آئی کیپ نے ایمنسٹی اسکیموں پر آئینی پابندی کا مطالبہ کردیا

کالا دھن سفید کرنے کیلیے ایمنسٹی اسکیمز ٹیکس کلچر میں رکاوٹ اور تباہ کن قرار۔


Business Reporter April 19, 2013
کالا دھن سفید کرنے کیلیے ایمنسٹی اسکیمز ٹیکس کلچر میں رکاوٹ اور تباہ کن قرار۔

ISLAMABAD: انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان (آئی کیپ) نے کالا دھن سفید کرنے کے لیے ایف بی آر کی ایمنسٹی اسکیموں کو ٹیکس کلچر کی راہ میں رکاوٹ اور ٹیکس نظام کے لیے تباہ کن قرار دیتے ہوئے ملک میں ایمنسٹی اسکیموں پر آئینی پابندی کا مطالبہ کردیا ہے۔

چیئرمین ٹیکسیشن کمیٹی آئی کیپ ثاقب مقصود نے کہا ہے کہ ملک کو ایک ہموار میدان کی ضرورت ہے جہاں 'محفوظ اسٹیک ہولڈرز' پر بھی عام آدمی جیسے ٹیکس عائد کیے جا سکیں تاہم انتخابی سال میں اصلاحات متعارف کرانا یقینا مشکل ہوگا کیونکہ عبوری حکومتی ڈھانچے کی پوری توجہ صرف ایک بات یعنی انتخابات پر ہوگی۔ آئی کیپ میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک اہم پیشہ ورانہ تنظیم ہونے کے ناطے آئی کیپ نے ایک خوش حال ٹیکس کلچر کی تعمیر کا عزم کر رکھا ہے تاکہ دیرپا ترقی کے حصول کو یقینی بنایا جا سکے۔

انہوں نے زور دیا کہ ملک کے ہر شہری کو ٹیکس کے بوجھ کا خیال کرنا چاہیے اور ٹیکس بیس میں اضافہ کرنے کے ترجیحی مقصد کو حل کرنے کے مساوی کردار ادا کرنا چاہیے، چند عشروں قبل ٹیکس جمع کرنے کے عارضی اقدام کے طور پر حتمی اور فکسڈ ٹیکس کا نظام متعارف کرایا گیا تھا لیکن معاشی بدنظمی اور ٹیکس جمع کرنے کے ناقص نظام کا ازالہ کرنے کے لیے اسے ٹیکس جمع کرنے کے ایک اہم ٹول میں تبدیل کرنا پڑا۔



یہ سارے نظام اور ان کے ساتھ ساتھ 'عام معافی کی اسکیموں' نے ٹیکس ادا کرنے والے ایماندار لوگوں کی نظروں میں ٹیکس کے پورے نظام کے تصور میں ایک غلط رنگ بھر دیا۔ کسی بھی ٹیکس پالیسی کا طویل المدت مقصد اس تصور کو جلد سے جلد ختم کرنا ہے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ قانون میں ایسی شقیں موجود ہیں جو غیرممالک سے آنے والی بیرونی رقوم پر ٹیکس میں چھوٹ دیتی ہیں، اگرچہ بیرون ملک مقیم ہم وطن سخت محنت کرتے ہیں اور جو رقم وہ اپنے خاندانوں کی کفالت کے لیے پاکستان بھیجتے ہیں وہ ہماری معیشت کیلیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں تاہم بے ایمان ہاتھوں میں اس چھوٹ کا جانا ایک بڑی سطح پر ٹیکس چوری کا سبب بنتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ چھوٹ صرف اس وقت دستیاب ہونی چاہیے جب خاندان کا کوئی فرد بیرون ملک سے رقوم اپنے خاندان کو بھیج رہا ہو یا ایسی رقوم پر جو کسی پلانٹ یا مشینری میں سرمایہ کاری کیلیے بھجوائی جا رہی ہیں۔