ایک سیاستدان جس کے سینے میں دل بھی ہے

ہمارے سیاستدانوں اور نیم سیاستدانوں نے گزشتہ دور میں کیا کمایا ہے اور حرام کی اس دولت کی زکوٰۃ بھی نہیں دی۔


Abdul Qadir Hassan April 12, 2013
[email protected]

ایشیا کے اس بے پناہ ہنگامہ خیز سیاسی خطے کے ایک برگزیدہ سیاستدان نے کبھی کہا تھا کہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا، ان کی یہ بات ایک سیاسی محاورہ بن گئی اور سیاست کی دنیا میں جب بھی دلی خواہشات اور تعلقات کی بے حرمتی اور خلاف ورزی ہوتی ہے تو یہ محاورہ فوراً ذہن میں تازہ ہو جاتا ہے۔ یہ بات مولانا ابو الکلام آزاد سے منسوب ہے۔

مولانا نے اپنے سیاسی دور میں اس خطے کے بڑے بڑے جغادری سیاستدانوں سے رابطہ رکھا اور ان کے ساتھ سیاسی معاملات کیے اور انھیں ان طویل سیاسی رابطوں اور معاملات سے جو سبق ملا وہ یہ تھا کہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا۔ اس کی وضاحتیں بہت کی گئیں کہ دل کی جگہ صرف مفادات ہوتے ہیں اور وقتی سیاسی ضروریات، بہر کیف اس محاورے سے انکار نہیں کیا جا سکا۔

مجھے یہ بات ایک خوشحال سیاستدان کو دیکھ کر یاد آئی جس کی خصوصی کوششوں سے ایک اسپتال قائم ہوا ہے اور بحمداللہ بخوبی چل رہا ہے۔ شالیمار اسپتال لاہور اس شہر کے شہریوں کی صحت کی ضروریات پوری کرتا ہے۔ یہی شخص اپنے کالج کی ایسوسی ایشن کو بھی بھاری امداد دیتا ہے جب کبھی حکومت اسے کسی بڑے ادارے کی سربراہی سونپ دیتی ہے تو وہ اپنے خرچ پر یہ فرض انجام دیتا ہے اور اپنے خرچ پر قیام کرتا ہے۔

میں نے اسے اس ایثار اور فراخدلی کے ساتھ اپنے فرائض ادا کرتے ہوئے پی آئی اے اور اس سے پہلے زرعی بینک میں دیکھا۔ عام زندگی میں اس کی فراخدلی بہت مشہور ہے اور وہ بے داغ کردار رکھتا ہے۔ 63/62 والا لیکن حالات کبھی کبھار اسے سیاست کی انتہائی پرخار وادی میں دھکیل دیتے ہیں اور وہ مجبوراً لاہور میں قیام کے باوجود گجرات جا کر سیاست کرتا ہے اور چوہدری صاحبان کے سیاسی دارالحکومت میں مداخلت کرتا ہے جہاں سے اس کا بھائی چوہدری احمد مختار اس مرکز کے بڑے کو ہرا بھی چکا ہے۔

گزشتہ دنوں اسے میاں نواز شریف بہلا پھسلا کر لے گئے وہ سیاست میں اپنے حقیقی بھائی کے خلاف ہے اور اس کی وجہ بیان نہ کریں تو بہتر ہے اگرچہ یہ اس کی دستار میں ایک اور قلغی ہے۔ اپنے سینے میں جیتا جاگتا دل رکھنے والا یہ سیاستدان اور بلا کا مخیر چوہدری احمد سعید ہے۔ سروس انڈسٹریز والا۔

مجھے اس کی یاد اس کے اسپتال شالیمار کی اس تقریب سے تازہ ہوئی جو اس نے اپنے دوسرے ساتھیوں کے ہمراہ اس اسپتال کے لیے سرمایہ جمع کرنے کی غرض سے منعقد کی اور اپنی زندگی کا ایک روشن پہلو ایک بار پھر ظاہر کیا چنانچہ میں اس سیاستدان کو دیکھ کر کہتا ہوں کہ یہ وہ سیاستدان ہے جس کے سینے میں دل بھی ہے اور اگر مولانا ابو الکلام آزاد اسے دیکھ لیتے تو شاید یہ مشہور عالم فقرہ کہنے میں کچھ تامل کرتے۔

ہم پاکستانیوں نے اب تو صاف الفاظ اور خبروں میں یہ دیکھا ہے کہ ہمارے سیاستدانوں اور نیم سیاستدانوں نے گزشتہ دور میں کیا کمایا ہے اور حرام کی اس دولت کی زکوٰۃ بھی نہیں دی۔ ان سب کے سینوں میں دل نہیں پتھر تھا اور یوں لگتا ہے کہ ایسے ہی سیاستدان تھے جن سے مولانا کا واسطہ پڑا تھا، ان میں کوئی چوہدری احمد سعید نہیں تھا جب کہ یہ آج کے مقابلے میں ایک اچھا زمانہ تھا اور اس دور کے لوگ اچھے تھے۔

اس سے تعلق رکھنے والے جو سیاستدان ہمارے حصے میں بھی آئے ان کی اکثریت بلکہ سبھی لوگ دیانت دار تھے۔ گورنر نشتر کا بیٹا سائیکل پر اپنے اسکول جاتا تھا۔ اور قائداعظم مہمانوں کے جانے کے بعد جب اپنے عملے سے ان کے اخراجات کا حساب لیتے تو پوچھتے کہ مہمان تو تین تھے یہ چوتھا انڈا کس کے لیے تھا۔ قائد اعظم کی زندگی کی مثال تو کیا رہی، ان کے وزیر اعظم نوابزادہ لیاقت علی خان کا حال بھی یہی تھا اور ان کے دوسرے وزراء بھی بس گزر بسر کرتے تھے اور کابینہ کے اجلاس سے فارغ ہو کر چائے گھر جا کر پیتے تھے کیونکہ قائد کا حکم تھا کہ سرکاری خزانہ وزیروں کے چائے پانی کے لیے نہیں۔

اسکندر مرزا جیسے شخص کے وقت تک یہی حالت رہی اور وہ اپنی معزولی کے بعد لندن میں ملازمت کرتے رہے۔ یہ سلسلہ تو ایوب خان کے دور سے شروع ہوا جو اب عروج پر پہنچ گیا ہے اور سرکاری اداروں کی رپورٹ ہے کہ خزانہ واقعی خالی ہے اور کہیں سے قرض ملنے کا انتظار ہے۔ اب پاکستان کو نئی زندگی دینے کے لیے الیکشن ہو رہے ہیں، دیکھیے کون آتا ہے نئی تاریخ بناتا ہے یا پرانی تاریخ کو زندہ کرتا ہے، نہیں معلوم ہمارے ووٹروں نے ہماری قسمت میں کیا لکھا ہے اور وہ کس نام کے آگے مہر لگاتے ہیں۔ ہمارا فیصلہ تو اسی مہر پہ ہے یا احمد سعید جیسے سیاستدانوں پر جو اب شاید کبھی نہ آئیں۔

مقبول خبریں