فاٹا اصلاحات پر اجلاس بے نتیجہ ختم جے یو آئی اور پختونخوا میپ کی مخالفت برقرار

وزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس، فضل الرحمن نہ آئے، اکرم درانی حکومت سے معاہدے کاذکرکرتے رہے،اجلاس جمعرات کوپھرہوگا


سمندری رسائی بہتر روابط کیلیے ضروری ہے، وزیراعظم کا میری ٹائم سمپوزیم سے خطاب، مقبوضہ کشمیرمیںبھارتی مظالم کی مذمت۔ فوٹو:فائل

KARACHI: وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی سربراہی میں فاٹا اصلاحات پر ہونے والا اجلاس بے نتیجہ ختم ہوگیا جب کہ حکومتی اتحادی جماعتیں جے یو آئی (ف) اور پختونخوا میپ اپنے اپنے موقف پر قائم رہیں۔

گزشتہ روز وزیراعظم کی زیر صدارت فاٹا ا صلاحات کے متعلق اجلاس ہوا جس میں تمام پارلیمانی لیڈرز کو مدعو کیا گیا تھا تاکہ فاٹا اصلاحات پر عملدرآمد کا جائزہ لیا جائے اور اس پر اتفاق رائے قائم کیا جائے تاہم اجلاس میں حکومتی اتحادی جماعت جے یوآئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن شریک نہیں ہوئے، ان کی نمائندگی وفاقی وزیر اکرم خان درانی نے کی۔ اجلاس 2 گھنٹے تک جاری رہا جس میں جے یو آئی (ف) کی طرف سے فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام کی مخالفت کی گئی۔

پختونخوا میپ کے سربراہ محمود اچکزئی بھی اپنے موقف پر قائم رہے تاہم باقی جماعتوں نے انضمام کی حمایت کی۔ وزیراعظم نے مسئلے کے حل کے لیے اجلاس جمعرات کو دوبارہ طلب کرلیا ہے۔

خبر ایجنسی کے مطابق اجلاس میں فاٹا اصلاحات کے معاملے پر متحدہ مجلس عمل میں شامل2 اہم جماعتوں جے یوآئی (ف) اور جماعت اسلامی کے مابین اختلاف بھی سامنے آگیا۔ جے یوآئی (ف) انضمام کی مخالف جبکہ جماعت اسلامی حامی ہے۔

اجلاس میں حکومت اور مولانا فضل الرحمن کا فاٹا کی حیثیت میں تبدیلی نہ کرنے کا5 سالہ تحریری معاہدہ بھی سامنے آگیا ہے۔ سرتاج عزیز کا موقف تھا کہ یہ معاہدہ ختم ہوچکا ہے تاہم اکرم درانی اس معاہدے کا ذکر کرتے رہے۔

پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے اجلاس کے بعد میڈیا کو بتایا کہ جماعت اسلامی، ایم کیوایم، پیپلزپارٹی، قومی وطن پارٹی، اے این پی، فاٹا اراکین اور تحریک انصاف فاٹا اصلاحات کے حق میں ہیں لہٰذا حکومت کو اپنے حلیفوں مولانا فضل الرحمن اورمحمود اچکزئی کو منانا چاہیے کیونکہ یہ دونوں فاٹا اصلاحات کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں، ہم نے 14 ماہ کی کوششوں سے اصلاحات کیں، اب جبکہ حکومت کے 20 دن باقی رہ گئے ہیں تو اس کو فاٹا اصلاحات یاد آئی ہیں۔

حکومت اجلاس میں دونوں حلیفوں کے سامنے مکمل طور پر بے بس نظر آتی ہے کیونکہ اکرم درانی کے مطابق حکومت نے 5 سال تک فاٹا کی حیثیت میں تبدیلی نہ کرنے کا تحریری معاہدہ کررکھا ہے اور یہ معاہدہ مولانا فضل الرحمن کیساتھ ہوا ہے۔

واضح رہے کہ وزیراعظم نے چند روز قبل اعلان کیا تھا کہ فاٹا اصلاحات پر ایک ماہ میں عملدرآمد کرلیا جائے گا۔

دوسری طرف انسٹی ٹیوٹ آف میری ٹائم افیئرز کے زیر اہتمام بین الاقوامی میری ٹائم سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ پاکستان سی پیک کی کامیاب تکمیل اور شاہراتی و سمندری راستوں کے ذریعے علاقائی رابطے کے فروغ کو یقینی بناکر اپنی اقتصادی نمو کی شرح کو 9 فیصد تک لے جا سکتا ہے، افغانستان کے ذریعے گوادر تک وسطی ایشیائی ریاستوں کی رسائی کو یقینی بنانے کے لیے افغان مسئلہ کا حل ناگزیر ہے۔

اس موقع پر آزاد کشمیرکے صدر سردار مسعود خان، چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل ظفر محمود عباسی، بحریہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ایڈمرل محمد شفیق، قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل (ر) ناصر خان جنجوعہ اور ڈی جی میری ٹائم افیئرز ریئر ایڈمرل مختار خان بھی موجود تھے۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ہوا بازی کا شعبہ اگرچہ بہت زیادہ پرکشش دکھائی دیتا ہے تاہم 80 فیصد عالمی تجارت ابھی بھی بحری راستہ سے ہوتی ہے۔ میری ٹائم کا شعبہ ہرملک کے لیے بہت اہم ہوتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سمندر تک رسائی کی فراہمی بہتر اقتصادی مواصلاتی روابط کے لیے ضروری ہے۔ بحرہند کا علاقہ عالمی توانائی کے بہاؤ اور تجارت کے لیے اہم مرکز ہے کیونکہ اس علاقے سے توانائی کا بہت زیادہ بہاؤ ہے، خطے میں تجارتی حجم میں اضافے کے لیے یہ بہت اچھا موقع ہے۔

خبر ایجنسی کے مطابق وزیراعظم نے کہاکہ چاہ بہار بندرگاہ گوادر کے لیے چیلنج نہیں بلکہ یہ علاقائی تجارت میں معاون ہوگی، خطے کی ترقی کے لیے سی پیک جیسے منصوبے بنانا ہوںگے۔

صدرآزاد کشمیر سردار مسعود خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ 68 ممالک کے درمیان ایک تجارتی و اقتصادی راہداری کا منصوبہ ہے، اس سے تین براعظموں میں مقیم دنیا کی 62 فیصد آبادی اقتصادی ترقی وجدید معاشی روابط سے مستفید ہوگی۔

مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کے حوالے سے اپنے بیان میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے دنیا بھر کے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جبر و استبداد کیخلاف اپنی آواز بلند کریں جبکہ عالمی رہنما کشمیری خواتین، بچوں اور نوجوانوں کو ناروا سلوک اور وحشیانہ مظالم سے بچانے کے لیے متحد ہوں۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں منظم وحشیانہ کارروائیوں، بیگناہ شہریوں کی شہادت اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں اضافہ پرگہری تشویش ہے۔ بھارتی ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں گزشتہ 36 گھنٹے میں 14 افراد کی شہادت ہوچکی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ اقوام متحدہ ہائی کمیشن برائے انسانی حقوق اور او آئی سی خود مختار مستقل انسانی حقوق کمیشن کو رسائی دینے سے انکار بھارتی جبر واستبداد اورمجرمانہ کارروائیوں کا واضح ثبوت ہے۔

مقبول خبریں