ملکی سالمیت کے دشمنوں سے خبردار رہنے کی ضرورت

ہم اس سچ سے نظریں نہیں چرا سکتے کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف ابھی بہت کچھ کیا جانا باقی ہے۔


Editorial April 14, 2018
ہم اس سچ سے نظریں نہیں چرا سکتے کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف ابھی بہت کچھ کیا جانا باقی ہے۔ فوٹو: فائل

DI KHAN: زندہ قومیں دفاع وطن کے لیے جان قربان کرنے والے شہدا کو ہمیشہ یاد رکھتی ہیں،کیونکہ یہ جری اور بہادر محافظ وطن ہوتے ہیں جو اپنا آج ہمارے کل کے لیے قربان کردیتے ہیں ۔ اسی تناظر میں جنرل ہیڈکوارٹرز میں تقسیم اعزازات کی تقریب منعقد ہوئی۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردوں کو اٹھا کر باہر پھینک دیا ہے ، تاہم دہشتگردی کے خلاف ابھی جنگ جاری ہے، پاکستان مشکل حالات سے باہر نکل آیا ہے، آہستہ آہستہ ترقی اور امن کی جانب گامزن ہے ۔ سپہ سالار افواج پاکستان نے حقیقی صورتحال انتہائی سادہ، پراثر اور درد مندانہ الفاظ میں قوم کے سامنے بیان کی ہے ۔ عوام اور افواج پاکستان نے ملک کر دہشت گردی کے خلاف ایک طویل اور صبر آزما جنگ لڑی ہے۔

ساٹھ ہزار سے زائد جانوں کا نذرانہ دے کر دہشتگردی کا مقابلہ مردانہ وارکیا ہے ۔ بلاشبہ ہمیں ان قابل فخر جوانوں پر ناز ہے جنھوں نے جام شہادت نوش کیا ہے اور ملکی سالمیت پر آنچ نہیں آنے دی ہے ۔ سیکیورٹی فورسز اور عوام کے اتحاد نے دہشت گردوں کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملانے میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔ اب خوف کے بادل چھٹ رہے ہیں، خوف ودہشت کی فضا ختم ہورہی ہے، ایک نئی صبح کا آغاز ہوچکا ، ہم بحیثیت قوم خوشحالی کی شاہراہ پرگامزن ہیں۔ایک روشن مستقبل پاکستان کا منتظر ہے۔

دوران خطاب جنرل قمرجاوید باجوہ نے مزید کہا کہ فاٹا میں ابھی امن آیا توکچھ لوگوں نے نئی تحریک شروع کردی ہے لیکن جب تک قوم فوج کے پیچھے کھڑی ہے، دُشمن کبھی اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوںگے، کچھ لوگ اندر اور باہر سے پاکستان کی سالمیت کے درپے ہیں۔

اس ضمن میں سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں کا موقف ہے کہ نئی تحریک شروع کرنے والے نوجوانوں کی شکایت سنی جائیں ان سے مکالمہ کرکے انھیں مذاکرات کی میز پر لایا جائے یہ ہمارے اپنے ہیں ، امید ہے فوجی اور سیاسی قیادت اس تحریک کے حوالے سے ایک پیج پر ہوں گی ۔

ہم اس سچ سے نظریں نہیں چرا سکتے کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف ابھی بہت کچھ کیا جانا باقی ہے اور افغان مہاجرین کے روپ میں چھپے دہشت گردوں سے خطرہ بھی اپنی جگہ موجود ہے، یہ وقت امن و استحکام کے لیے متحد ہوکرآگے بڑھنے کا ہے، یقینا پاک فوج متاثرہ علاقوں میں سماجی و اقتصادی ترقی کے جو کام کررہی ہے اس سے فاٹا کے عوام جلد ہی قومی دھارے میں شامل ہوجائیں گے ۔