نئے بھارتی ہائی کمشنر کا اظہار خیال

دوراندیشی اور مفاہمانہ سیاسی وژن پاک بھارت قیادت کا سب سے اہم امتحان ہے۔


Editorial April 01, 2018
دوراندیشی اور مفاہمانہ سیاسی وژن پاک بھارت قیادت کا سب سے اہم امتحان ہے۔ فوٹو: فائل

بھارتی ہائی کمشنر اجے بساریہ نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت ماضی کا بوجھ اتار کر باہمی تعلقات کو ازسر نو تجارت و معیشت کے اصولوں پر استوار کریں جو لڑائی جھگڑوں سے پاک ہونے چاہئیں، ہم میڈیکل اور تجارتی ویزے فوری فراہم کرنے کے عمل کو بہتر بنا رہے ہیں۔ حالات سازگار ہوتے ہی کرکٹ بھی بحال ہو جائے گی۔ دونوں ممالک کو ٹرانزٹ اور روابط کو بہتر کرنا چاہیے۔

جمعہ کو لاہور چیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے دورے کے دوران چیمبر کے اعلیٰ عہدیداروں اور ایگزیکٹو کمیٹی سے گفتگو کرتے ہوئے بھارتی ہائی کمشنر نے باہمی تعلقات معمول پر لانے کے لیے جن تجارتی پہلوؤں اور باہمی رابطہ کی ضرورت پر زور دیا ہے اس سے کسی کو انکار نہیں، اقتصادی اور تجارتی تعاون سے بہتر اور کوئی ذریعہ نہیں ہے، نئے بھارتی ہائی کمشنر کا یہ کہنابھی صائب ہے کہ دونوں ممالک نان ٹیرف رکاوٹیں دور کرنے کے لیے اقدامات کریں تاکہ تجارت بڑھے۔

تاہم انہیں بطور سینئر سفارتکار پاک بھارت تعلقات کے پر آشوب تاریخی تناظر، دوطرفہ سیاسی تجارتی، معاشی اور خطے میں پیدا شدہ کشیدگی کے عوامل کا بھی گہرا ادراک ہوگا جو نصف صدی سے زاید عرصہ پر پھیلے ہوئے ہیں، اس پورے دورانیے میں دوطرفہ مسائل کے حل کے لیے کی جانے والی مشق مسلسل عملاً کسی ٹھوس بریک تھرو پر منتج نہیں ہوئی، لہذا ان کی آمد اس پیشرفت سے مشروط ہونی چاہیے جس میں وہ دونوں حکومتوں کو باور کرائیں کہ ایک دوسرے سے دور رہنے کا فائدہ انتہاپسند قوتیں ہی اٹھا سکتی ہیں اور خطے میں دہشتگردی، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور جنگجویانہ بیان بازی سے انتہا پسندی کو کاؤنٹر کرنا مشکل ہو جائے گا۔

حقیقت یہ ہے کہ پاک بھارت تعلقات کی بہتری صرف دوطرفہ تجارتی روابط بڑھانے تک محدود نہیں رہ سکتی، اس میں دو رائے نہیں کہ خطے کی تقدیر اقتصادی روابط اور تعاون سے جڑی ہوئی ہے مگر جب دو ایٹمی ملک ایک دوسرے کے خلاف ''اسٹینڈ آف'' کی پوزیشن لیے ہوئے ہوں، حالت جنگ کا سماں ہو، گھمبیر اور دیرینہ مسائل پر پر امن بات چیت سے گریز پائی سفارتکاری کی بار بار فتح قرار پاتی ہو، کنٹرول لائن پر اشتعال انگیزی اور بلاوجہ ہلاکت خیز فائرنگ کا سلسلہ جاری ہو، مقبوضہ کشمیر میں ریاستی بربریت جاری ہو، ایسی صورتحال میں پاک بھارت تجارت سمیت بنیادی ایشوز پر جامع مذاکرات کی ضرورت دوچند ہو جاتی ہے، غالباً اسی سیاق وسباق میں اجے بساریہ نے صائب تجاویز دی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تیسرے ملک کے ذریعے 5 ارب ڈالر سے زائد کی تجارت ہو رہی ہے جو براہ راست ہونی چاہیے۔ نان ٹیرف بیریئرز کے خاتمے اور ویزا کے اجرا میں آسانی جیسے اقدامات کر کے دوطرفہ تجارت 30 ارب ڈالر تک پہنچائی جا سکتی ہے، بھارت کی آبادی کا دوتہائی جب کہ پاکستان کی آبادی کے 65 فیصد کی عمر 35 سال سے کم ہے، دونوں ممالک کو ایک دوسرے کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانا چاہیے، دونوں ممالک کے تجارتی چیمبرز بہت اہم لابی ہے، انھیں نہ صرف تجارتی تعلقات کے فروغ کے لیے کام کرنا چاہیے بلکہ پالیسی میکرز کو بھی زیر اثر لانا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ بھارت میں پاکستانی ہائی کمشنر کو ہراساں کرنے کے حوالے سے سفارتی سطح پر بات چیت جاری ہے دونوں ممالک کو ٹرانزٹ اور روابط کو بہتر کرنا چاہیے، میڈیا کا کردار بہت اہم ہے، حقیقت سے ہٹ کر رپورٹنگ کرنے سے مسائل بڑھتے ہیں۔ پانی کے مسئلے پر دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام کے مابین بھارت میں بات چیت ہو رہی ہے۔ بھارتی ہائی کمشنر دونوں ملکوں کے مابین کرکٹ کی بحالی کے حوالے سے پرامید ہیں۔ اجے بساریہ کو یہ بھی تجویز دی گئی کہ بارڈرز پر ایک کامن ایریا قائم کیا جہاں دونوں ممالک کے تاجر کاروباری ڈیلز کے لیے ایک دوسرے سے ملاقاتیں کرسکیں۔

ان حقائق کے پیش نظر دوطرفہ اقدامات کا وسیع میدان کھلا ہوا ہے، بہت بڑی پیش قدمی ممکن ہے تاہم معاملہ ارادہ اور نیک نیتی کا ہے۔ بھارت میں سیکولرازم اور جمہوریت کو خطرہ ہندوتوا اور سیفرانائزیشن سے ہے، مودی سرکار کو سیاسی شاونزم اور طبقاتی اور اشرافیائی گرفت سے بھارت کو نکالنا ہے، اسی طرح پاکستانی سماج پر اشرافیائی سیاست کے دباؤ، انتظامی انحطاط، مذہبی اور انتہا پسند قوتوں کی یلغار روکنے کی کوششوں نے جمہوری اور سیاسی عمل کو ڈیڈ لاک سے دوچار کر دیا ہے، اب ضرورت پاک بھارت تعلقات کی تاریک سرنگ کے خاتمہ اور سفارتکاری اور سیاسی خیرسگالی کے نئے دور کے آغاز کی ہے۔

دوراندیشی اور مفاہمانہ سیاسی وژن پاک بھارت قیادت کا سب سے اہم امتحان ہے۔ تعلقات کا نیا روڈ میپ پاک بھارت تعلقات کی بحالی میں کلیدی اہمیت کا حامل ہو گا۔ پاکستان اور بھارت کو غربت کے خاتمہ کا مشترکہ چیلنج درپیش ہے، اکیسویں صدی کی ٹیکنالوجیکل پیشرفت اور جدید ترین ایجادات اور اقتصادی ترقی برصغیر کے دو ارب کے لگ انسانوں کی معاشی کایا پلٹ سے مشروط ہے، وقت آگیا ہے کہ بھارت اور پاکستان جامع مذاکرات کی طرف آئیں، دیانت اور ٹرانسپیرنسی پر مبنی کثیر جہتی سفارتکاری سے تعلقات کے بند راستوں کو کلیئر کریں۔