وجہ سے افغانستان کے لیے ایران کے راستے ٹرانزٹ ٹریڈ کا حجم بڑھتا جارہا ہے۔

انہوں نے افغان اور پاکستانی حکومت کو تجویز دی کہ پاک افغان تجارتی سرگرمیوں کو وسعت دینے کے لیے دوطرفہ طور پر تجارت کو سیاست اور سیکیورٹی معاملات سے علیحدہ کریں، اعتماد سازی کو فروغ دیں تاکہ دونوں ممالک کو معاشی فوائد حاصل ہوسکیں۔

انہوں نے حکومت پاکستان کو تجویز دی کہ وہ افغانستان سے پاکستان کے لیے درآمد ہونے والے زرعی مصنوعات کی راہ میں محکمہ قرنطینہ کی شرائط میں نرمی کرے۔ ٹرانزٹ ٹیرف میں کمی اور مالی ترغیبات پر توجہ مرکوز کرے۔

زبیرموتی والا نے ایکسپریس کے استفسار پر بتایا کہ پالیسی مسودہ حتمی مراحل میں ہے اور جوائنٹ چیمبرنے پاکستانی آرمی چیف اور وزیراعظم پاکستان کے علاوہ افغانستان کے صدر سے ملاقات کے لیے باقاعدہ وقت مانگ لیا ہے۔

مقبول خبریں