ماحولیاتی تحفظ کا چینی ماڈل ہم پاکستان میں بھی نافذ کرسکتے ہیں، لیکن اس کیلئے سیاسی عزم ضروری ہے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)
ایک وقت تھا جب وطن عزیز میں چاروں موسم اپنے اپنے وقت پر آتے تھے۔ سردی کے بعد گرمی اور گرمی کے بعد سردی کا انتظار رہتا تھا۔ برکھا رت میں برسات جی بھر کے برسا کرتی تھی۔ بہار میں ہر طرف پھول ہی پھول نظر آتے تھے اور سرما میں دھوئیں کے بجائے دھند کا راج ہوا کرتا تھا۔ لیکن اب کب دھوپ نکلے، کب بارش ہو، کب کپکپاتی سردی شروع ہوجائے اور کب سورج آگ برسانا شروع کر دے، کچھ پتا نہیں چلتا۔ ابھی بہار اپنے جوبن پر نہیں آئی کہ ملک کے اکثر شہروں میں ہیٹ اسٹروک والی گرمی شروع ہوچکی ہے۔
دنیا بھر کی فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی شرح دن بدن بڑھ رہی ہے۔ گلیشیئرز پگھل رہے ہیں، سمندروں کی سطح میں اضافہ ہورہا ہے، درجہ حرارت دن بدن بڑھ رہا ہے اور موسم غیرمعمولی تغیر و تبدل کا شکار ہیں۔ دنیا کے تین بڑے پہاڑی سلسلے ہمالیہ، ہندوکش اور قراقرم پاکستان کے شمال میں واقع ہیں جن کا شمار قطب شمالی اور قطب جنوبی کے بعد سب سے بڑے برف کے ذخائر میں ہوتا ہے۔ انٹرنیشنل ماؤنٹین سوسائٹی کی ایک تحقیق کے مطابق یہ گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ برف کے پگھلنے سے ڈیم پانی سے بھر جاتے ہیں اور 2010 کے بعد سے تقریباً ہر سال سیلاب آرہے ہیں۔ پانی جیسی نعمت محفوظ کرنے کےلیے ہمارے پاس ڈیم نہیں اور ہر سال ڈھیر سارا پانی ضائع ہوجاتا ہے۔
ماحولیاتی تبدیلیاں خشک سالی، سیلاب، طوفان اور گرمی کی لہروں کو دستک دیتی ہیں جو حیاتی تنوع (biodiversity) کےلیے خطرات کا باعث بنتی ہیں۔ انٹر گورنمنٹل پینل آن کلائمیٹ چینج (آئی پی سی سی) کی رپورٹ کے مطابق دنیا کے مختلف خطوں میں جو بڑی ماحولیاتی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں ان میں اوسط درجہ حرارت میں اضافہ، موسموں کی شدت اور دورانیے میں اضافہ شامل ہیں۔ اسی پینل کی رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر سرد جبکہ پاکستان میں گرم موسم کے دورانیے میں اضافے کا امکان ہے۔
پاکستان میں فضائی اور آبی آلودگی خطرناک حد تک پہنچ چکی ہے۔ زیر زمین پانی کی سطح بتدریج کم ہو رہی ہے اور پینے کا پانی آلودہ ہے۔ اگرچہ ماحولیاتی تبدیلیوں سے دنیا کے دیگر ممالک بھی متاثر ہورہے ہیں لیکن وہاں ماحول دوست پالیسیاں بنانے کا رواج ہے۔ اس سلسلے میں چین کا طرز عمل مثالی اور قابل تقلید ہے۔ چین بھی موسمیاتی تبدیلیوں کی زد میں رہا ہے لیکن اب چین اپنی ماحول دوست پالیسیوں کی وجہ سے عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف جنگ میں عالمی رہنما بن چکا ہے۔
ہم بھی چین سے سیکھ سکتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی زد سے کیسے باہر نکلا جاسکتا ہے؟
1- چین قابل تجدید توانائی (رینیو ایبل انرجی) میں رہنما کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔ چین نے کوئلے کا استعمال محدود کردیا ہے اور کوئلے کی کانوں کی مزید کھدائی پر تین سال کی پابندی عائد کر رکھی ہے۔ اس سے نہ صرف کاربن کے اخراج میں کمی آچکی ہے بلکہ فضائی آلودگی بھی خاصی حد تک کنٹرول ہو چکی ہے۔ متبادل توانائی کے ذرائع پر بہت زیادہ سرمایہ کاری کی گئی ہے جس میں شمسی توانائی، ونڈ انرجی اور بایو انرجی کے ان گنت منصوبے شامل ہیں۔
2- چین نے پرانی اور بہت زیادہ دھواں چھوڑتی گاڑیوں سے جان چھڑالی ہے۔ اگرچہ اب بھی چین میں بے شمار ہائبرڈ، الیکٹرک اور سولر کاریں سڑکوں پر دوڑتی پھرتی نظر آتی ہیں اور نقل و حمل کےلیے تیز رفتار الیکٹرک ریل اور بسیں موجود ہیں لیکن ہمارے سپروائزر پروفیسر لی کے مطابق، اگلے دس سے پندرہ سال میں چین اپنا سارا ٹرانسپورٹ سسٹم الیکٹرک اور سولر پر منتقل کردے گا جس سے ماحولیاتی آلودگی کے خطرات کم سے کم ہوجائیں گے۔ بڑے شہروں میں فضائی آلودگی کی روک تھام کےلیے ایک شخص ہفتے میں صرف تین روز اپنی گاڑی استعمال کرسکتا ہے اور باقی چار دن بائیسکل، موٹرسائیکل یا پبلک ٹرانسپورٹ پر سفر کرتا ہے۔
3- چین میں بجلی کے حصول کےلیے دیگر ذرائع کے ساتھ ساتھ ایٹمی ری ایکٹرز کا استعمال بھی کیا جا رہا ہے جن کے ذریعے سب سے کم کاربن کے اخراج کے ساتھ بجلی حاصل کی جا رہی ہے۔ جوہری توانائی کا تناسب بڑھانے کےلیے چین نے آئندہ ایک دہائی کے اندر اندر کم از کم ساٹھ نئے ایٹمی بجلی گھر بنانے کا اعلان کیا ہے۔
4- تمام نئی عمارتیں ماحول دوست اور توانائی کےلیے مؤثر نقشہ جات پر تعمیر کی جا رہی ہیں اور پرانی عمارتوں کو بھی اپ گریڈ کیا جا رہاہے۔ چین نے انہیں ''گرین بلڈنگز'' کا نام دیا ہے جن میں روشنی، گرم سرد درجہ حرارت اور گرم پانی کا نظام شامل ہیں۔ ہر عمارت کی چھت پر سولر پینل لگائے گئے ہیں جو شمسی توانائی کو برقی توانائی میں بدل کر اس عمارت کی توانائی کی ضروریات بڑی حد تک پوری کررہے ہیں۔
5- چین کی حکومت نے فضائی اور آبی آلودگی کی روک تھام اور بہتری پر خاص کارروائی کی منصوبہ بندی اختیار کر رکھی ہے۔ فیکٹریوں اور کارخانوں کا فضلہ براہ راست ندی نالوں میں پھینکنے پر سختی سے پابندی ہے جب تک کہ فالتو مواد سے فلٹرز کے ذریعے اور دیگر حیاتیاتی طریقوں سے زہریلے کیمیکلز کو الگ نہ کرلیا جائے۔
6- زرعی شعبے کو موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات سے بچانے کےلیے چین کی حکومت نہ صرف ماحولیاتی تبدیلیوں کا بغور مشاہدہ کرتی ہے بلکہ فوری اقدامات بھی کرتی ہے۔ آب و ہوا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار کو کم کرنے، بہتر اور بیماریوں سے پاک فصلیں اگانے کےلیے گرین فارمنگ کا منصوبہ شروع کیا گیا ہے۔ گرین فارمنگ کے اخراجات کم کرنے کےلیے جانوروں کے فضلے کو بطور کھاد استعمال کیا جاتا ہے۔ چین نے موسموں کی شدتوں کا مقابلہ کرنے والے بیج بنا لیے ہیں۔ گندم، چاول، مکئی، سبزیوں اور پھلوں کی نت نئی اقسام تیار کی جارہی ہیں۔
7- موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کےلیے چین میں ہر سال شجرکاری مہم چلائی جاتی ہے۔ جنگلات کے غیر ضروری کٹاؤ پر بھی پابندی عائد ہے۔ عمارتوں اور شاپنگ مالز کے پارکنگ ایریاز میں پودے ہی پودے نظر آتے ہیں۔ چین کے لوگ بھی پودوں سے خاص محبت کرتے ہیں اور سردیوں میں پودوں کو سبز رنگ کی چادروں میں لپیٹ کر رکھتے ہیں۔
8- کارخانوں اور گھریلو استعمال کے پانی کی صفائی کےلیے حکومتی سطح پر ''میمبرین بایو ری ایکٹرز'' (membrane bio-reactors) استعمال کیے جاتے ہیں۔ دیہی علاقوں میں آلودہ پانی صاف کرنے کی مشینیں فراہم کی گئی ہیں۔ جگہ جگہ فلٹریشن پلانٹس اور بوائلنگ واٹر پلانٹس لگائے گئے ہیں جو چین کے لوگوں کی اچھی صحت کے ضامن ہیں۔
9- موسموں کے حوالے سے پیشگی اطلاعات کے نظام کو بھی جدید خطوط پر استوار کرلیا گیا ہے۔ موسموں کی شدتوں سے نمٹنے کےلیے پیشگی انتظامات کرلیے جاتے ہیں جس کی وجہ سے ملک سیلاب اور دیگر خطرات سے محفوظ رہتا ہے۔ حکومتی سطح پر پانی کے ذخیرے کےلیے بڑے حوض، جھیلیں اور ہائیڈرو پاور ڈیمز موجود ہیں جبکہ مقامی سطح پر کسان بارش کے پانی کو پلاسٹک سے بنے کم خرچ حوضوں میں محفوظ کر لیتے ہیں جو بعد میں فصلوں کی آبیاری کےلیے استعمال کرتے رہتے ہیں۔
10- جو کچرا ہمارے ہاں وبال جان بنا ہوا ہے اور بے شمار بیماریوں کو جنم دے رہا ہے، وہی کچرا چین میں بایو گیس بنانے کا سب سے بڑا منبع ہے۔ روزانہ ملک بھر سے کچرا اکٹھا کرکے ہزاروں گاڑیوں کے ذریعے ری سائیکلنگ پلانٹس میں بھیجا جاتا ہے جہاں پلاسٹک اور کاغذ کو الگ کرکے دوبارہ قابل استعمال بنایا جاتا ہے اور بچ جانے والا فضلہ ''ویسٹ ٹو انرجی پلانٹ'' میں بھیج دیا جاتا ہے۔ چین کے مختلف شہروں میں ایسے تقریباً 300 پلانٹس موجود ہیں جن سے بایوانرجی حاصل کی جا رہی ہے۔ 2020 میں چین کے شہر شن جن میں دنیا کا سب سے بڑا ویسٹ ٹو انرجی پلانٹ لگایا جائے گا جس میں تقریباً پانچ ہزار ٹن کچرے کو روزانہ جلا کر توانائی حاصل کرنے کی صلاحیت ہوگی۔
چین نے ماحولیاتی تحفظ کے سلسلے میں کئی بین الاقوامی منصوبوں پر بھی دستخط کر رکھے ہیں جن میں اقوام متحدہ کا فریم ورک کنوینشن بھی شامل ہے۔ چین ماحولیاتی تحفظ کے میدان میں بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ تعاون کو مضبوط بنانے میں بھی اہم کردار ادا کررہا ہے۔ چین میں موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کےلیے 2030 تک کے منصوبے تشکیل دیئے گئے ہیں۔ یہ لوگ آنے والی نسلوں کا مستقبل بہتر بنانے کا سوچ رہے ہیں کیوں کہ انہیں اس بات کا ادراک ہے کہ مستقبل میں انہی معاشروں کی ترقی دیرپا رہے گی جو اپنے ماحول کو تحفظ فراہم کرنے میں کامیاب رہیں گے۔
دوسری جانب پاکستانی ہماری حکومتیں صرف اور صرف اپنے پانچ سال کا سوچتی ہیں اور طویل مدتی منصوبوں کو اس لیے بھی شروع نہیں کیا جاتا کہ کوئی دوسری حکومت ان کا سیاسی فائدہ نہ اٹھا لے۔ اس کھینچا تانی کی وجہ سے ملک معاشی طور پر تو تباہ تھا ہی، اب ماحولیاتی تباہی کے دہانے پر بھی ہے۔
ہمارے ہاں جب کوئی طوفان، سیلاب یا موسمیاتی آفت آتی ہے تو ہم آنکھیں ملتے ہوئے بیدار ہوتے ہیں اور کئی گنا زیادہ خرچ کرکے آفت کے بعد والے مسائل سے نمٹ رہے ہوتے ہیں۔ یہی توانائیاں اگر ہم چین کی طرح ماحولیاتی پائیداری کی پالیسیاں بنانے میں صرف کردیں تو نتائج مختلف ہوسکتے ہیں۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔