ماہ رمضان میں ہوشربا مہنگائی روزہ دار پریشان

کسی شہر یا قصبے کی انتظامیہ مہنگائی کی روک تھام میں مکمل طور پر ناکام نظر آئی۔


Editorial May 19, 2018
ماہ مقدس میں موسمی دکاندار بھی بکثرت نظر آتے ہیں جو ٹھیے اور ٹھیلے لگا کے زائد قیمت پر پھل بیچتے ہیں۔ فوٹو: فائل

ماہ رمضان کا آغاز ہوتے ہی اشیائے خورونوش اور پھلوں کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگی ہیں ، سادہ الفاظ میں یوں کہہ لیجیے کہ پھلوں کے نرخ خریداروں کی پہنچ سے باہر ہوگئے ۔ کراچی ، اسلام آباد، لاہور، کوئٹہ ، فیصل آباد ، پشاور، حیدرآباد الغرض ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں رہنے والوں کو رمضان کے آغاز پرگراں فروشی کے طوفان کا سامنا ہے، کسی شہر یا قصبے کی انتظامیہ مہنگائی کی روک تھام میں مکمل طور پر ناکام نظر آئی ، سرکاری نرخ نامے اول تو دکانوں پر آویزاں ہی نہیں تھے اگرکہیں چسپاں بھی تھے تو وہ غیر موثر نرخ تھے ۔

یکم رمضان کوہی پھلوں کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ اس بات کو ظاہرکرتا ہے کہ اول انتظامیہ نامی کسی شے کا وجود نہیں اور دوسرا ناجائز منافع خور ماہ مقدس کوکمائی کا بہترین ذریعہ جانتے ہیں ۔ بظاہر اسلام آباد شہر میں بعض مقامات پر سستے بازار لگائے گئے ہیں لیکن ان میں ناقص اشیائے خورونوش فروخت کی جارہی ہیں جب کہ اوپن مارکیٹ میں پھل فروشوں کی من مانیاں انتظامیہ سے اوجھل ہیں ۔

سستے بازاروں میں قیمتیں عام مارکیٹ کی نسبت کم ضرور ہیں لیکن پھل عام مارکیٹ کی نسبت ناقص ہیں ، دوسری جانب اوپن مارکیٹ میں بعض دکانداروں کے پاس ریٹ لسٹ نہیں جن کے پاس ہے وہ اس کو شہریوں سے چھپا کر رکھتے ہیں اور من مانی قیمت وصول کررہے ہیں۔

ماہ مقدس میں موسمی دکاندار بھی بکثرت نظر آتے ہیں جو ٹھیے اور ٹھیلے لگا کے زائد قیمت پر پھل بیچتے ہیں۔ جب دارالحکومت کا یہ حال ہے تو پھر لاہور، کراچی یا دوسرے بڑے شہر کس قطار، شمار میں ہیں ۔افسوسناک امر ہے کہ بازاروں میں درجہ اول پھلوں کے نام پر درجہ دوم پھل بیچے جارہے ہیں اور دکاندار نرخ نامے کے بجائے مرضی کے دام وصول کرتے ہیں۔ پ

ھلوں کی پیداوار میں ہمارا ملک خودکفیل ہے ، ہر موسم کے پھل بآسانی اور بکثرت دستیاب ہوتے ہیں لیکن انتہائی قابل افسوس امر ہے کہ رمضان کے تقدس کو تاجروں ، دکانداروں نے ناجائز منافع خوری کو اپنا چلن بنا لیا ہے یہ سب انتظامیہ کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔

ماہ مقدس کے تقدس اور احترام کا خیال رکھتے ہوئے پھلوں کی قیمتیں مناسب سطح پر برقرار رکھنے کے لیے حکومتی سطح پر فوری اقدامات اٹھائے جانے چاہییں تاکہ ناجائز منافع خوروں کی نہ صرف حوصلہ شکنی ہوسکے بلکہ انھیں قانون کے مطابق قرار واقعی سزا بھی دی جائے ۔ سستے نرخ پر پھل ملنے چاہئیں تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے ۔