280 ارب نہ ملے تو بجلی بحران ختم نہیں ہوگا وزارت پانی و بجلی

غیراعلانیہ لوڈ شیڈنگ نہ کریں تو بھارت کی طرح نظام مفلوج ہوجائیگا، بریفنگ


APP/Numainda Express August 10, 2012
قائمہ کمیٹی نے واپڈا کا پرانا نظام بحال کرنے پر رپورٹ طلب کرلی،غیراعلانیہ لوڈ شیڈنگ نہ کریں تو بھارت کی طرح نظام مفلوج ہوجائیگا، بریفنگ

SHAHDADKOT: پبلک اکائونٹس کمیٹی میں وزارت پانی و بجلی نے کہا ہے کہ بجلی کی طلب زیادہ ہونے پر غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ نہ کریں تو بھارت کی طرح مکمل بریک ڈائون ہو سکتا ہے، پاور سیکٹر میں سالانہ 104 ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے، ملک کی خراب مالی حالت کی وجہ سے حکومت 280 ارب روپے کی پوری سبسڈی نہیں دے سکتی، صنعتکار پیسے دے کر بلا تعطل بجلی لے رہے ہیں، اگر 280 ارب روپے بروقت نہ ملے تو بجلی کے بحران کا خاتمہ ممکن نہیں ہو گا جب کہ پی اے سی نے فیصلہ کیا کہ عید کے بعد خصوصی اجلاس میں وزارت پانی و بجلی سے تفصیلی بریفنگ لی جائے گی۔

پبلک اکائونٹس کمیٹی کا اجلاس پی اے سی کے چیئرمین ندیم افضل چن کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہائوس میں ہوا۔ کمیٹی کے رکن میاں ریاض حسین پیرزادہ نے کہا کہ بائیس بائیس گھنٹے بجلی کی لوڈ شیڈنگ ہے مگر بل ویسے ہی آ رہے ہیں۔ نور عالم خان نے کہا کہ ان کے علاقے میں 18 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ہے مگر ان کا بجلی کا بل 50 ہزار آ رہا ہے۔ ندیم افضل چن نے وزارت پانی و بجلی کو تجویز دی کہ ڈسکوز (بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں) کا نظام ختم کر کے واپڈا کا پرانا نظام بحال کیا جانا چاہیے۔

وزارت پانی و بجلی کے سیکریٹری ظفر محمود نے اعتراف کیا کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں جعلی اور زائد بلنگ کرتی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ڈسکوزکے بجٹ کا ریکارڈ وزارت پانی و بجلی کے پاس نہیں ہوتا۔ چیئرمین پی اے سی نے کہا کہ عید کے بعد غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ، زائد اور جعلی بلنگ کے معاملے پر وزارت پانی و بجلی سے خصوصی اجلاس میں تفصیلی بریفنگ لی جائے گی۔

نیشنل پاور کنٹرول سسٹم کے سربراہ مسعود احمد نے بتایا کہ سسٹم کو مکمل مفلوج ہونے سے بچانے کیلیے غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کی نوبت آتی ہے۔آڈیٹرز نے کمیٹی کو بتایا کہ سابق وفاقی وزیر بجلی و پانی لیاقت جتوئی کی جانب سے صوابدیدی فنڈز کے اجراء کی دستاویزات موجود نہیں ہیں۔ جس پر ہدایت کی گئی کہ معاملے کی تفتیش کرکے 10 روز میں رپورٹ دی جائے۔