ترقی کا ہدف پورا نہ ہوسکا مہنگائی توقع سے کم رہی جنوری سے مارچ تک حکومتی اخراجات میں 31 فیصد اضافہ ہوا اس

مالیاتی خسارہ 7.5 فیصد تک رہنے کا امکان، بدامنی بڑی رکاوٹ، ہڑتالوں سے کاروباری دنوں میں کمی


Business Reporter April 14, 2013
مالیاتی خسارہ 7.5 فیصد تک رہنے کا امکان، بدامنی بڑی رکاوٹ، ہڑتالوں سے کاروباری دنوں میں کمی۔ فوٹو: فائل

اسٹیٹ بینک نے رواں مالی سال کی پہلی اور دوسری سہ ماہی کی مالیاتی جائزہ رپورٹ جاری کردی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مالیاتی خسارہ 7.5 فیصد تک رہنے کا امکان ہے، ملکی ترقی کی راہ میں بدامنی بڑی رکاوٹ ہے، ہڑتالوں کی وجہ سے کاروباری دنوں میں کمی ہوئی ہے، عام انتخابات کی وجہ سے طویل مدتی سرمایہ کاری سے گریز کیا جارہا ہے۔ ملکی زرمبادلہ کے ذخائر تشویشناک حد تک کم ہوچکے ہیں، معاشی ترقی کی نمو 3.5فیصد سے 4 فیصد کے درمیان رہے گی۔ حکومتی اخراجات میں 31 فیصد اضافہ ہوا۔

ملکی تاریخ میں پہلی بار اسٹیٹ بینک نے 2سہ ماہیوں کی رپورٹ بیک وقت جاری کی حالانکہ پہلی سہ ماہی رپورٹ جنوری میں جاری کی جانی تھی۔ ہفتے کو مرکزی بینک کی جانب سے جاری ہونے والی رپورٹ میں جہاں کچھ اعداد و شمار مثبت نظر آئے وہیں ٹیکس نیٹ میں کمی، جاری حسابات کے خسارے، زرمبادلہ ذخائر پر دبائو، اصلاحات نہ ہونے، توانائی کی قلت، حکومتی قرضے، سرکاری اداروں کے بوجھ اور زرعی نمو میں کمی سمیت مختلف اعداد و شمار معاشی مشکلات کی نشاندہی کررہے ہیں۔ مئی 2013 میں ایک نگراں حکومت عام انتخابات کے لیے راہ ہموار کررہی ہے اس لیے ملکی سرمایہ کاروں کا طویل مدتی نقطہ نظر اختیار کرنے میں پس و پیش کرنا ناقابل فہم ہے۔



اگرچہ اس غیر یقینی کیفیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا تاہم حکومت کو سرکاری شعبے کے کاروباری اداروں اور شعبہ تونائی میں اٹل ساختی مسائل سے نمٹنے کو ترجیح دینی چاہیے ۔ جائزہ رپورٹوں کے مطابق مالی سال 2013کی پہلی سہ ماہی کے دوران معیشت میں آنے والی بعض مثبت تبدیلیاں دوسری سہ ماہی میں برقرار نہ رکھی جاسکیں۔پہلی ششماہی میں جاری کھاتوں میں فاضل رقم موجود تھی جو دوسری سہ ماہی کے دوران خسارے میں تبدیل ہوگئی۔ رواں مالی سال کے ابتدائی 5 ماہ میںگرانی میں کمی کا رجحان رہا جو دسمبر2012 میں رک گیا اوردوسری سہ ماہی میں وفاقی حکومت نے اسٹیٹ بینک سے مالکاری پر اپنا انحصار بڑھادیا۔

رپوٹوں میں مستقل نوعیت کے ان ساختی مسائل کا ذکر ہے جو معیشت پر بوجھ بنے ہوئے ہیں۔رپورٹ میں حقیقی پیداوار کا شعبہ ملی جلی تصویر ظاہرکررہا ہے ۔رواں مالی سال بھی اہم معاشی اہداف حاصل نہیں ہوسکیں گے۔ ملکی ترقی کی شرح نمومقررہ4.7 فیصد ہدف کے مقابلے میں 3.5 فیصد سے 4 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع کی گئی ہے، برآمدات کی مالیت 25ارب ڈالر سے 25.5 ارب ڈالر رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے جبکہ اس کا ہدف 25.8 ارب ڈالرمقرر کیا گیا تھا تاہم درآمدات کی مالیت 42.9 ارب ڈالر کے مقابلے میں 40 ارب ڈالر سے 40.5 ارب ڈالر رہیں گی۔

مالی خسارہ مقررہ4.7 فیصد کے ہدف کی نسبت 6.5 سے 7.5 کے درمیان رہے گا، ترسیلات زر 14 سے 15 ارب ڈالر تک ملنے کی توقع ہے جبکہ اس کا ہدف 14 ارب ڈالر تھا۔ مہنگائی کی شرح 8 سے 9 فیصد کے درمیان رہے گی اور اس کا ہدف 9.5 فیصد مقرر کیا گیا تھا۔ زرعی پیداوار کی نمو ہدف سے کم یعنی 4 فیصد سے کم رہنے کا امکان ہے۔ کپاس اور چاول کی فصلیں ہدف پورا نہیں کرسکیں گی البتہ گنے کی فصل بہتر ہوگی ، گندم کی سرکاری قیمت بڑھائے جانے کے باوجود اس کی فصل بھی ہدف سے کم رہنے کا امکان ہے۔ رواں مالی سال میں بھی ایف بی آر محصولات کا مقررہ ہدف حاصل نہیں کرسکے گا، رواں مالی سال کے ابتدائی 6 ماہ کے دوران فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے محصولات صرف 12 فیصد بڑھے جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں یہ نمو 25.4 فیصد تھی۔