آئی پی پیز پر قرضے 32 ارب روپے تک پہنچ گئے

تمام ورکنگ کیپٹل لگا دینے کے باوجود پلانٹس دیوالیہ کے قریب، کارکردگی متاثر


Business Reporter April 17, 2013
واپڈا نے گیس سے چلنے والے بہت محدود ادائیگیاں کی ہیں اور بہت سے کیسز میں بالکل بھی ادائیگی نہیں کی جس سے ان پلانٹس کی کارکردگی پر بہت برا اثر پڑ رہا ہے. فوٹو : فائل

حکومت کی جانب سے کم ادائیگیوں کی وجہ سے آزاد پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) 32 ارب روپے کے قرض تلے دب چکے ہیں۔

واپڈا نے گیس سے چلنے والے بہت محدود ادائیگیاں کی ہیں اور بہت سے کیسز میں بالکل بھی ادائیگی نہیں کی جس سے ان پلانٹس کی کارکردگی پر بہت برا اثر پڑ رہا ہے اور حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ آئی پی پیز اپنا تمام ورکنگ کیپٹل لگا دینے کے باوجود دیوالیہ ہونے کے قریب ہیں، یہ معاملہ گیس سے چلنے والے آئی پی پیز کے مقابلے میں آئل سے چلنے والے آئی پی پیز کو رقوم کی ادائیگیوں کے باعث پیچیدہ ہوا ہے۔



گیس سے چلنے والے آئی پی پیز زیادہ قابل اعتماد اور توانائی کا صاف ستھرا ذریعہ ہے جس سے یومیہ 3.5ملین ڈالر کی بچت ہوتی ہے، ان آئی پی پیز سے تیل سے چلنے والے آئی پی پیز کے مقابلے میں کم قیمت بجلی دستیاب ہوتی ہے جو 18روپے فی یونٹ کے مقابلے میں 4 روپے فی یونٹ ہے، آئی پی پیز کو کی جانے والی ادائیگی کی رقم ملک میں ہی رہتی ہے اور اس سے سب سے زیادہ فائدہ حکومت کو ہوتا ہے جو اہم اداروں او جی ڈی سی ایل، سوئی گیس کمپنیوں کے شیئرز کے ذریعے بالواسطہ بڑی بنیفشری ہے۔