پل بناچاہ بنا مسجد و تالاب بنا

یہاں تک کی بات تو ہم پہلے بھی کر چکے ہیں لیکن پھر درمیان میں یہ تحقیقی پراجیکٹ ہم پورا نہیں کر پائے


Saad Ulllah Jaan Baraq May 09, 2018
[email protected]

دو چار بڑے بڑے تحقیقی پراجیکٹس سرانجام دینے کے بعد ہم بھی کچھ تھکے ہوئے تھے اور ہمارے '' ٹٹوئے تحقیق '' کو بھی ایک '' ٹٹوئین '' سے عشق ہوگیا یا چلیے صرف '' نین مٹکا '' ہی کہہ لیجیے، یہ '' ٹٹوئن '' بھی کچھ بڑی عیار تھی جو دور سے بالکل '' گھوڑی '' لگتی تھی لیکن قریب جاکر دیکھنے پر سو فیصد '' گدھی '' ثابت ہو جاتی تھی۔ یہ تو بہت بعد میں پتہ چلا کہو نہ گدھی تھی نہ گھوڑی صرف خچر نی تھی۔ اپنے اس بے حاصل عشق سے توبہ تائب ہو کر ہمارا ٹٹوئے تحقیق بھی بڑا دلبرداشتہ تھا اور ہم بھی کافی آرام کر چکے تھے ، اس لیے اب لہو گرمانے کے لیے کوئی تحقیقی پراجیکٹ درکار تھا ۔ پہلے تو ہم نے سوچا کہ اس بہت بڑے ڈرامے پر کچھ تحقیقی کام کریں جو آج کل پاکستان کے اسٹیج پر کھیلا جا رہا ہے اور خوب خوب رش لے رہا ہے اوریہ پتہ کریں کہ یہ جو مہا چور پکڑا گیا ہے، اس کی شامت کیوں آگئی۔

آیا ''دیوتا '' ا س سے ناراض ہو گئے ہیں ۔کیا اس کی جڑوں سے کوئی اور کونپل پھوٹنے والی ہے یا کسی اور خوش قدم خوش خیرام اور گل اندام حسینہ کے لیے جگہ صاف کی جارہی ہے اور یہ کہ اچانک اس ملک میں چوروں کی پکڑم پکڑائی کیوں ؟ کہ اس حمام میں اور بھی بہت سارے اور اس سے بڑے بڑے ننگے موجود ہیں بلکہ اگر پاکستان کا ہر باشندہ اپنے آپ کو آئینے میں دیکھ لے تو چور پکڑنے کے لیے کہیں اور جانے کی ضرورت ہی محسوس نہ کرے ۔ اس لیے ہمیں ساؤ دان ہونا چاہیے، اگر ایک بھی گولہ پڑا تو پھر نہ دل ہوگا نہ دل کا نشان اورہمیں بزرگوں کی ایک کہانی یاد آئی کہ ایک بھوکے پیاسے گیدڑ کو جنگل میں ایک بہت بڑے بھینسے کی لاش ملی تو سوچا نہ اور پل پڑا ۔ نرم نرم گوشت کے تعاقب میں وہ بھینسے کے اندر بہت دور تک گھس گیا۔ اتفاق سے اس وقت بھینسے کی لاش سکڑ نا شروع ہوئی اور گیدڑ کی گردن اس میں جکڑ گئی۔

بچارے نے بہت زور لگایا لیکن گردن کو نہ چھڑا سکا۔ آخر بے دم ہو ہوگیا اور نیم بیہوشی کی حالت میں گردن وہیں پر ڈال دی جہاں تھی۔ پوری رات اور دن گزرنے پر بھینسے کی لاش سکڑاؤ کے مرحلے سے نکل کر سڑنے کے مرحلے تک پہنچی۔ سبق گزیدہ او ر عنبرت چشیدہ گیدڑ تیزی سے بھاگتا ہوا اپنے آپ سے کہہ رہا تھا۔ مجھے باپ سمجھایا کر تا تھا کہ بڑے بڑوں سے دور رہا کرو لیکن میں بھول گیا تھا لیکن اب نہیں بھولوں گا ۔

ہم نے بھی بہتر جانا کہ بڑے بڑوں کو نہ چھیڑیں تو بہتر ہے۔ اپنی تحقیق کا ٹٹو '' موڑ مہارا ں '' کرکے چل پڑے تو سامنے ایک جانا پہچانا تحقیقی پراجیکٹ کھلا پڑا تھا جس پر ہم پہلے بھی کچھ اپنا تحقیقی کام کرچکے تھے لیکن اس کے بہت سارے پہلو تحقیق طلب رہ گئے تھے ۔ ہوا یوں کہ ہم نے ایک بہت بڑے دانا دانشور کو ایک تقریب میں مقالہ پڑھتے ہوئے سنا تو تحقیق کا یہ موضوع سوجھ گیا ۔

وہ دانا دانشور ہمہ جہت دانا دانشور تھا کہ ہر موضوع پر اپنی دانش بکھیر سکتا تھا کیونکہ ریٹائرڈ سرکاری یعنی بھوت دانشور تھا اور بھوت دانشور یعنی ریٹائرڈ افسر دانشور امرت دھارے ہوتے ہیں۔ ہر موضوع پر بلا تکان بول سکتے ہیں اور ایسا بولتے ہیں کہ سننے والوں کا بول رادھا بول ہو جاتا ہے ،اس دن وہ کالو نیلزم یعنی نو آبادیاتی نظام پر بول رہا تھا اور دنیا بھر کے دانشوروں کے حوالے دے دے کر ثابت کر رہا تھا کہ انگریز ہمارے اس ملک کو بہت بری طرح لوٹ کر سارا مال برطانیہ لے جا رہے تھے۔ وہ تو خدا بھلا کرے اس دانشور کے باپ داداؤں کا کہ انھوں نے آزادی کی تحریک چلائی اور انگریزوں کی لوٹ مارانہ ، استحصالانہ اور ظالمانہ سامراج کو چلتا کر دیا ورنہ نہ جا نے کیا ہو جاتا ۔اور یہیں سے ہمارے دل میں کچھ کچھ ہونے لگا کہ ذرا پتہ تو لگائیں کہ ظالم انگریزی سامراج جو بے پناہ سرمایہ لوٹ کر لے جارہا تھا اور اب وہ نہیں رہا تو وہ '' بچ جانے '' والا سرمایہ کہاں ہے، کس کے پاس ہے ا ور کہاں رکھا ہوا ہے یعنی

سنا ہے یہ کہ ان کی بھی '' کمر '' ہے

کہاں ہے کس طرح ہے اور کدھر ہے

یہاں تک کی بات تو ہم پہلے بھی کر چکے ہیں لیکن پھر درمیان میں یہ تحقیقی پراجیکٹ ہم پورا نہیں کر پائے، اس لیے نئے سرے سے اس پر کام کا آغاز کر رہے ہیں کیونکہ اس دن ہمیں جب لاہور جانا پڑا اور راستے میں جگہ جگہ کمین گاہوں سے واسطہ پڑا تو پتہ چلا کہ کچھ کم وبیش دو روپے فی کلو میٹر کے حساب سے یہ سفر ہمیں پڑا جو گاڑی کے خرچے سے بس تھوڑا ہی کم تھا ، تب اس تحقیقی پراجیکٹ کا خیال آیا اور سلسلے کو وہیں سے جوڑا جہاں سے ٹوٹا تھا کہ وہ استحصالی لٹیرے اور ظالم انگریز بھی تو سڑکیں اور پل بنایا کرتے تھے اور اس پر '' سفر '' کتنے میں ایک کلو میٹر پڑتا تھا؟۔کہیں کوئی ریکارڈ نہ پا کر آخر کار ہم نے اسی دانا دانشور سے رجوع کیا۔

جس نے لگ بھگ دو سو کتابوں کی مدد سے جو کالونلیزم پر لکھی گئی ہیں یہ ثابت کیا تھا کہ انگریز ہمارے ملک کا سرمایہ لوٹ کر برطانیہ لے جاتے اور کچھ ہی عرصے میں برطانیہ کی حالت یہ ہو گئی تھی کہ قرض دینے والے بینک اور کمپنیاں قرضے لیے پھرتی تھی اور کوئی قرضہ لینے والا نہیں ملتا تھا ۔ لیکن اب وہ قرض سے بے نیاز کرنے والا سرمایہ تو ہمارے پاس رہ گیا ہے اس لیے صورت حال یہاں پر وہ کیوں نہیں ہو رہی ہے بلکہ یہاں تو ہمارا ملک دنیا بھر میں کشکول لیے پھرتا ہے اور کوئی قرض دینے والا نہیں ملتا۔دانا دانشور نے ہماری بات سنی تو نہایت دانش مندانہ مسکراہٹ اپنے ہونٹوں پر لاتے ہوئے بولے ، آخر نکلے نا عامی اسی لیے تو ہماری حکومتیں اور سیاسی پارٹیاں تم کالا نعاموں کو سمجھا رہی ہیں کہ دماغ سے کام لینا تمہارا کام نہیں اور پھر خاص طور پر ''حساب کتاب '' سے تو رورہی ہو کہ بد پرہیزی تمہارے لیے مضر ہے۔

تم صرف حکمرانوں کو پالو تاکہ وہ تمہارے لیے اپنے عالی دماغوں کو استعمال کرکے سوچیں جہاں تک سڑکوں اور پلوں کا معاملہ ہے تو انگریزوں نے سارے پل اور سٹرکیں ریلوے لائینز اور دوسرے ذرایع مواصلات صرف اور صرف اس لیے بنائے تھے کہ وہ ان کے ذریعے ہمارا وطن لوٹ لوٹ کروسائل اور خام مال لے جا سکیں ۔ اس لیے وہ ان سڑکوں پلوں وغیرہ پر مورچے یعنی پلازے بنا کر نہیں لوٹتے تھے ۔ جب کہ ہمارے یہ '' اپنے '' صرف اور صرف ہماری بہبود کے لیے یہ سب کچھ بناتے ہیں۔ اپنی جیب سے پیسے خرچ کرتے ہیں ،اپنی جائیداد یں بیچ بیچ کر دوسرے سرے پر جائیں، وہ بھی صرف دوروپے فی کلو میٹر کے حساب سے۔ ہم نے پھر اس مال کے بارے میں پوچھنا چاہا جو انگریز اب نہیں لے جا رہے ہیں لیکن ان کا نماز کا وقت ہو گیا تھا، اس لیے چلے آئے ۔