ہمارے سیاستدان پہلے الیکشن کرائیں

میں نے عرض کیا کہ اب نہیں، ورنہ اسی گھر میں ہر سال میں کم از کم ایک مہینے کے لیے قیام کرتا تھا


Abdul Qadir Hassan April 18, 2013
[email protected]

QUETTA: رواں انتخابی ٹیم کا بدترین دن گزشتہ منگل کا دن تھا اس دن جو دھماکے ہوئے ان میں پشاور میں اے این پی کے جلسے میں اٹھارہ افراد جاں بحق ہو گئے زخمی نہ جانے کتنے، اسی طرح ایک خوفناک حملہ اور دھماکہ ہوا بلوچستان میں، اس میں میر ثناء اللہ زہری پر حملہ ہوا جس میں ان کا بیٹا، بھائی اور بھتیجا نشانہ بن گئے اور اسی وقت جب میں یہ سطریں لکھ رہا ہوں تو خوفزدہ ہوں، خدا نہ کرے لیکن وطن عزیز میں کہیں بھی کوئی دھماکہ ہو سکتا ہے۔

میں ڈر کے مارے صبح کے وقت ٹی وی نہیں لگاتا کہ اس سے خیر کی خبر مدتیں ہوئیں نہیں سنی جو سنا اور دیکھا وہ خون سے لت پت لاشیں، عزیز و اقارب کی آہ و بکا اور ملک بھر میں ماتم کی کیفیت۔ بس یہ ہمارا حوصلہ ہے کہ ہم اس ماتمی گھر میں رہتے ہیں یا یوں کہیں کہ رہنے پر مجبور ہیں۔ نہ رہیں تو کہاں جائیں۔ میرے پاس تو کارآمد پاسپورٹ بھی نہیں ہے کیونکہ جب سے فیصلہ کیا ہے کہ اب اس وطن عزیز ترین کی سرزمین سے باہر قدم نہیں رکھوں گا تب سے اپنے پاسپورٹ کو بھول گیا ہوں اور وہ پڑے پڑے زائد المیعاد ہو گیا ہے۔ لندن سے میرے پرانے حجرے سے مقصود کا فون آیا کہ آئو گے یا کمرہ کرائے پر دے دوں۔

میں نے عرض کیا کہ اب نہیں، ورنہ اسی گھر میں ہر سال میں کم از کم ایک مہینے کے لیے قیام کرتا تھا اور سرشام لندنی دوستوں کا ایک ہجوم جمع ہو جاتا تھا مگر اس ہجوم کا سپہ سالار رزاق چلا گیا دوسرے لوگ بھی مرکز کے نہ ہونے پر تتر بتر ہو گئے، شام کے کھانے کے لیے لائے ہوئے وہ اپنے دیگچے اور چمچے اٹھا کر لے گئے جو یہاں ہر روز کے ڈنر کے لیے گرم ہوتے تھے اور کھنکتے تھے ۔ فارسی کے شاعر نے سچ کہا تھا کہ نہ وہ محفل رہی نہ وہ ساتھ رہا اور نہ وہ قدح خوار رہے۔ شام کو آخری بس کے لیے احباب اپنی اپنی بس کی تلاش میں رخصت ہو جاتے۔ ہمارے ایک دوست جن کو ڈاکٹر صاحب کہا جاتا تھا گھر میں ایک سخت مزاج خاتون رکھتے تھے اور گھر جاتے ہوئے کوئی نہ کوئی شعر بھی سناتے تھے۔ ایک خوبصورت شعر حافظے میں تڑپ رہا ہے جو شب بخیر کے ساتھ انھوں نے ایک شام سنایا تھا۔

پیش قضا چلا ہوں فرشتے ہیں ساتھ ساتھ

ساغر لیے ہوئے کوئی مینا لیے ہوئے

یہ قضا ان کی زوجہ تھیں اور فرشتے ان کو گھر تک پہنچانے والے چند جرات مند دوست۔

لیجیے حضرت جوش ملیح آبادی یاد آ گئے، میں ایک شام محترم مرحوم حکیم نبی احمد ہویدا کے ہاںگیا تو وہاں جوش صاحب موجود لیکن روانگی کے لیے گاڑی کا انتظار کر رہے تھے۔ حکیم صاحب نے کہا کہ آپ کو قادر حسن صاحب چھوڑ آتے ہیں۔ جوش صاحب رک گئے اور کہنے لگے تم نے دلی سے لاہور آ کر زبان بھی خراب کر لی۔ ایسے موقعوں پر چھوڑ آنا نہیں پہنچا آنا کہتے ہیں۔

بات اپنی متوقع تباہی سے شروع کی تھی کہ نہ جانے کہاں سے کہاں نکل گئی۔ پراگندہ ذہن پراگندہ باتیں اور موضوعات۔ معافی کا خواستگار ہوں اور آپ کو بار بار اپنے ایسے اندیشوں کی طرف لیے چلتا ہوں کہ اگر الیکشن کے دشمن کامیاب ہو گئے تو پھر ہمارا کیا بنے گا۔ ابھی تو ہم گزشتہ 63 برسوں میں اپنی بنیادیں بھی مستحکم نہیں کرسکے۔ چار پانچ صوبے ہیں ایک جگہ سے کسی دیوار کو تھامتے ہیں تو وہ دوسری جگہ پر گرجاتی ہے۔ اسی کشمکش اور انتشار میں اپنے آپ کو اس قدر کمزور کر لیا کہ دشمن نے موقع پا کر ہمیں دو ٹکڑے کر کے ہماری بنیادوں میں خلل ڈال دیا۔

ایک ایسا شگاف جو ذہن سے نکلتا ہی نہیں ہے اور جب کہیں ذرا سی گڑ بڑ بھی ہوتی ہے تو کوئی آواز اٹھتی ہے کہ پہلے بھی تو یہ ملک ٹوٹ چکا ہے۔ یہ بات مجھے میرے پرانے دشمن کے پرانے ارادوں سے یاد آئی ہے کہ اب اس ملک کو توڑنا نہیں اسے اس قدر کھوکھلا کر دینا ہے کہ اس کے نخرے ختم ہو جائیں جو سقوط کے بعد ایٹم بم کی صورت میں پھر سے جاگ اٹھے ہیں۔ الیکشن جو آج کی جمہوری زندگی کا ایک معمول ہیں مگر ہمارے لیے اب یہ ایک معمول نہیں رہے ہماری بقا اور مستقبل کا سوال بن گئے ہیں اور ہمارے ہوشیار دشمنوں کو اس کا بخوبی پتہ ہے۔

چنانچہ فی الحال انھوں نے عام فضا میں دہشت اور بدامنی کو انتخابی عمل کے مشکل بنانے کا حربہ بنا کر اسے استعمال کرنا شروع کر دیا ہے اور کوئی دن نہیں جاتا کہ کہیں نہ کہیں کسی سیاسی سرگرمی کو سبوتاژ کیا جاتا ہے اور بعض اوقات بہت کاری ضرب لگا دی جاتی ہے بلوچستان میں میر زہری کا خاندان ہی تباہ کر دیا گیا جو جھلاوان کے سردار ہیں۔ پشاور میں اے این پی کے جلسے میں ایک بڑی تعداد جاں بحق ہو گئی اور بہت بڑی تعداد میں زخمی بھی۔ یہ سلسلہ کئی دنوں سے مسلسل جاری ہے اور ہمارے سیاسی رہنمائوں کی یہی حب الوطنی اور آزمائش ہے کہ وہ ان حالات کا مقابلہ کریں قوم کو حوصلہ دیں اور الیکشن کراکے دشمنوں کو ناکام کر دیں۔ خود الیکشن کراکے دم لیں۔

مقبول خبریں