شمالی کوریا کا ایٹمی تجربات روکنے کا اعلان

جنوبی کورین صدر مون جے ان نے کہا کہ اس فیصلے سے آیندہ مذاکرات کے لیے مثبت ماحول پیدا ہو گا۔


Editorial April 23, 2018
جنوبی کورین صدر مون جے ان نے کہا کہ اس فیصلے سے آیندہ مذاکرات کے لیے مثبت ماحول پیدا ہو گا۔ فوٹو: سوشل میڈیا

گزشتہ کچھ عرصے سے امریکا کے لیے جو شدید سردرد کا مسئلہ بنا ہوا تھا اور جس کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کو دھمکیاں دینا شروع کر دی تھیں وہ مسئلہ شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان نے ایٹمی اور میزائل تجربات روکنے اور میزائل ٹیسٹ سائٹ بند کرنے کا اعلان کر کے پر امن طور پر حل کر دیا ہے۔

عالمی تجزیہ نگاروں کو خدشہ تھا کہ امریکا شمالی کوریا ایٹمی بحران تیسری عالمی کی بنیاد بن سکتا ہے۔ شمالی کورین سربراہ کم جونگ ان کا کہنا تھا کہ ایٹمی یا میزائل تجربات کی اب ضرورت نہیں۔ شمالی

کوریا کی سرکاری خبر ایجنسی کے مطابق کم جونگ نے کہا کہ آج سے ایٹمی ہتھیاروں کی تجربات کے لیے قائم تنصیبات کو بند کیا جا رہا ہے اور پیانگ یانگ اب مزید کسی قسم کے ایٹمی یا میزائل تجربات نہیں کرے گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اب شمالی کوریا دنیا بھر میں ایٹمی تجربات ختم کرنے کی عالمی کوششوں کا حصہ بنے گا۔ کم جونگ ان نے مزید کہا کہ شمالی کوریا اب ایٹمی ہتھیار اور ٹیکنالوجی بھی برآمد نہیں کرے گا۔

کم جونگ ان کے حوالے سے مزید بتایا گیا ہے کہ اب پیانگ یانگ حکومت ملکی معیشت کو بہتر بنانے کی کوشش کرے گی۔ اس بیان سے اس شبہے کو تقویت ملتی ہے کہ شمالی کوریا جوہری مواد کی اقتصادی بنیادوں پر ترسیل بھی کرتا رہا ہے تبھی اب اس نے ملکی معیشت کو دیگر روایتی ذرائع سے بہتر بنانے کی کوششوں کا ذکر کیا ہے۔

دریں اثنا شمالی کوریا کے سربراہ کی جانب سے ایٹمی اور میزائل تجربات روکنے کے اعلان کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اہم پیش رفت اور ساری دنیا کے لیے اچھی خبر قرار دے دیا ہے۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ انھیں کم جونگ ان سے ملاقات کا انتظار ہے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر اور شمالی کورین سربراہ کے درمیان رواں برس جون میں ملاقات متوقع ہے، تاہم اس ملاقات کا مقام اور دیگر تفصیلات ابھی تک سامنے نہیں آ سکی ہیں۔ امریکا کے نامزد وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے بھی گزشتہ ماہ شمالی کوریا کا خفیہ دورہ کیا تھا، جس کا مقصد ٹرمپ اور کم جونگ ان کی متوقع ملاقات سے پہلے گراؤنڈ ورک کرنا تھا۔ جنوبی کوریا نے شمالی کوریا کی جانب سے ایٹمی اور میزائل تجربات روکنے کے فیصلے کو مثبت پیش رفت قرار دے دیا۔

جنوبی کورین صدر مون جے ان نے کہا کہ اس فیصلے سے آیندہ مذاکرات کے لیے مثبت ماحول پیدا ہو گا۔ دوسری جانب جاپان کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا پر دباؤ کم کرنے کا ابھی وقت نہیں آیا، یعنی جاپان نے شمالی کوریا کی طرف سے ایٹمی تجربات روکنے کے اعلان کو سنجیدگی سے تسلیم نہیں کیا۔ چین اور روس نے البتہ شمالی کوریا کے اعلان کا خیر مقدم کیا ہے۔

یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان آیندہ ہفتے جنوبی کوریا کے صدر مون جے ان سے ملاقات کر رہے ہیں۔ یورپی یونین نے بھی شمالی کوریا کی جانب سے جوہری اور میزائل تجربات روکنے کا فیصلہ ایک مثبت قدم قرار دیا ہے۔ یوں دیکھا جائے تو شمالی کوریا کے پالیسی سازوں نے دوراندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بروقت فیصلہ کیا اور اپنے ملک پر منڈلاتے جنگ کے خطرے کو ٹال دیا۔