صندوق میں بندوق ہے بندوق میں گولی
ٹھیکیدار ، انجنیئرز اور معمار پہنچ چکے ہیں ، صرف مزدوروں کے آنے کا انتظار ہے
PESHAWAR:
کیا کمال کی چیز ہے، یہ چھوٹا سا چوکور سا اور کالا سا صندوق جیسے '' ٹی وی ''کہتے ہیں ،کیا ہے جو اس میں نہیں ہے خاص طور '' امراض '' کے لیے تو اس سے بڑا ڈاکٹر ، حکیم اور طبیب نہ اس سے پہلے کبھی پیدا ہو ا تھا نہ ہے اور نہ ہوگا ۔ بڑے بڑے ڈاکٹروں کی لمبی فیسوں سے اس نے لوگوں کو ایسی نجات دلائی ہے جیسے ایک ٹوٹھ پیسٹ نے دانتوں کو ہر بیماری سے نجات دلائی ہوئی ہے۔ پرانے زمانوں میں گھر کا حکیم ، گھریلوں ڈاکٹر ، اور دیہاتی ڈاکٹر جیسی کتابیں ہوا کرتی تھیں لیکن اس جادوئی اور حکیمی صندوق نے سب کو بے روز گار کر دیا ہے ۔
کچھ بھی کرنے آنے جانے اور پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، پوری سو بیماریوں سے نجات دلانے کے لیے '' صابن '' کی صرف ایک ٹکیہ کافی ہے۔ لگ بھگ اتنی ہی بیماریوں کا ذمے دار ٹوتھ پیسٹ ہو گیا اور اگر برش بھی ساتھ کر دیجیے تو دانت اور آنتوں کی ساری بیماریاں تو بھاگیں ہی، ہو سکتا ہے کہ دانتوں اور آنتوں سے بھی نجات دلا دے ۔ کہ نہ رہے بانس اور نہ بجے بانسری۔ اب انسان صرف دو پائے کا جانور ہے ،کوئی ٹرک تو نہیں کہ دو سو سے زیادہ بیماریاں اس کی سواریاں ہوں لیکن اگر بالفرض ان دو ڈھائی سو بیماریوں سے بھی زیادہ کچھ مہمان ٹائپ کی بیماریاں ہوں تو بھی فکر نہیں ہے ۔ ہمارا تو خیال ہے کہ ہمیں اس کے سامنے بیٹھ کر ہر دم گانا چاہیے کہ ۔
سب کچھ خدا سے مانگ لیا تجھ کو مانگ کر
اٹھتے نہیں ہاتھ میرے اس دعا کے بعد
ہاں یاد آیا یہ تو جسمانی بیماریوں کی بات ہو گئی، کچھ ذہنی امراض بھی لاحق ہو سکتے ہیں جسے لیڈر ، سرکاری محکمے اور منتخب نمایندے وغیرہ ۔ بلکہ کچھ لوگوں کا تو خیال ہے جو یقین سے کسی طرح بھی کم نہیں کہ جو کو ئی اس وقت اور اس دور میں بھی پاگل نہیں ہوا وہ یقینا پا گل ہے اور یہ دور جناب قائد عوام فخر ایشیاء معمار پاکستان بلکہ معمار نیا پاکستان کے ورود مسعود سے شروع ہو چکا ہے بلکہ آثار ایسے ہیں کہ شاید کوئی نیا کنٹریکٹر آف کنسٹریکشن اس نئے پاکستان کو مزید '' نیا '' بلکہ '' نویلہ '' کردے۔
ٹھیکیدار ، انجنیئرز اور معمار پہنچ چکے ہیں ، صرف مزدوروں کے آنے کا انتظار ہے۔ہاں تو ہم ذہنی امراض کی بات کر رہے تھے، ان امراض کا علاج بھی اس جادوئی ڈبے میں موجود ہے جو ٹاک شوز اور بیک وقت آٹھ دس ماہرین کے بولنے پر مشتمل ہوتا ہے جس سے ذہنی امراض تو ایک ہی ڈوز میں چلے جاتے ہیں لیکن اگر کوئی چاہے تو علاج جاری رکھ کر فساد کی اس جڑ یعنی ذہن یا دماغ سے بھی مکتی حاصل کر سکتا ہے ۔مطلب یہ کہ چنتا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں، تھا جس کا انتظار وہ شاہکار آچکا ہے اور تقریباً ہر گھر میں پہنچ بھی چکا ہے، تمام انسانی امراض کا علاج آپ سے ایک بٹن کے فاضلے پر، دبا ئیے اور ہٹے کٹے ہو جائیے۔کبھی کبھی ہمیں ایک اور خیال آتا ہے جو زیادہ باوثوق تو نہیں ہے، آپ سے شیئر کرنے میں کوئی برائی بھی نہیں ہے، وہ '' پنڈورا کے بکس '' والی کہانی تو آپ نے سنی ہی ہو گی، چلیے ممکن ہے سب نے نہیں سنی ہو۔
اس لیے موٹا موٹا دہرائے دیتے ہیں۔ پنڈورا نام کی ایک عورت یونان میں ہوا کرتی تھی جو چندے آفتاب اور چندے مہتاب تو تھی ہی لیکن ساتھ ہی ایک اور خوبی سے بھی آراستہ تھی یعنی کمال درجے کی احمق تھی جو حسینوں کے لیے بمثال '' زیور '' کے ایک خوبی ہے، بزرگوں نے عورتوں کی کچھ اور خوبیوں کا بھی تذکرہ کیا ہے۔ ایک نہایت ہی دانا و بینا بزرگ جو بمقام مملکت اللہ داد نا پرسان اب بھی بقید حیات ہے یا حیات اس کی قید میں ہے، حضرت علامہ بریانی عرف برڈ فلو ماہر تعویزات و عملیات و ازواجیات ۔ ان کا کہنا ہے کہ گونگی اور بہری عورت شوہر کے لیے نعمت عظمیٰ ہوتی ہے لیکن کچھ اور دانشوروں نے حماقت کو ایک '' زیور '' کا درجہ دیا ہوا ہے۔
اور یہ '' پنڈورا '' نام کی عورت اس زیور سے مکمل طور پر آراستہ بلکہ پیراستہ بھی تھی ، خود یونانی علمائے لغت نے اس لفظ '' پنڈورا '' کے معنی '' سب کچھ کا تحفہ '' ۔ تمام دیوتاؤں نے کوئی نہ کوئی حسن کا تحفہ اسے دیا ہوا تھا۔یہ تحفہ دو ٹائی ٹان بھائیوں مراپی متھیس اور پرومتھیس کو دیا گیا تھا جو اصل میں دیوتاؤں اور خاص طور صدر یا چیئر مین دیوتا زیوس کی نظر میں '' بلیک لسٹ '' تھے اور انسانوں سے ہمدردی رکھتے تھے۔ روئے زمین پر ایسی کسی بیماری نے جنم لیا ہی نہیں جس کا علاج اس ''ڈبے '' میں نہ ہو بلکہ ہم تو حیراں ہیں کہ اس کے ہوتے ہوئے دنیا بھر کے اسپتال اور کلینک دوا ساز کارخانے وغیرہ بند کیوں نہیں ہوئے ہیں اور ڈاکٹر حکیم اور معالج لوگ بھوکوں مرکیوں نہیں ہو چکے ہیں۔البتہ اس باکس میں امید نہیں ہے، شاید مر کھپ گئی ہو گی یا اس کی دوسری ٹانگ بھی توڑ دی گئی ہو، بانجھ تو وہ پیدائشی تھی۔ شاید وہ تو آسمانی اور زمینی بلاؤں کا مقابلہ کر سکتی، انسان اور سیاسی بلاؤں سے اسے نپٹنے کا تجربہ ہی نہیں تھا ۔