اپوزیشن عوام کی عدالت میں آئے ہر فیصلہ قبول ہوگا راجا پرویز

تھر کول بہت بڑی خوشخبری ہے،200ارب بیرل ڈیزل نکلے گا، تھر میں خطاب، کراچی میں رہنماؤں سے ملاقاتیں


News Agencies/staff Reporter August 10, 2012
تھرپارکر:وزیراعظم راجا پرویز اشرف ،وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ، وزیراطلاعات شرجیل میمن و دیگر کے ہمراہ تھرکول پروجیکٹ سائٹ کا معائنہ کررہے ہیں۔ فوٹو ایکسپریس

KARACHI: وزیر اعظم پاکستان راجا پرویز اشرف نے کہا ہے کہ ہمیں سیاست اور جمہوریت کا درس نہ دیا جائے، ہم سے زیادہ جمہوریت اور سیاست کو کوئی نہیں سمجھتا، سارے ادارے اپنے ہیں کسی ادارے سے جھگڑا نہیں۔تنقید کرنے والے خود کو عوام کی عدالت میں پیش کریں ہمیں ہر فیصلہ قبول ہوگا۔

الیکشن نزدیک اور حکومت غیر جانبدار انتخابات میں سنجیدہ ہے۔ تھر کول پاور پراجیکٹ کے دورے کے موقع پر جلسے سے خطاب میں وزیر اعظم نے کہا کہ شہید بے نظیر بھٹو نے قومی مفاہمت، محبت اور اتفاق کا درس دیا۔ صدر آصف علی زرداری ملک اور جمہوریت کی بقا کی خاطر اسی ویژن کو ساتھ لے کر چل رہے ہیں۔ قومی اسمبلی کی 124 نشستوں کے باوجود تمام جمہوری طاقتوں کو شامل کرکے حکومت بنائی جو پانچ سال مکمل کررہی ہے، اس ملک میں جمہوریت کا تسلسل اور 5 سال پورے کرنا انقلاب سے کم نہیں۔

انھوں نے کہا کہ شہید بے نظیر بھٹو کی بصیرت اور فہم و فراست ہی تھی جب انھوں نے ملک کو توانائی کے شعبے میں خود کفیل بنانے کے لیے 18سال قبل ہانگ کانگ سے ماہرین کو بلوا کر تھر میں کوئلے کے عظیم ذخائر کی فزیبلیٹی تیار کروائی۔ محترمہ نے اس وقت تھر کے خزانے کو بروئے کار لاکر سندھ اور پورے ملک کو سرسبز و شاداب بنانے کی نوید دی تھی۔ صدر آصف علی زرداری نے بھی اسی ویژن کو آگے بڑھاتے ہوئے ترجیحی بنیادوں پر تھر کے کوئلے سے استفادے کے لیے تھر کول انرجی بورڈ بنایا اور 4 سال کی مسلسل محنت اور پیپلز پارٹی کی جدوجہد سے آج تھر پاور پراجیکٹ ترقی کررہا ہے۔

حکومت تھر کول پاور پراجیکٹ کو ہرممکن سپورٹ فراہم کرے گی اور پراجیکٹ کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کی جائیں گی۔ انھوں نے کہا کہ تھر میں کوئلے کے ایک بلاک سے 2ارب بیرل ڈیزل تیار کیا جاسکتا ہے۔ ڈاکٹر ثمرمبارک مند اور ان کی ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے اور ان کا جذبہ قابل ستائش ہے جس ملک کے سیاستدان، سائنسدان اور عوام قومی جذبے سے سرشار ہوں اس قوم کی قسمت بدلنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی قیادت ملک کو مسائل اور مشکلات سے نکالنا چاہتی ہے جس کے لیے تمام بڑی جماعتوں کا تعاون بھی حاصل ہے تاہم جمہوریت کے مخالفین نے حکومت کے آغاز پر 2 ماہ کا وقت دیا اور پھر وقتاً فوقتاً حکومت جانے کی تاریخیں دیتے رہے لیکن اﷲ تعالیٰ کی مہربانی اور قیادت کی صلاحیتوں سے حکومت نے پانچ بجٹ پیش کردیے اور اب مدت پوری کرنے جارہے ہیں ان تمام مشکلات کے باوجود حکومت کا مدت مکمل کرنا ایک انقلاب ہے۔

انھوں نے کہا کہ کسی کو پسند ہوں یا نہ ہوں پیپلز پارٹی کو شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات سب سے زیادہ پسند ہیں کیونکہ پیپلز پارٹی بہت مرتبہ امتحان سے گزرچکی ہے، پیپلز پارٹی شفاف اور غیرجانبدار الیکشن کے لیے انتہائی سنجیدہ ہے، انھوں نے پیپلز پارٹی کے کارکنان اور ہمدردوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ فکر اور مایوسی کی کوئی بات نہیں تھرپارکر سے گلگت بلتستان تک ، لنڈی کوتل سے کراچی تک ہر جگہ بھٹو کے چاہنے والے پھیلے ہوئے ہیں۔

الیکشن سے بھاگنے والے نہیں ہیں اپوزیشن کے اتفاق سے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری عمل میں لائی جاچکی ہے الیکشن ہونے میں 7سے 8ماہ کا وقت باقی رہ گیا ہے، جمہوریت میں الیکشن کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں۔ تنقید کرنے والے الیکشن کی تیاری کرکے خود کو عوام کی عدالت میں پیش کریں جس کا ہر فیصلہ قبول ہوگا، جسے عوام منتخب کریں وہی حکومت بنائے گا اس میں جھگڑنے کی کوئی بات نہیں۔ وزیر اعظم نے عوام کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ وقت معاملات کو الجھانے اور صورتحال کو گھمبیر بنانے کا نہیں بلکہ برداشت اور محبت سے آسانیاں پیدا کرکے نفرتوں کے خاتمے اور محبت کا پیغام عام کرنے کا وقت ہے ۔

وزیر اعظم نے تھر کے عوام کے والہانہ پن کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ تھر کے عوام محنتی اور جفاکش ہونے کے ساتھ دانش مند اور تخلیقی صلاحیتوں سے مالا مال ہیں۔ شہید بے نظیر بھٹو نے تھر کے خزانے سے پورے ملک کو خوشخال کرنے کا خواب دیکھا جسے موجودہ قیادت حقیقت بنارہی ہے، وہ وقت دور نہیں جب دنیا کے دیگر ممالک سے لوگ تھر میں آکر سرمایہ کاری اور ملازمت کریں گے جس سے تھر کے عوام کا فائدہ ہوگا۔

انھوں نے کہا کہ تھر کے عوام کو فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے تھر کے کوئلے پر پہلا حق تھر کے عوام کا اس کے بعد سندھ اور اس کے بعد پورے ملک کے عوام کا حق ہے اور آئین میں 18ویں ترمیم کے ذریعے اس حق کو آئین کا حصہ بنادیا گیا ہے۔ اے پی پی کے مطابق وزیراعظمنے کہا ہے کہ ڈاکٹر ثمر مبارک اس منصوبے پر کام کا معاوضہ نہیں لے رہے، منصوبے پر توقع سے زیادہ کام ہو چکا ہے۔ وزیراعظم نے تھرکول منصوبے پر کام کرنے والے ہر شخص کے لیے ایک ماہ کی اضافی تنخواہ دینے کا اعلان کیا۔

وزیراعظم نے تھرپارکر کے دیہات میں بجلی کی فراہمی کے لیے 20 کروڑ روپے دینے کا بھی اعلان کیا۔آن لائن کے مطابق انھوں نے کہا کہ ہمیں کسی سے جھگڑنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ الیکشن دور نہیں جلد انتخابات ہوں گے، ہم الیکشن کی طرف بھاگتے ہیں، مخالفین الیکشن سے بھاگتے ہیں، صاف شفاف انتخابات کسی کو پسند ہوں نہ ہوں، پیپلزپارٹی کو غیر جانبدار اور صاف شفاف انتخابات پسند ہیں۔ الیکشن میں پتہ چل جائے گا کہ کون کتنے پانی میں ہے۔ چیف الیکشن کمشنر غیر جانبدار ہیں، ان پر ہمیں بھی اعتماد ہے اور اپوزیشن کو بھی اعتماد ہے۔

دریں اثنا کراچی میں مردان ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں شفاف انتخابات کیلیے ہم سب عوام کے دربار میں جا رہے ہیں، اب عوام منصف ہے جس نے فیصلہ کرنا ہے کہ ان کا لیڈر کون ہے، ہم اداروں کے مابین ٹکرائو نہیں چاہتے، خط کا معاملہ عدالتی ہے، تمام اداروں کی عزت بحیثیت پاکستانی سب پر لازم ہے۔ تھرکول پاکستان کیلیے ایک بہت بڑی خوشخبری ہے، ڈاکٹر ثمر مبارک کا کہنا ہے کہ ہم 200 ارب بیرل ڈیزل تھرکول سے حاصل کر سکتے ہیں۔

مردان ہاؤس میں انھوں نے اے ین پی سندھ کے صدر اور سینیٹر شاہی سید اور دیگر رہنمائوں سے ملاقات کی۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ، وفاقی وزیر پیٹرولیم ڈاکٹر عاصم حسین، اے این پی کے صوبائی وزیر امیر نواب خان اور اے این پی کے صوبائی جنرل سیکریٹری بشیر جان و دیگر بھی موجود تھے، وزیراعظم نے اے این پی کے وفد سے ملاقات کی اور مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا، عوامی نیشنل پارٹی کے رہنمائوں نے اپنے تحفظات سے بھی وزیراعظم کو آگاہ کیا۔

سوئس عدالتوں کے خط کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر وزیراعظم نے کہا کہ یہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے اس لیے بات نہیں کر سکتا، مڈل کلاس کا سیاسی کارکن ہوں جہاں بھیجیں گے چلا جائوں گا۔ وزیراعظم نے مسلم لیگ (فنکشنل) کے سربراہ پیرصبغت اللہ راشدی کی رہائش گاہ پر ان کی بہن کے انتقال پر ان سے تعزیت کی۔ مسلم لیگ فنکشنل کے رہنما امتیاز شیخ نے بتایاکہ سیاسی امور پر زیادہ بات چیت نہیں ہوئی ۔ ہم نے وزیراعظم کو پانی سے گاڑی چلانے کی کٹ تیار کرنے والے آغا وقار کو اپنا تجربہ ثابت کرنے کیلیے موقع دینے اور حکومتی سرپرستی کیلیے کہا جس پر وزیراعظم نے وزیر پیٹرولیم کو ہدایت کی کہ آغا وقار کو ایک سی این جی اسٹیشن لگا کر دیا جائے تاکہ وہ اپنا تجربہ ثابت کرے۔

دریں اثناء وزیر اعظم نے پاکستان اسٹیٹ آئل اور پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کی مفاہمتی یاد داشت پر دستخط کی تقریب میں شرکت کی۔ وزیر اعظم کی ہدایت پر پی ایس او اور پی این ایس سی نے مفاہمتی یاد داشت پر دستخط کیے۔ پی ایس او کے ایم ڈی یحیٰ نسیم میر اور پی این ایس سی کے چیئرمین ایڈمرل (ر) سلیم احمد مینائی نے مفاہمتی یاد داشت پر دستخط کیے۔علاوہ ازیں وزیراعلیٰ سندھ کی طرف سے افطار ڈنر کے موقعے پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمینٹ اہم ادارہ ہے جو عوام کے منتخب اراکین پر مشتمل ہے، تمام اداروں کو حدود میں کام کرنا چاہیے۔

انھوں نے واضح کیا کہ پارلیمینٹ کے سوا کوئی دوسرا ادارہ ایسا نہیں جو 18کروڑ افراد کا نمائندہ ہو۔ یہ جمہوریت ہم سب نے قربانیوں کے بعد حاصل کی اور اس کی حفاظت بھی ہم ہی کرینگے۔ اتحادی جماعتیں 5سال کی مدت مکمل کرکے پاکستان کی سیاست کی نئی تاریخ رقم کریں گے۔ اس سے قبل وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے خطبہ اسقبالیہ پیش کرتے ہوئے وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا کہ انھوں نے تھر کول منصوبے میں دلچسپی دکھائی۔ آج ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے تفصیلی بریفنگ دی اور تجرباتی بنیادوں پر دکھایا کہ گیس نکالی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ وہ صدر مملکت ، وزیراعظم ، الطاف بھائی ، اسفند یار ولی اور پیر صاحب پگاڑہ کو نہیں ہے بلکہ یہ خطرہ عوام کو ہے۔ اس سے قبل شہید بے نظیر بھٹو کے ایصال ثواب کیلیے فاتحہ پڑھی گئی۔