سبزی فروش کی بیٹی
مسز تھیچر برطانوی سیاست کا ایک نہایت متنازعہ فیہ کردار ہیں اور عرصہ دراز تک یاد رکھی جائیں گی۔
ہمارے یہاں پڑھے لکھے لوگ بھی بے دھڑک یہ کہہ دیتے ہیں کہ آخر جمہوریت کا فائدہ ہی کیا ہے۔ چند دنوں پہلے برطانیہ کی تین مرتبہ وزیراعظم منتخب ہونے والی مسز مارگریٹ تھیچر اس دنیا سے رخصت ہوئیں تو جی چاہا کہ جمہوریت کی افادیت پر سوال اٹھانے والوں سے یہ کہا جائے کہ اسی طرز حکومت میں یہ ممکن ہے کہ کسی سبزی فروش کی بیٹی ایک قدامت پرست سیاسی جماعت میں مسلسل جدوجہد کی بنا پر اپنی جگہ بنائے اور پھر دنیا کی قدیم ترین جمہوریت کی پہلی خاتون وزیر اعظم منتخب ہو۔
مسز تھیچر جو اپنے گیارہ سالہ دور اقتدار سے آج تک ' فولادی خاتون ' (آئرن لیڈی) کے نام سے یاد کی جاتی ہیں انھوں نے سرد جنگ کے انتہائی عروج کے زمانے میں امریکی صدر رونالڈ ریگن کی حمایت کی اور برطانوی سیاست کا رخ بدل دیا۔ وہ عوام میں سے تھیں لیکن ان کی عوام دشمن پالیسیوں نے برطانیہ کے مزدور طبقے کو اس حد تک ناراض کیا کہ وزارت عظمیٰ سے علیحدہ ہونے کے 23 برس بعد آج بھی محنت کش طبقات اور عام برطانوی انھیں معاف کرنے کو تیار نہیں۔ ان کے لیے 'جہنم میں جلو' اور 'تمہاری قبر میں کیڑے پڑیں' جیسے نفرت انگیز جملوں سے مختلف اخباروں کی ویب سائٹ بھری ہوئی ہیں۔
لندن، بلفاسٹ، گلاسگو اور مانچسٹر میں ان کی موت پر جشن منایا جا رہا ہے۔ شیمپین کی بوتلیں کھل رہی ہیں۔ ان سے نفرت کرنے والوں کا بس نہیں چل رہا کہ وہ ان کی قبر پر رقص کریں۔ یوں بھی ابھی وہ دفن کہاں ہوئی ہیں۔ بدھ کو ان کا جنازہ سرکاری اعزاز کے ساتھ اٹھے گا۔ اس جلوس میں ملکہ الزبتھ دوم اور ان کے شوہر بھی شرکت کریں گے۔ ان کا تابوت توپ گاڑی پر رکھا جائے گا جسے جلوس جنازہ کے لیے تربیت یافتہ گھوڑے کھینچیں گے۔ یہ خبریں پڑھ کر ان کے مخالفین کے سینے پر سانپ لوٹ رہا ہے اور وہ یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ اس جلوس پر ایک کروڑ پونڈ کی رقم کیوں خرچ کی جا رہی ہے۔ برطانوی خفیہ ایجنسیاں اس وقت سکھ کا سانس لیں گی جب ان کا تابوت قبر میں اتار دیا جائے گا۔ اس کہ وجہ یہ ہے کہ انھیں آئرش ری پبلک آرمی کے بعض چھوٹے گروہوں کی طرف سے خطرہ ہے کہ وہ کہیں اس جلوسِ جنازہ پر حملہ نہ کر گزریں۔
ان کے برسراقتدار آنے تک برطانوی حکومت مختلف اضلاع کی کوئلے کی کانوں میں کام کرنے والے کان کنوں کو برسرروزگار رکھنے کے لیے بھاری زر تلافی دیتی تھی۔ تباہ حال برطانوی معیشت پر یہ ایک بہت بڑا بوجھ تھا۔ مسز تھیچر نے قدامت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے غیر پیداواری اور فوجی اخراجات میں کٹوتی کرنے کے بجائے ملکی معیشت پر بوجھ کم کرنے کے لیے جو اقدامات کیے ان میں سے ایک بہت بڑا قدم ان کانکنوں کو ملنے والی زر تلافی کا خاتمہ تھا۔ اس کے نتیجے میں ہزار ہا کان کن بیروزگار ہو گئے۔ انھوں نے اپنی یونینوں کے ذریعے جب اس اقدام کے خلاف احتجاج کیا تو مسز تھیچر نے اس احتجاج کو اتنی سفاکی سے کچلا کہ آخر کار کانکنوں کی مزدور تنظیموں کو ہتھیار ڈالنے پڑے۔
ان کے اقدامات نے کانکنوں اور دوسرے مزدوروں پر جتنے گہرے اثرات مرتب کیے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب ٹیلی ویژن اور ریڈیو سے ان کی رخصت کے خبر نشر ہوئی تو کان کنوں کی ایک تنظیم کے موجودہ جنرل سیکریٹری ڈیوڈ ہیو نے کہا کہ ''آج ایک بڑا دن ہے۔ مسز تھیچر نے ہمیں ہٹلر سے کہیں زیادہ نقصان پہنچایا۔'' ڈیوڈ کا اشارہ دوسری جنگ عظیم میں ہونے والی اس بمباری کی طرف تھا جس میں ہر رات سیکڑوں جرمن طیارے لندن پر بم برساتے تھے۔ ہیو نے کہا ''گرمیوں میں ہماری جو سالانہ میٹنگ ہونے والی ہے اس میں ہم جشن منائیں گے کہ کانکنوں کی سب سے بڑی دشمن سے ہمیں نجات حاصل ہوئی۔''
انھوں نے سرکاری اسکولوں میں دن کے دس بجے سرکار کی طرف سے بچوں کو ملنے والے ایک گلاس دودھ پر پابندی لگا دی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت برطانیہ اس دریا دلی پر ہر سال لاکھوں پونڈ خرچ نہیں کر سکتی۔ ان کے اس حکم پر راتوں رات برطانیہ میں یہ نعرہ ہر زبان پر تھا کہ ''مسز تھیچر ملک اسنیچر'' بچوں کے منہ سے دودھ چھیننے والی۔
وہ بیسویں صدی کی آخری دہائیوں میں مغرب کے سیاسی منظر نامے پر نمودار ہوئیں اور اپنے 11 سالہ دور اقتدار میں انھوں نے عالمی سیاست پر اپنے گہرے اثرات مرتب کیے۔ 1982ء میں جب ارجنٹائن نے جزائر فاک لینڈ پر حملہ کر کے قبضہ کر لیا تو یہ مسز تھیچر تھیں جنہوں نے فوری طور پر برطانوی بحری بیڑے اور فوجوں کو جزائر فاک لینڈ کی طرف روانہ کیا اور دو مہینے کے اندر ارجنٹائن کی فوجوں نے ہتھیار ڈال دیے۔ دنیا کے ہر ملک میں فوجی فتح حکمرانوں کی مقبولیت میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔ یہی برطانیہ میں بھی ہوا۔ اس کے بعد انھوں نے اگلے انتخابات میں کامیابی حاصل کی، دوبارہ وزیر اعظم بنیں۔
اس کے فوراً بعد انھوں نے برٹش ٹیلی کام کی نجکاری کر دی۔ وہ امریکی صدر رونالڈ ریگن کی بہت مداح تھیں۔ 1990ء میں عراقی صدر صدام حسین کے خلاف امریکا نے اعلان جنگ کیا تو مسز تھیچر نے خلیج کی جنگ میں اپنی فوجیں عراق بھیجیں۔ کنزرویٹو پارٹی کی رہنما کے طور پر وہ تین مرتبہ برطانیہ کی وزیر اعظم رہیں اور انھوں نے اپنی سخت گیر پالیسیوں سے کبھی بھی اپنے قدم پیچھے نہیں ہٹائے۔ یورپ سے متعلق ان کی پالیسیوں نے خود ان کی اپنی کنزرویٹو پارٹی میں بغاوت سی پیدا کر دی ۔ جس کے نتیجے میں مسز تھیچر نے تیسری مرتبہ وزارت عظمیٰ کی مدت پوری ہونے سے پہلے استعفیٰ دے دیا۔
ان کے دور حکومت پر گہری نظر رکھنے والے مبصرین کا کہنا ہے کہ وہ جس طرح اقتدار پر مکمل گرفت رکھتی تھیں، عالمی سیاسی منظر نامے پر وہ جس طرح چھائی ہوئی تھیں اور رونالڈ ریگن، میخائل گورباچوف اور دوسرے اہم عالمی سیاستدانوں سے ان کے جتنے گہرے تعلقات تھے، اس کے بعد یہ بات یقین سے کہی جا سکتی تھی کہ چوتھی مرتبہ بھی وہی برطانیہ کی وزیر اعظم ہوں گی۔ لیکن ان کے ساتھ بے وفائی ان کی اپنی پارٹی کے اہم اراکین نے کی اور ان پر یہ شعر صادق آیا کہ:
پلٹے جو تیر کھا کے کمیں گاہ کی طرف
اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہو گئی
مسز تھیچر برطانوی سیاست کا ایک نہایت متنازعہ فیہ کردار ہیں اور عرصہ دراز تک یاد رکھی جائیں گی۔ وہ ایک ایسے دور میں عالمی سیاست کے مغربی افق پر نمودار ہوئیں جب سرد جنگ اپنے عروج پر تھی۔ اس جنگ کو انجام تک پہنچانے میں انھوں نے امریکی صدر رونالڈ ریگن کے شانہ بشانہ کام کیا۔ وہ کسی بھی سیاسی محاذ پر ناکام نہیں ہوئیں لیکن ہانگ کانگ کو چین کے سپرد کرنے کے معاملے پر انھیں ڈنگ ژیائوپنگ کے سامنے ہتھیار ڈالنے پڑے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہانگ کانگ کو 1997ء میں چین کے سپرد کر دیا جائے گا لیکن 1984ء میں ہی انھیں اس معاہدے پر دستخط کرنے پڑے کہ برطانیہ اپنی اس نو آبادی سے 1997ء میں دستبردار ہو جائے گا۔
اسی واقعے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے چینی اخبار 'گلوبل ٹائمز' میں ان پر شائع ہونے والے تعزیتی نوٹ میں کہا گیا ہے کہ اس بارے میں چینی قیادت سے گفت و شنید کرتے ہوئے مسز تھیچر کو یہ اندازہ ہو گیا تھا کہ ''چین کو وہ ارجنٹائن نہ سمجھیں اور نہ ہانگ کانگ کو جزائر فاک لینڈ سے مشابہہ خیال کریں''۔ ان کے مخالفین کا موقف رہا ہے کہ انھوں نے برطانوی عوام کے ٹیکس کی رقوم ان کی فلاح و بہبود پر خرچ کرنے کی بجائے دور دراز علاقوں کو برطانیہ کے زیر نگیں رکھنے کے لیے فراخ دلی سے خرچ کی۔ چین اگر ایک عالمی طاقت بن کر نہ ابھرا ہوتا اور اگر ہانگ کانگ برطانیہ سے ہزاروں میل دور نہ ہوتا تو وہ شاید اسے بھی عسکری طاقت کے ذریعے برطانوی تسلط میں رکھنے کی کوشش کرتیں۔
مسز تھیچر کے بارے میں تاریخ کے ایک پروفیسر نے کیا خوب لکھا ہے کہ ''وہ اس لیے جدید سیاسی تاریخ کی ایک نہایت اہم شخصیت ہیں کہ انھوں نے یورپ کی سیاست کو ایک نیا موڑ دیا۔ ان سے پہلے یوں محسوس ہوتا تھا کہ ہم سوئیڈش سوشل ڈیموکریسی کی طرف بڑھ رہے ہیں لیکن مسز تھیچر نے تاریخ کے اس دھارے کو بدل دیا۔'' ان کی رخصت پر کنزرویٹو پارٹی اور موجوہ برطانوی وزیر اعظم نے ایک بڑا سانحہ قرار دیا۔ ڈیوڈ کیمرون نے انھیں ایک عظیم عالمی مدبر کے طور پر یاد کیا اور بے ساختہ کہا کہ انھوں نے برطانیہ کو فتح سے ہمکنار کیا۔
ہمارے یہاں جمہوری نظام کے بارے میں سوال اٹھانے والوں کے لیے مسز مارگریٹ تھیچر کی زندگی اور موت دونوں میں کتنے ہی جواب پنہاں ہیں۔ ایک طرف ان کے چاہنے والے ہیں جو انھیں دنیا کا عظیم مدبر کہہ رہے ہیں اور دوسری طرف ان کی موت پر جشن منانے والے ہیں۔ دونوں ہی برطانوی شہری ہیں۔ دونوں اپنا جمہوری حق استعمال کر رہے ہیں لیکن کوئی بھی دوسرے کے حب وطن پر شک نہیں کر رہا اور دوسرے کو غدار یا وطن فروش نہیں کہہ رہا۔
جمہوری نظام کے یہی تو مزے ہیں کہ ایک دوسرے کو ناپسند کرنے کے باوجود رواداری کے ساتھ برداشت کیا جائے اور یہ بھی جمہوریت کی عطا ہے کہ ملکہ برطانیہ ایک سبزی فروش کی بیٹی کے جلوس جنازہ میں ساتھ چلیں۔