کراچی سٹی کورٹ مال خانے میں آتشزدگی

سرکاری ریکارڈ کو تلف کرنے میں یہ واردات خاصی معنی خیز ہوتی ہے۔


Editorial April 13, 2018
سرکاری ریکارڈ کو تلف کرنے میں یہ واردات خاصی معنی خیز ہوتی ہے۔ فوٹو: ایکسپریس

PESHAWAR: کراچی میں سٹی کورٹ کے مال خانے میں منگل اور بدھ کی درمیانی شب آگ لگنے کے واقعے نے انتظامی غفلت اور لاپرواہی کا ایک اور پہلو منکشف کیا ہے۔

واقعہ کا تشویشناک پہلو صرف خوفناک آتشزدگی اور تمام سامان کا جلنا ہی نہیں بلکہ کیس پراپرٹی کے ضایع ہونے سے سب سے زیادہ فائدہ سنگین جرائم میں ملوث ملزمان کو ہو گا۔ اس پہلو کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ پولیس کے محکمے میں بھی کئی کالی بھیڑیں موجود ہیں جو مجرموں کو فائدہ پہنچا سکتی ہیں، جب کہ سٹی کورٹ مال خانے میں آتشزدگی کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔

اس سے قبل بھی 3 بار آتشزدگی کے واقعات ہو چکے ہیں، 3 سال قبل بھی مال خانہ میں شدید دھماکوں کے بعد آتشزدگی کے باعث ضلع وسطی اور غربی کا تمام ریکارڈ جل گیا تھا، جب کہ مال خانے میں چوری کی کئی وارداتیں بھی ہو چکی ہیں جس میں پولیس اہلکار شامل تھے جنھیں رنگے ہاتھوں گرفتار بھی کیا گیا۔

ان حقائق کے تناظر میں مذکورہ واقعہ کو شارٹ سرکٹ کا شاخسانہ کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا بلکہ واقعے کی مکمل اور فول پروف تحقیقات کی ازحد ضرورت ہے تاکہ اصل حقائق منظر عام پر آ سکیں۔

دوسری جانب یہ امر بھی قابل افسوس ہے کہ ٹیکنالوجی کے اس دور میں بھی سٹی کورٹ کے مال خانے کا ریکارڈ مینوئل طریقے سے درج کیا جاتا ہے، کیس پراپرٹی کے ریکارڈ، اہم دستاویزات اور کیس سے متعلق اندراجات کے لیے کوئی کمپیوٹرائزڈ نظام موجود نہیں ہے۔ تحقیقات میں یہ نکتہ بھی مدنظر رکھا جائے کہ کراچی پورٹ ٹرسٹ فائر ڈپارٹمنٹ کے انچارج کے مطابق آتشزدگی کی اطلاع ڈیڑھ گھنٹہ تاخیر سے دی گئی، اگر سٹی کورٹ کی انتظامیہ بروقت اطلاع دیتی تو اتنا نقصان نہ ہوتا۔

کراچی سمیت ملک کے دیگر شہروں کی سرکاری عمارتوں میں بھی اس سے قبل آتشزدگی کے کئی واقعات پیش آ چکے ہیں جن میں سرکاری دستاویزات اور ریکارڈ تلف ہو گیا، ماضی میں لاہور میں ایل ڈی اے کے مرکزی دفتر، کے ڈی اے کے دفاتر میں بھی آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا تھا۔ سندھ سیکریٹریٹ میں آتشزدگی کی واردات ہوئی تھی۔

سرکاری ریکارڈ کو تلف کرنے میں یہ واردات خاصی معنی خیز ہوتی ہے۔ کیونکہ آگ کے باعث تخریب کاری کے ثبوت بھی مٹ جاتے ہیں۔ اس سے قبل پیش آنے والے واقعات کو شارٹ سرکٹ کا بہانہ بنا کر کیس ختم کر دیا گیا تھا لیکن کراچی بار ایسوسی ایشن سمیت مختلف فورمز پر اس جواز کو مسترد کرکے تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

آتشزدگی کا حالیہ واقعہ تخریب کاری ہو یا حادثہ، دونوں صورتوں میں انتظامیہ کی غفلت اور لاپرواہی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ صائب ہو گا کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کر کے ذمے داران کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔