دورۂ برطانیہ ’’خفیہ آنکھ‘‘ سایہ بن کر پلیئرز کی نگرانی کریگی

سیکیورٹی منیجرکے ساتھ ایک اور’’خاص‘‘آفیشل کوبھی بھیجنے کا فیصلہ،اکیلے کسی پلیئرکو باہرجانے کی اجازت نہ ہوگی.


سلیم خالق April 13, 2013
سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس کے استعمال پر پابندی، انٹرنیٹ سے کالز کرنے والے سافٹ ویئرز کا توڑ کرنے کیلیے بھی اقدامات جاری،ضابطہ اخaاق تیارکرلیاگیا. فوٹو: اے ایف پی

دورہ برطانیہ میں پاکستانی ٹیم کو کسی تنازع سے بچانے کیلیے حکمت عملی تیار کرلی گئی۔

''خفیہ آنکھ'' سایہ بن کر پلیئرز کی نگرانی کرے گی، بورڈ نے سیکیورٹی منیجر کے ساتھ ایک اور ''خاص''آفیشل کو بھی بھیجنے کا فیصلہ کر لیا، وہ ہوٹل اور اسٹیڈیم سمیت جہاں بھی کھلاڑی گئے ان کیساتھ رہے گا، اکیلے کسی پلیئر کو باہرجانے کی اجازت نہ ہو گی، بس کا انتظام کر کے بورڈ خود انھیں سیروتفریح کے مواقع فراہم کرے گا، ٹور میں کھلاڑیوں کو سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس کے استعمال کی اجازت نہ ہو گی، انٹرنیٹ سے کالز کرنے والے سافٹ ویئرز کا توڑ کرنے کیلیے بھی اقدامات جاری ہیں،بورڈ نے ضابطہ اخلاق تیار کر لیا جس پر روانگی سے قبل دستخط کرائے جائیں گے۔

تفصیلات کے مطابق 2010ء کا دورئہ انگلینڈ پاکستان کرکٹ پر وہ تباہی لایا جس کے اثرات اب بھی برقرار ہیں، نہ صرف سلمان بٹ، محمد آصف اور عامر جیسے اچھے پلیئرز پابندی کا شکار ہوئے بلکہ انھیں جیل کی ہوا بھی کھانا پڑی، اس واقعے سے پاکستان کی بیحد بدنامی ہوئی اور اب بھی پلیئرز کو شک و شبہ کی نظر سے دیکھا جاتا ہے، اب گرین شرٹس آئندہ ماہ کے دوسرے ہفتے میں برطانیہ روانہ ہو رہے ہیں وہاں اسکاٹ لینڈ اور آئرلینڈ سے 2،2 ون ڈے انٹرنیشنل میچز کے بعد چیمپئنز ٹرافی میں شرکت کرنی ہے، ماضی کے واقعات سے پی سی بی کی موجودہ انتظامیہ نے سبق سیکھ لیا اور پلیئرز کو مشکوک افراد سے دور رکھنے کیلیے سخت انتظامات کر رہی ہے۔

 



گذشتہ روز اس حوالے سے تمام تفصیلات بھی طے کرلی گئیں، باخبر ذرائع نے نمائندہ ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ بورڈ کے سیکیورٹی اینڈ ویجیلنس ڈپارٹمنٹ کا ایک اہلکار تو ٹیم کے ساتھ جائے گا، اب ایک اور ''خفیہ آنکھ'' بھی تمام سرگرمیوں کو مانیٹر کرتی رہے گی، اسے ایسے کاموں کا خاصا تجربہ بھی حاصل ہے،اس فیصلے کا مقصد پلیئرز کو غلط سرگرمیوں اور ملک کو بدنامی سے بچانا ہے،یہ آفیشل اسٹیڈیم اور ہوٹل میں سائے کی طرح ٹیم کے ساتھ رہے گا، کون کس سے ملاقات کر رہا ہے، کس سے فون پر بات کی، اسے سب علم ہو گا۔

گذشتہ انگلینڈ ٹور میں ٹیم انتظامیہ نے کرکٹرز کو کھلی چھٹی دی ہوئی تھی، وہ جب چاہتے کہیں بھی چلے جاتے، مشکوک افراد انھیں بی ایم ڈبلیو کاروں پر ڈنر کیلیے لے کر گئے مگر کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگی، اس بار کسی کو اکیلے باہر جانے کی اجازت بھی نہ ہو گی، بورڈ کی جانب سے بس کرائے پر لی جائے گی جس پر پوری ٹیم کو تفریحی سرگرمیوں کیلیے جانے کا موقع ملے گا،ذرائع نے مزید بتایا کہ ٹور کے دوران کسی پلیئر کو ''ٹوئٹر'' اور ''فیس بک'' جیسی سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ کے استعمال کی اجازت نہ ہو گی، اسی طرح انٹرنیٹ کیلیے کالز کرنے والے سافٹ ویئرز ''واٹس ایپ''، ''اسکائپ''، ''وائبر'' و دیگر کے استعمال پر کنٹرول کیلیے بھی حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے۔

پی سی بی نے ٹور کیلیے ضابطہ اخلاق تیار کر لیا جس پر روانگی سے قبل کھلاڑیوں سے دستخط کرائے جائینگے۔ چیمپئنز ٹرافی آئی سی سی کا ایونٹ ہے اور اس کا اپنا اینٹی کرپشن اینڈ سیکیورٹی یونٹ بھی فعال ہو گا، کونسل اسٹیڈیم میں انٹرنیٹ کا استعمال محدود یا بالکل ختم کرنے کیلیے ایک خاص ٹیکنالوجی کا استعمال کرتی ہے۔ یاد رہے کہ پاکستانی ٹیم ایڈنبرا میں17اور19مئی کو ون ڈے انٹرنیشنل میچز میں اسکاٹ لینڈ سے مقابلہ کرے گی، آئرلینڈ سے 2 میچز23 اور 26 مئی کو ڈبلن میں ہوں گے، چیمپئنز ٹرافی میں گرین شرٹس کی مہم کا آغاز7جون کو اوول لندن میں ویسٹ انڈیز کیخلاف میچ سے ہونا ہے۔