صنعتوں کی منتقلی نہیں چاہتے بجلی دی جائے زبیر ملک

آئی پی پیز کو بر وقت ادائیگیاں نہ کی گئیں تو صنعتی زوال روکنا ممکن نہیں ہوگا، عبداللہ یوسف


Business Reporter April 10, 2013
چھٹی پاور جنریشن کانفرنس سے عارف علاؤ الدین، ڈاکٹر نسیم،عرفان احمد ودیگر کا بھی خطاب۔ فوٹو: فائل

ملک میں جاری توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے توانائی کے متبادل ذرائع تلاش کرنا وقت کی اشد ضرورت ہے۔

یہ بات فیڈریشن آف پاکستان چیمبر زآف کامرس کے صدر زبیر ملک نے ملک میں بڑھتے ہوئے توانائی کے بحران، اس کے حل، متبادل وسائل، کوئلے سے بجلی کی پیدوار، ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ اور سرمایہ کاری کے حوالے سے مقامی ہوٹل میں منعقدہ ایک روزہ ''چھٹی پاور جنریشن کانفرنس'' کے افتتاحی سیشن سے بطور مہمان خصوصی اپنے خطاب میں کہی۔

اس موقع پر متبادل توانائی بورڈ کے سربراہ عارف علاؤ الدین، آئی پی پیز ایڈوائزری کونسل کے چیئرمین عبداللہ یوسف، ہمدرد یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر نسیم اے خان، سیمنس پاکستان کے ڈائریکٹر عرفان احمد،کلیم صدیقی، نوید احمد، محمد عباس ساجد اور دیگر ماہرین نے بھی اظہار خیال کیا۔ زبیر ملک نے کہا کہ ملک میں پاور سیکٹر کو قیمتوں میں ردوبدل، انتظامی امور سمیت مالی بحران کا سامنا ہے جس کی نشاندہی کی اشد ضرورت ہے.

ملک میں نجی ادارے اس شعبے میں بہتر کام کر رہے ہیں، معیشت کو بہتر خطوط پر استوار رکھنے کے لیے صنعتوں کو بلاتعطل توانائی فراہم کرنے کی ضرورت ہے، ہم نہیں چاہتے کہ ملک سے صنعتوں کو کسی اور جگہ منتقل کیا جائے۔ اس موقع پر عبداللہ یوسف نے آئی پی پیز کو درپیش مسائل کی وجوہ پر روشنی ڈالی اور قرار دیا کہ سرکلر ڈیٹ میں دن بہ دن ناقابل بیان اضافے کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا اور مصنوعی اقدامات کے ذریعے ان پر وقتی قابو پانے کی کوشش کی گئی۔



انہوں نے کہا کہ اگر آئی پی پیزکو بروقت ادائیگیاں کرنے کا اگر کوئی مستقل اور دیرپا طریقہ اختیار نہیں کیا گیا تو صنعتی زوال کا عمل روکنا ناممکن ہو گا، نئی منتخب ہونے والی حکومت کو پاورجنریشن کرائسز پر سب سے زیادہ توجہ دینی پڑے گی۔

کانفرنس کے آرگنائزنگ کمیٹی کے چیئرمین محمد نعیم قریشی نے بتایا کہ اس کانفرنس کا اہتمام انرجی اپ ڈیٹ، متبادل توانائی بورڈ، وزرات بجلی وپانی اور رینیوایبل انرجی ایسوسی ایشن آف پاکستان کے تعاون سے کیا گیا، اس موقع پر توانائی کے بحران و حل کے حوالے سے انرجی ڈائیلاگ اور پینل ڈسکشن بھی کیے گئے۔