سوپ مینوفیکچررز کا ایس آراوز کالعدم قرار دینے کا مطالبہ

ایف بی آر ناکامیوں کو چھپانے کیلیے 3 ماہ سے نت نئے ہتھکنڈے استعمال کررہا ہے، شہزاد مشتاق


Business Reporter April 14, 2013
ایف بی آر ناکامیوں کو چھپانے کیلیے 3 ماہ سے نت نئے ہتھکنڈے استعمال کررہا ہے، شہزاد مشتاق فوٹو: فائل

ISLAMABAD: پاکستان سوپ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے چیئرمین شہزاد مشتاق پراچہ نے ایف بی آرکی جانب سے جاری کردہ ایس آر اوز98 اور 140 کومتنازعہ قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ صابن سازی کی مقامی صنعت کو مذکورہ ایس آراوزپرشدید تحفظات لاحق ہیں۔

انہوں نے نگراں حکومت سے درخواست کی ہے کہ وہ زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے ایف بی آر کی جانب سے 31 دسمبر 2012 کے بعد سے جاری ہونے والے تمام ایس آر اوزکو کالعدم قرار دیتے ہوئے تاجروصنعتکار برادری میں غیریقینی کے تاثر کو ختم کرے کیونکہ مذکورہ متنازعہ ایس آراوز تاجر برادری یا تجارت وصنعتی ایوانوں سے مشاورت کیے بغیر یکطرفہ بنیادوں پر جاری کیے گئے ہیں۔



شہزاد مشتاق پراچہ نے نگراں حکومت پر واضح کیا کہ ایف بی آر کی بیوروکریسی نے اپنے ریونیو اہداف کے حصول میں ناکامی کو چھپانے کی غرض سے گزشتہ تین ماہ سے نت نئے ایس آراوز جاری کرنے کی نئی روایت قائم کی ہے جوتعجب خیز امر ہے جس سے دیگر برآمدی شعبوں کے ساتھ مقامی سوپ مینوفیکچررز کی مشکلات میں بھی مزید اضافہ ہوگیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مذکورہ ایس آراوز پر عمل درآمد کے باوجود رواں مالی سال کے باقی ماندہ تین ماہ میں 120 ارب روپے سے زائد کا ریونیو حاصل نہیں ہوسکے گا تاہم ان اضافی ٹیکسوں کی ادائیگی کے لیے تاجرو صنعتکاروں کو 15 تا 16 فیصد شرح سود کے تناسب سے 32 تا 36 ارب روپے مالیت کے خطیرقرضے بینکوں سے حاصل کرنے پڑیں گے جومالیاتی مشکلات میں اضافے کا سبب بنے گا، انہوں نے کہا کہ متنازعہ ایس آر اوزکے اجرا سے قبل دیگرشعبوں کی طرح سوپ انڈسٹری کوبھی اعتماد میں نہیں لیا گیا اور نہ ہی مشاورت کی گئی۔