استاد کی بے عزتی
ہماری فوج نے فوجی تربیت کے لیے کئی کیڈٹ کالج بنائے ہیں، ان میں سے بعض نے بڑا نام بھی پیدا کیا ہے۔
ہم باضابطہ اور قانونی اداروں کے ساتھ کام کرنے کے عادی نہیں ہیں اگر کوئی ایسا ادارہ ہمیں مل بھی جاتا ہے تو ہم اس کا ستیاناس کر کے ہی دم لیتے ہیں۔ ان دنوں ہم ایک پرانے تعلیمی ادارے لارنس کالج گھوڑا گلی کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں اور جس پاکستانی انداز میں یہاں تخریب کاری شروع کر چکے ہیں اس میں ہم ضرور کامیاب ہوں گے بلکہ پہلی کوشش میں ہم اپنی کامیابی سے ہمکنار ہو بھی چکے ہیں۔
یہ تعلیمی ادارہ ہمیں انگریزوں سے ورثے میں ملا ہے۔ پاکستان کی زمین کے حصے میں ایسے چند تعلیمی ادارے آئے ہیں۔ ایچی سن کالج لاہور' برن ہال ایبٹ آباد اور لارنس کالج گھوڑا گلی۔ ایچی سن کالج کی بحالی کے لیے اس کے ایک سابق پرنسپل جناب شمیم سیف اللہ کو واپس آنے کی زحمت دی گئی ہے، وہ اس مشہور تعلیمی ادارے کی بدنظمی اور طلبا کی بے خوف آزادی کو قابو کر رہے ہیں، ابھی گزشتہ دنوں اس کالج کے طلبا نے ایک مباحثے کے دوران یہاں کے طالبات کے ایک ادارے کی طالبات سے بدتمیزی کی۔ اطلاع ملنے پر پرنسپل نے ان بدتمیز طلبا کو ایک بس میں بھر کر طالبات کے اس کالج بھجوایا اور اس کالج کی اسمبلی کے دوران پورے کالج سے معافی مانگی گئی۔
کئی بدتمیز طلبا کو نکالا جا چکا ہے اور کالج کی اصلاح کا یہ سلسلہ جاری ہے، اب لارنس کالج پر جو حملہ ہوا ہے اس کی مختصر تفصیلات ہی بڑی تکلیف دہ ہیں۔ اس کالج کے ایک طالب علم کو ڈسپلن کی خلاف ورزی پر نکال دیا گیا جسے بعد میں بحال کر دیا گیا۔ کالج کے پرنسپل نے اس پر استعفیٰ دے دیا۔
کالج کے پرنسپل بریگیڈئیر(ر) محمد حفیظ نے کالج کے ڈسپلن کی خلاف ورزی پر ایک طالب علم کو نکال دیا لیکن اس طالب علم کے ایک رشتے دار جو کالج کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے رکن بھی ہیں نے پرنسپل پر دبائو ڈالا کہ اس طالب علم کو بحال کیا جائے لیکن پرنسپل نے یہ بات ماننے سے انکار کر دیا اور استعفیٰ دے دیا جس پر وائس پرنسپل کو چارج دے دیا گیا اور انھوں نے طالب علم کو بحال کر دیا۔ ظاہر ہے کہ اصول پسند اور ضابطے کے پابند پرنسپل کے چلے جانے پر کالج میں احتجاج کیا جا رہا ہے اور اس مسئلے پر انکوائری کی خبریں بھی آ رہی ہیں۔ انکوائریاں تو ہوتی ہی رہتی ہیں۔ اصل گناہ ایک روایت کی توہین ہے۔
اس ضمن میں جو کارروائی ہو گی وہ تو ہوتی ہی رہے گی اور یہ دیکھا جائے گا کہ ہماری فوج اس مسئلے میں کیا موقف اختیار کرتی ہے اور پرنسپل کو واپس لاتی ہے یا نہیں لیکن اس اعلیٰ تعلیمی ادارے کو جو نقصان ہونا تھا وہ تو ہو گیا۔ ہم نے آج تک کام کا کوئی بھی نیا تعلیمی ادارہ قائم نہیں کیا اور کیا بھی ہے تو وہ بوجوہ سسک رہا ہے لیکن انگریز اپنے مقاصد کے لیے جن اداروں کو بنا کر چھوڑ گئے تھے ہم انھیں بھی تباہ کر رہے ہیں۔
انگریز حکمرانوں نے اپنے مقاصد کے لیے اور اپنے غلاموں کی نئی نسل کو اپنی پسند کی تعلیم دینے کے لیے چند اعلیٰ معیار کے تعلیمی ادارے بنائے تھے اور ان کی شاندار عمارتیں قائم کی تھیں۔ کچھ عرصہ تو یہ ادارے اپنی پرانی روایات اور ڈسپلن کے تحت کام کرتے رہے اور یہاں سے شاندار مزاج اور کردار کے طلبا فارغ ہوئے لیکن ہمارے ہاں جب زندگی کے ہر شعبے میں کرپشن کا آغاز ہوا تو تعلیم بھی اس سے محفوظ نہ رہ سکی جس کی ایک مثال کا ذکر اوپر کیا گیا ہے۔
ہماری فوج نے فوجی تربیت کے لیے کئی کیڈٹ کالج بنائے ہیں، ان میں سے بعض نے بڑا نام بھی پیدا کیا ہے اور وہاں کے سابق طلبا اپنے ناموں کے ساتھ ان کالجوں کا نام بھی شامل کرتے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہاں تعلیم حاصل کرنا ایک باعزت ذریعہ ہے اور یہاں کے طلبا ایک برادری سے تعلق رکھتے ہیں جیسے کبھی مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے 'علیگ' ہوا کرتے تھے۔ ہمارے ایسے کامیاب اور باعزت تعلیمی ادارے اگر زندہ رہے اور ان کی روایات کو ہماری فوج برداشت کرتی رہی تو کل کلاں ہم پاکستانی بھی ان تعلیمی اور علمی اداروں پر فخر کریں گے لیکن جو کچھ پہلے سے بنا بنایا موجود ہے اگر ہم اسے بھی برقرار نہ رکھ سکے تو ہم کوئی نیا ادارہ کیا بنائیں گے۔ ایسے بڑے کام کسی بڑی روایت کے مرہون ہوتے ہیں۔ ہمیں جو روایات ورثے میں ملی ہیں ہم ان کا احترام کرنے پر تیار نہیں تو پھر کون ہماری نئی روایات کا احترام کرے گا۔
ہمارے پاکستان میں کاروبار کے لیے جو نئے تعلیمی ادارے قائم کیے گئے ہیں وہ کاروباری لحاظ سے بہت کامیاب ہیں اور ہم صحافت کے پیشے سے متعلق لوگ ان کے خصوصی ممنون ہیں کہ انھوں نے ہمارے فقر و فاقہ پر بھی دھیان دیا مگر ایک گزارش ہے کہ وہ ان ساز گار حالات میں اعلیٰ درجے کے تعلیمی ادارے بھی قائم کر دیں جو ان کی یاد گار بن جائیں اور قوم ان پر بھی فخر کر سکے۔ کوئی دوسرا علی گڑھ کیوں نہیں بن سکا، کوئی دوسرا جامعہ ملیہ کیوں نہیں قائم ہوا۔
اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ ہم نے تعلیم کی قدر نہیں کی جب کہ تعلیم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے، کسی بھی دوسرے فرائض کی طرح مگر ہم تقریروں میں ہی ایسی حدیثوں کی مثال دیتے ہیں عملی زندگی میں نہیں۔ وہ جو کہا گیا کہ علم کے حصول کے لیے چین جانا پڑے تو جائو تو اس کا مطلب یہ تھا کہ کسی بھی دور دراز مقام تک جائو اور وہاں علم حاصل کرو لیکن ان دنوں ہم آنے والے اقتدار کی جنگ میں مصروف ہیں ویسے ہم جب اقتدار میں ہوتے ہیں تو سب سے کم بجٹ تعلیم کا ہی ہوتا ہے۔ ان پڑھ قوم پر حکومت کرنا شاید زیادہ آسان ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے کسی بھی نامی گرامی ادارے کے پرنسپل کی بے عزتی کر دی جاتی ہے۔ بلا تکلف۔