بیل آئوٹ پروگرامزکے لیے صدرکی توثیق ضروری قرار

کیانی ضمانت دیں قرض یا امداد کی رقم اسی پروگرام پرخرچ ہوگی ،آئی ایم ایف


Online August 10, 2012
کیانی ضمانت دیں قرض یا امداد کی رقم اسی پروگرام پرخرچ ہوگی ،آئی ایم ایف۔ فوٹو ریوٹرز

KARACHI: آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے مستقبل میں بیل آئوٹ پروگرامز کیلیے وزیرخزانہ کے علاوہ صدرمملکت کی توثیق کوضروری قراردے دیاجبکہ آرمی چیف جنرل اشفاق پرویزکیانی سے درخواست کی ہے کہ وہ اصلاحات پر عملدرآمد یقینی بنوائیں۔

ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ناموزوں اصلاحات اوروسائل کے استعمال سے متعلق خدشات کی بنیاد پراب آئی ایم ایف چاہتا ہے کہ صدر پاکستان کسی بھی نئے بیل آئوٹ پروگرام کی توثیق کریں ۔آئی ایم ایف کی 11.3ارب ڈالر کے نئے بیل آئوٹ پروگرام کے لئے پوسٹ ایویلیوشن ڈرافٹ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں ضروری اصلاحات پرعملدرآمد کے لئے اعلی سطح کی سرگرم سیاسی حمایت کی ضرورت ہوتی ہے۔اس سے قبل پاکستان اور دیگرممالک میں ہمیشہ سے وزارت خزانہ کے سیکرٹری یا وزیر خزانہ کے دستخطوں کے ساتھ آئی ایم ایف اپنے پروگراموں کو جاری کرتی تھی۔

یہ پہلی بار ہوگا کہ پاکستان کے سربراہ مملکت ان پروگراموں کی دستاویزات پردستخط کرینگے۔ رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف وفد نے بتایا کہ انہوں نے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی سے بھی غیر رسمی ملاقات کی تھی اوران سے اس بات کی یقین دہانی کرانے کی خواہش کااظہار کیاکہ وہ اسکی ضمانت دیں کہ قرض یا امداد کی رقم اسی پروگرام پرخرچ ہوگی ۔

مقبول خبریں