گنے کے کاشتکاروں کے مسائل

شوگرملزمالکان نے اربوں روپے اعانت (سبسڈی) لینے کے علاوہ چینی کی برآمد پرایک اندازے کے مطابق 50 ارب روپے کمالیے۔


Editorial April 19, 2018
شوگرملزمالکان نے اربوں روپے اعانت (سبسڈی) لینے کے علاوہ چینی کی برآمد پرایک اندازے کے مطابق 50 ارب روپے کمالیے۔ فوٹو:فائل

ملک میں گنے کے کاشتکاروں کے مسائل کوئی نئے نہیں ہیں' آئے دن اخبارات میں اس حوالے سے خبریں شایع ہوتی رہتی ہیں' اب بھی گنے کے کاشتکاروں کی ادائیگیوں کے مسائل حل نہیں ہوئے۔

ایک خبر کے مطابق حکومت کی جانب سے شوگر ملز مالکان کو کاشتکاروں کے بقایاجات کی ادائیگی کے لیے چینی کی برآمد کی اجازت دیے جانے کے باوجود تاحال ادائیگیاں نہیں کی گئیں جس سے کاشتکاروں میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے بھی شوگر ملوں کے مالکان کو کاشت کاروں کو واجبات کی ادائیگی کے لیے مہلت دے رکھی ہے۔ یوں دیکھا جائے تو شوگرملزمالکان نے اربوں روپے اعانت (سبسڈی) لینے کے علاوہ چینی کی برآمد پرایک اندازے کے مطابق 50 ارب روپے کمالیے جب کہ کاشت کاروںکوتاحال ادائیگیاں نہیں کی گئیں ۔

ادھر یہ بھی شنید ہے کہ حکومت نے اب سبسڈی کم کرنے پر غور شروع کردیا ہے۔ حکومت نے بھی اعتراف کیاہے کہ ملزمالکان نے چینی کی برآمد پر اربوں روپے سبسڈی لینے کے لیے اسے گمراہ کیااورکاشت کاروں کے نام پر50ارب روپے کمالیے ۔

حکومت اب یہ بھی محسوس کررہی ہے کہ شوگرملزمالکان کسی ضابطے (ریگولیشن) کے بغیرکام کررہے ہیں وہ چاہتی ہے کہ صوبائی حکومتیں ان کی نگرانی کریں۔ پاکستان میں زرعی شعبہ زبوں حالی کا شکار ہے۔ حکومت نے حقیقی معنوں میں زراعت پر توجہ نہیں دی' ایک دو نقد آور فصلیں ہیں' ان سے بھی کسانوں کو فائدہ نہیں پہنچ رہا' گنے کے کاشتکاروں کے مسائل سب کے سامنے ہیں۔

شوگر ملز کا چونکہ خریداری کے معاملے میں بالادست ہاتھ ہوتا ہے جب کہ کسان کے پاس صرف فصل ہوتی ہے اور وہ اسے فروخت کرنا چاہتا ہے' وہ مجبور ہو کر مارکیٹ سے کم نرخوں پر بھی اپنی فصل بیچنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ گنے کے کاشتکاروں کے مسائل حل کرائے اور اس کے ساتھ ساتھ زرعی شعبے کی ترقی کے لیے بھی خاطر خواہ انتظامات کرے۔

ایک زرعی ملک کی زراعت ہی پسماندہ ہو گی تو وہ ملک کیسے ترقی کر سکے گا اور وہاں کا کسان کیسے خوشحال کہلا سکے گا۔ پاکستان کو خوشحال بنانے کے لیے سبز انقلاب لانا ناگزیر ہے۔ سبز انقلاب آئے گا تو ملک دودھ میں بھی خود کفیل ہو گا' اناج میں بھی خود کفیل ہو گا اور گوشت میں خود کفیل ہو گا۔