ایس ای سی پی بااثراسٹاک بروکرکیخلاف ڈٹ گیا

شیئرپرائسزکے مصنوعی اتارچڑھائو میں ملوث بروکرزکے دبائوکوبالائے طاق رکھ کراقدامات کریگا


Business Reporter April 12, 2013
جہانگیر صدیقی اینڈ کمپنی ودیگر فرمزکے معاملات کی تحقیقات کررہے ہیں، ترجمان۔ فوٹو : فائل

سیکیورٹیز اینڈایکس چینج کمیشن آف پاکستان نے بااثراسٹاک بروکرز کے خلاف ڈٹ کر مقابلہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا ہے وہ بحیثیت ریگولیٹری اتھارٹی سرمایہ کاروں کے تحفظ، مارکیٹ کی بہتری کے لیے مارکیٹ میں حصص کی قیمتوں میں غیرحقیقی اتارچڑھائو میں ملوث بااثر اور بڑے اسٹاک بروکرز کے دبائو کو بالائے طاق رکھ کر اقدامات بروئے کار لائے گا۔

جمعرات کو مقامی ہوٹل میں ایس ای سی پی کے ترجمان عمران غزنوی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ ایس ای سی پی انتظامیہ، قومی ادارے کو مخصوص میڈیا گروپ کے ذریعے بدنام کرنے کی مزموم کوششوں کی مذمت کرتی ہے اوراس بات کیلیے پرعزم ہے کہ بروکرزمافیا کے دبائو کو بالائے طاق رکھ کرمارکیٹ پر اثر انداز ہونے والے بڑے مگرمچھوں کے خلاف تادیبی اقدامات، تحقیقات جاری رکھی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ ایس ای سی پی کی خلاف ان کمپنیوں کی جانب سے منفی پروپیگنڈہ مہم کا آغاز کیا گیا ہے جن کے خلاف قانون کی خلاف ورزیوں پرحال ہی میں ایکشن لیا گیا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ایس ای سی پی حکام جہانگیر صدیقی اینڈ کمپنی کے حالیہ سالانہ اجلاس عام، نان ایگزیکٹوڈائریکٹر علی صدیقی کوایڈوائزری فیس کی مد میں 43 کروڑ روپے کی ادائیگی سمیت دیگر منسلک کمپنیوں کے معاملات کی تحقیقات کررہی ہے جن کی حتمی رپورٹس جلد ہی منظر عام پر لائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایس ای سی پی کے لیے اقلیتی شیئرہولڈرز کی زیادہ اہمیت ہے، اقلیتی شیئرہولڈرز کا مطلب یہ نہیں کہ اکثریتی شیئرہولڈرز من مانے فیصلے کرنے کے حقدار ہیں۔



انہوں نے کہا کہ میڈیا کے ایک مخصوص گروپ کوایس ای سی پی کے خلاف پروپیگنڈہ میں استعمال کیا جا رہا ہے، دسمبر2012 سے ہی ایس ای سی پی کے چیٔرمین محمد علی کے خلاف پروپیگنڈہ مہم میں اس وقت شدت پیدا ہوئی جب انھوں نے تمام بروکریج ہاوسزکا آن سائٹ آڈٹ کرانے کا اعلان کیا، چیئرمین ایس ای سی پی کے خلاف جاری پروپیگنڈے کا مقصد صرف اورصرف ایس ای سی پی کی جانب سے ان بڑی کمپنیوں اور بروکرز کے خلاف کیے گئے اقدامات میں رکاوٹ ڈالنا ہے۔

چیئرمین ایس ای سی پی کے خلاف جاری پروپیگنڈہ مہم کے سلسلے میں ہی ایک میڈیا گروپ میں شائع ہونے والی خبروں کے ذریعے ان پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ بطور چیئرمین بھی غیراعلانیہ طورپرکاروبار سے منسلک رہے ہیں جس پرایس ای سی پی یہ وضاحت کرتی ہے کہ چیئرمین محمد علی 2005 میں میسرز آر آئی نامی کمپنی میں15 فیصدکے شراکت دار تھے، بعد ازاں4 اپریل2006 میں انہوں نے کمپنی میں اپنا15 فیصد حصہ قانونی معاہدے کے ذریعے فروخت کرتے ہوئے خریدارکو پاور آف اٹارنی بھی منتقل کر دی تھی، بعدمیں وہ کچھ عرصے بیرون ملک بھی چلے گئے۔

شراکت داری کے فروخت کا معاہدہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ایس ای سی پی کا چیرمین تعینات ہوتے وقت ان کا اس کمپنی سے کوئی تعلق نہیں تھا، وہ ایس ای سی پی کے آرڈیننس کے مطابق سالانہ رپورٹ میں اپنے تمام اثاثہ جات اور مفادات کا اعلان کر چکے ہیں، ایس ای سی پی یہ بھی واضح کرنا چاہتا ہے کہ ایس ای سی پی کارپوریٹ سیکٹر کا ریگولیٹرہے اور اس کا ٹیکس معاملات سے کوئی تعلق نہیں جوواضح طور پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے دائرہ کار میں آتے ہیں لہذا ایس ای سی پی کا چیئرمیں کسی بھی کمپنی کو ٹیکس معاملات میں رعایت دینے کا اختیار نہیں رکھتا۔