دورۂ آئرلینڈ اور انگلینڈ نوجوان کرکٹرز کیلئے صلاحیتیں منوانے کا سنہرا موقع

ٹور مشکل ضرور لیکن نوجوان کھلاڑیوں کیلئے اپنی صلاحیتوں کو منوانے کا سنہری موقع بھی ہے۔


Abbas Raza May 06, 2018
ٹور مشکل ضرور لیکن نوجوان کھلاڑیوں کیلئے اپنی صلاحیتوں کو منوانے کا سنہری موقع بھی ہے۔ فوٹو : پی سی بی

بادلوں کی آنکھ مچولی، ہوا میں نمی اور پچ پر ہلکی گھاس ہوتو نامی گرامی ایشیائی بیٹسمینوں کی بھی دل دہل جاتے ہیں، شاندار ریکارڈ رکھنے والے کئی کرکٹرز انگلش کنڈیشنز میں ناکامی کی تصویر بنے نظر آئے ہیں، اس صورتحال میں پاکستان نے ناتجربہ کار کھلاڑیوں پر انحصار کرتے ہوئے آئرلینڈ اور انگلینڈ کو تسخیر کرنے کا خواب دیکھا ہے۔

چیف سلیکٹر انضمام الحق کی منطق ہے کہ ورلڈکپ 2019ء کی تیاری کیلئے نئے ٹیلنٹ کو انگلش کنڈیشنز سے ہم آہنگ ہونے کا موقع ملے گا،مصباح الحق کی قیادت میں قومی ٹیم نے انگلینڈ میں 2016ء کی سیریز 2-2سے برابر کرنے کا کارنامہ سرانجام دیتے ہوئے اپنی تاریخ میں پہلی بار عالمی رینکنگ میں ٹاپ پر جگہ بنائی تھی۔

گرین کیپس کی کارکردگی یونس خان اور کپتان مصباح الحق کے بطور سینئر اہم کردار کے ساتھ سلیکشن پالیسی میں تسلسل کی بھی مرہون منت تھی،دونوں کی ریٹائرمنٹ کے بعد ایک طرف تو قیادت کا خلاپیدا ہوا، دوسرا متبادل پلیئرز کی تلاش بھی ایک بڑے چیلنج کے طور پر سامنے آئی،سری لنکا کے خلاف سیریز میں کھلاڑیوں کے ساتھ کپتان سرفراز احمد کی ناتجربہ کاری بھی مسائل پیدا کرتی رہی،دوسرا اہم مسئلہ ٹیم کے سینئرزکی کارکردگی میں عدم تسلسل تھا۔

یواے ای میں ناکامی کے بعد آئرلینڈ اور انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ میچز کیلئے کم سے کم تجربات کی ضرورت تھی لیکن چیف سلیکٹر انضمام الحق، ہیڈ کوچ مکی آرتھر اورکپتان سرفراز احمد نے نئے ٹیلنٹ پر انحصار کا فیصلہ کیا، گزشتہ کچھ عرصے میں پاکستان کی فتوحات کے اہم کردار یاسر شاہ کی انجری نے سپین بولنگ کے شعبہ کو بھی تجربہ کی کمی کا شکار کردیا، محمد حفیظ کا بولنگ ایکشن گزشتہ دنوں کلیئر ہوا تو پاکستان ٹیم اس سے قبل انگلینڈ میں ڈیرے ڈال چکی تھی۔

سلیکٹرز انتظار کرنے کے بجائے ان کو ڈراپ کرنے کا فیصلہ پہلے ہی کرچکے تھے، شان مسعود انگلش کنڈیشنز کا تجربہ رکھتے تھے، فٹنس مسائل کی وجہ سے ان کو ڈراپ کردیا گیا، تاہم ان فٹ اوپنر اب فیصل آباد کی سخت گرمی میں پاکستان ون ڈے کپ کے میچز کھیل رہے ہیں، امام الحق نے کینٹ کے خلاف ٹور میچ میں ففٹی بنائی، امکان یہی ہے کہ تجربہ کار اظہر علی کے ساتھ اننگز کا آغاز کریں گے۔

غیر مستقل مزاج سمیع اسلم اور ٹیسٹ فارمیٹ میں نووارد فخرزمان کی پلیئنگ الیون میں جگہ تلاش کرنا ٹور سلیکشن کمیٹی کیلئے درد سر ہوگا، بابر اعظم ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی کی کارکردگی ٹیسٹ کرکٹ میں دہرانے میں ناکام رہے ہیں، اس بار بھی سخت دباؤ میں ہوں گے، حارث سہیل نے یواے ای میں سری لنکا کے خلاف چند اچھی اننگز کھیلی تھیں لیکن غیر ذمہ دارانہ انداز میں وکٹ گنواکر ٹیم کی کشتی بیچ منجدھار چھوڑ جاتے رہے، انہیں ٹمپرامنٹ مزید بہتر کرنا ہوگا۔

بیٹنگ میں توقعات کا بوجھ اظہرعلی، اسد شفیق اور سرفراز احمد جیسے سینئرز اٹھائیں تو دیگر بیٹسمینوں کو بھی حوصلہ ہوگا، کینٹ کے خلاف ٹور میچ میں پاکستانی بیٹنگ بری طرح فلاپ ہوئی، امام الحق کے سوا کسی کو وکٹ پر قیام طویل کرنے کا موقع نہیں ملا، آئرلینڈ نے اپنے سکواڈ میں 6فٹ 7انچ قامت کے بوائیڈ رینکن، سٹورٹ تھامپسن ،ٹائرون کین اور کیون اوبرائن پر مشتمل پیس بیٹری کو شامل کیا ہے۔

اگرچہ آئرش ٹیم اپنی تاریخ کا اولین ٹیسٹ میچ کھیلے گی لیکن اپنی کنڈیشنز میں فرسٹ کلاس کرکٹ کا تجربہ رکھنے والے میزبان بولرز پاکستانی بیٹنگ لائن کی ناتجربہ کاری کا بھرپور فائدہ اٹھاسکتے ہیں،بیٹسمین آئرلینڈ جیسی نوآموز ٹیم کے خلاف ثابت قدمی کا مظاہرہ نہ کرسکے تو انگلینڈ میں دونوں ٹیسٹ میچز میں اچھی کارکردگی مزید مشکل ہوجائے گی، میزبان ٹیم کے پاس ٹیلنٹ اور تجربے کی کمی نہیں اور پاکستان کے بیشتر کھلاڑی 5روزہ مقابلوں میں اپنی اہلیت ثابت کرنے کیلئے ٹرائل کے دور سے گزر رہے ہوں گے۔

گرین کیپس کا پیس اٹیک بھی نارتھمپٹن میں وارم اپ میچ کی پہلی اننگز کے دوران انگلش کنڈیشنز میں کوئی تہلکہ خیز کارکردگی دکھاتا نظر نہیں آیا، پیس اٹیک کی قیادت کا اہل محمد عامر کو سمجھا جارہا ہے لیکن ان کی بولنگ میں ماضی جیسا دم خم نظر نہیں آرہا۔

اس حقیقت کا اعتراف تو خود بولنگ کوچ اظہر محمود بھی کرچکے ہیں،انہوں نے پیسر سے ڈومور کا مطالبہ بھی کیا ہے لیکن نارتھمپٹن کیخلاف ٹور میچ میں صورتحال مختلف نظر نہیں آئی،راحت علی کی لائن اور لینتھ بہتر رہی، انہوں نے 2شکار بھی کئے لیکن محمد عامر وکٹ کو ترستے رہے، پیسر کے ٹیسٹ کرکٹ میں مستقبل پر سوالیہ نشان لگایا جارہا ہے، پی ایس ایل کے دوران اچھی فارم میں نظر آنے والے وہاب ریاض کو میچ ونر نہ ہونے کا طعنہ دینے والے ہیڈ کوچ مکی آرتھر ایک بار پھر محمد عامر سے بلند توقعات وابستہ کئے ہوئے ہیں۔

دورۂ آئرلینڈ اور انگلینڈ میں کارکردگی پیسر کے مستقبل کا بھی تعین کرے گی، محمد عباس ویسٹ انڈیز اور یواے ای میں تو نپی تلی بولنگ کرتے نظر آئے تھے، پیسر کاؤنٹی کرکٹ میں انگلش کنڈیشز کا زیادہ فائدہ اٹھانے میں زیادہ کامیاب نہیں ہوئے،نارتھمپٹن کے خلاف بھی واجبی کارکردگی کا مظاہرہ کیا، فہیم اشرف پی ایس ایل میں تو خوب چمکے،انگلینڈ میں روشنی ماند پڑتی نظر آرہی ہے۔

شاداب خان نے ناتجربہ کاری کے باوجود نارتھمپٹن کی 6وکٹیں اڑا کر یاسر شاہ کی کمی پوری کرنے کا اشارہ ضرور دیا ہے لیکن کارکردگی برقرار رکھنے کیلئے مہارت اور ذہن دونوں کا بہترین استعمال کرنا ہوگا،ماضی کے ٹورز میں پاکستانی فیلڈرز کئی غلطیاں کرتے ہوئے مواقع گنواتے رہے ہیں، خاص طور پر سلپ کیچز ڈراپ ہوتے رہے،سخت سرد موسم میں مہمان ٹیموں کیلئے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

پی سی بی نے میچز سے کئی روز قبل ٹیم کو روانہ کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ کھلاڑی کنڈیشنز سے ہم آہنگ ہوسکیں،فیلڈرز کو بولرز کا ساتھ دینے کیلئے ذہنی اور جسمانی طور پر خود کو تیار رکھنا ہوگا،پاکستان نے گزشتہ ٹورز کے برعکس ایک انوکھا فیصلہ کرتے ہوئے سرفراز احمد کے ساتھ دوسرے وکٹ کیپر کا انتخاب ضروری نہیں سمجھا،اگر بدقسمتی سے کپتان انجری کی وجہ سے دستیاب نہیں ہوتے تو متبادل کے طور پر اظہر علی یا حارث سہیل کو یہ ذمہ داری سنبھالنا ہوگی لیکن دونوں سے وکٹوں کے پیچھے زیادہ بہتر کارکردگی کی توقع نہیں کی جاسکتی۔

ٹور مشکل ضرور لیکن نوجوان کھلاڑیوں کیلئے اپنی صلاحیتوں کو منوانے کا سنہری موقع بھی ہے، اسکواڈ میں موجود پلیئرز کو دیکھتے ہوئے میچز میں کمبی نیشن کے حوالے سے تجربات کئے جانے کا امکان بھی رد نہیں کیا جاسکتا،تاہم ملنے والے موقع سے فائدہ اٹھانے والے کرکٹرز خود کو مستقبل کا سٹار ثابت کرسکتے ہیں۔

پی ایس ایل کی دریافت سمجھے جانے والے حسن علی،فخرزمان اور شاداب خان انگلینڈ میں چیمپئنز ٹرافی کے دوران ہی دنیائے کرکٹ پر گہرا تاثر چھوڑنے میں کامیاب ہوئے تھے،اس بار فارمیٹ مختلف سہی موقع بڑا ہے، آئرلینڈ کا اولین ٹیسٹ ناخوشگوار بنانے کے بعد اگر گرین کیپس انگلینڈ میں سیریز برابر کرنے میں بھی کامیاب ہوگئے تو پاکستانی ٹیم مینجمنٹ اور شائقین کیلئے بڑے اطمینان کی بات ہوگی۔