سیاسی جماعتیں قومی مسائل سے آگاہ ہیں

گنہگاروں اور بے گناہوں میں تمیز ہوتی ہے لیکن اس دہشت گردی کی کوئی سمت ہے نہ امتیاز، نہ دوست دشمن کی تمیز۔


Zaheer Akhter Bedari April 21, 2013
[email protected]

اگر سیاسی جماعتیں ملک و قوم سے مخلص ہوں تو وہ سب سے پہلے اہم قومی اور بین الاقوامی مسائل کا تعین کرتی ہیں اور ان کی ترجیحات طے کرتی ہیں اور ان کے حل کے حوالے سے ایک شارٹ ٹرم اور لانگ ٹرم پالیسی تشکیل دیتی ہیں اور ان پر عملدرآمد کا ایک واضح پروگرام بناتی ہیں، ان مسائل کو وہ اپنے منشور کا حصہ بناکر عوام کے سامنے پیش کرتی ہیں اور عوام کا یہ آزادانہ حق ہوتا ہے کہ وہ جس پارٹی کے منشور کو بہتر سمجھتے ہیں اسے الیکشن میں اپنا ووٹ دیتے ہیں۔

جب ہم اس تناظر میں سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے منشور کا جائزہ لیتے ہیں تو حیرت ہوتی ہے کہ ان جماعتوں کے منشور میں ان اہم ترین قومی مسائل کا ذکر ہے، نہ ان کی ترجیحات ہے، نہ ان پر عملدرآمد کے حوالے سے کوئی واضح پالیسی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ بس عوام کو خوش کرنے اور میڈیا کے دباؤ سے نکلنے کے لیے انھوں نے سطحی انداز میں بعض قومی مسائل کا اپنے منشور میں ذکر کردیا لیکن ان کے حل کے حوالے سے کسی ٹھوس پالیسی کا اعلان نہیں کیا۔

مثلاً ملک کا ہر بالغ نظر شخص، ہر مفکر، دانشور اور ہر ایماندار سیاسی رہنما اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ ہماری سیاسی، سماجی اور اقتصادی زندگی کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی دیوار نیم قبائلی جاگیردارانہ نظام ہے، جب تک اس نظام سے چھٹکارا نہیں حاصل کیا جاتا اس وقت تک ہم زندگی کے کسی شعبے میں کوئی پیش رفت نہیں کرسکتے۔ اس حقیقت کا ادراک رکھنے کے باوجود کسی سیاسی یا مذہبی جماعت نے اس پسماندہ ترین اور ازکار رفتہ نظام کے خاتمے کو اپنے منشور میں شامل نہیں کیا۔ عوام کو بے وقوف بنانے کے لیے کسی نے زمین اور کارخانوں میں ہاریوں، کسانوں اور مزدوروں کو 50 فی صد کا حصہ دار بنانے کا ذکر کردیا تو کسی نے زرعی ٹیکس وصول کرنے کا وعدہ کیا۔

زیادہ جماعتوں کے منشور میں تو اس مسئلے کا سرے سے ذکر ہی نہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ الیکشن لڑنے والی جماعتیں تحقیق کرکے عوام کو یہ بتاتیں کہ قانون ساز اداروں پر وڈیروں اور جاگیرداروں کی تعداد کتنی ہے اور وہ ان اداروں کی کل تعداد کا کتنے فی صد حصہ ہیں اور ان کے قبضے میں انفرادی اور اجتماعی طور پر کتنی زرعی زمین ہے اور اس سے انھیں کتنی آمدنی ہورہی ہے۔ اسی طرح الیکشن لڑنے والی جماعتیں عوام کو یہ بھی بتاتیں کہ مرکزی اور صوبائی حکومتوں میں ان کی تعداد کتنی ہے اور پھر یہ اعدادوشمار پیش کرنے کے ساتھ ملک میں زرعی اصلاحات کا وعدہ کرتیں اور ہاریوں اور کسانوں میں جاگیرداروں سے لی گئی زمین تقسیم کرنے کا ایک جامع اعلان کرتیں۔

لیکن ایسا کچھ نہ ہوا۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ سیاسی اور مذہبی جماعتوں کو اس اہم ترین قومی مسئلے سے آگاہی نہ ہو بلکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ ہر بڑی جماعت وڈیروں اور جاگیرداروں کا اپنی جماعتوں میں خیرمقدم اس لیے کرتی ہے کہ ہمارے انتخابی نظام میں جاگیردار اور وڈیروں کی نشستیں کامیابی کی ضمانت ہوتی ہیں اور ہر جماعت ان عوام دشمن طبقات کو سینے سے اس لیے لگائے رکھتی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ سیٹیں حاصل کرنا چاہتی ہے۔ اسے اس بات کی قطعی پرواہ نہیں ہوتی کہ ان کی زیادہ سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے کی اس خواہش کے نتیجے میں ملک میں جاگیردارانہ نظام اور مضبوط ہورہا ہے اور سیاست اور اقتدار پر ان کی گرفت اور مضبوط ہورہی ہے۔

جاگیردارانہ نظام کی ایماندارانہ اور نظریاتی مخالف صرف بائیں بازو کی جماعتیں ہیں، ان کے منشور میں یہ مسئلہ ہمیشہ سرفہرست رہا ہے اور جو ٹکڑوں میں بٹی یہ جماعتیں اب بھی موجود ہیں وہ بڑی ایمانداری سے جاگیردارانہ نظام کا خاتمہ چاہتی ہیں لیکن ان کی سب سے بڑی سیاسی اور نظریاتی بددیانتی یہ ہے کہ یہ ٹکڑے اس مستحکم اور مضبوط نظام کے خاتمے کے لیے نہ کسی ایک مرکز پر جمع ہونا چاہتی ہیں نہ ان میں یہ سیاسی بصیرت اور اہلیت موجود ہے کہ وہ اس اہم ترین قومی مسئلے کے حل کے لیے کوئی بڑا اینٹی فیوڈل اتحاد بناسکیں، اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ساری سیاسی اور مذہبی جماعتیں اس اہم قومی مسئلے پر زبانی جمع خرچ سے آگے آنے کے لیے تیار ہیں نہ کسی زرعی اصلاحات کے حوالے سے کوئی عملی جدوجہد پر آمادہ ہیں۔

اس حوالے سے دلچسپ بات یہ ہے کہ بعض این جی اوز زرعی اصلاحات کے مطالبے پر سندھ کے بعض شہروں میں سیمینار، جلسے، کانفرنسیں اور ثقافتی پروگرام کرتی نظر آرہی ہیں۔ چند ماہ پہلے ایک تنظیم کی طرف سے حیدر آباد میں ایک کسان کانفرنس کی گئی تھی جس میں اندرون سندھ کے کئی شہروں سے ہاری کسان اور بڑی تعداد میں خواتین شریک ہوئی تھیں، اس تقریب میں ہم بھی خصوصی طور پر مدعو تھے، یہ بڑا کامیاب اجتماع تھا اور اس کے بعد اور کئی اجتماعات ہوئے ہیں لیکن یہ مسئلہ نہ وقتاً فوقتاً جلسے جلوسوں سے حل ہوسکتا ہے نہ اکیلی این جی اوز اس کا کچھ بگاڑ سکتی ہیں، اس مسئلے کے حل کے لیے تمام اینٹی فیوڈل طاقتوں کو اپنی ڈفلی اپنے راگ سے نکل کر ایک مرکز پر آنا ہوگا اور ایک مربوط اور منصوبہ بند جدوجہد کا آغاز کرنا ہوگا۔ اس کے علاوہ کی جانے والی ہر کوشش نمائش کے علاوہ کچھ نہیں۔

ہم جس پسماندہ ترین نظام میں رہ رہے ہیں یہ قبائلی جاگیردارانہ اور سرداری نظام کا ایک ایسا ملغوبہ ہے جس نے پاکستانی معاشرے کو نہ صرف چوں چوں کا مربہ بناکر رکھ دیا ہے بلکہ اس نظام کی گندی زمین سے قبائلی معاشرت کا ایک ایسا خطرناک سانپ سر اٹھا رہا ہے جس کی ہلاکتوں سے ساری پاکستانی سرزمین لرزہ براندام ہے۔ اس بلائے بے درماں کا نام مذہبی انتہاپسندی عرف دہشت گردی رکھا گیا ہے۔ ہمارے اہم بلکہ خطرناک ترین قومی مسئلوں میں یہ مسئلہ سرفہرست اس لیے آگیا ہے کہ اس بلا نے خیبر سے کراچی تک خون ہی خون بکھیر دیا ہے۔

اس مسئلے کا مذہب سے کوئی تعلق ہے نہ اسے ہم مذہبی انتہاپسندی کا نام دے سکتے ہیں کیونکہ ان دونوں نظریات کی بھی کوئی سمت ہوتی ہے، دوست اور دشمن میں امتیاز ہوتا ہے، گنہگاروں اور بے گناہوں میں تمیز ہوتی ہے لیکن اس دہشت گردی کی کوئی سمت ہے نہ امتیاز، نہ دوست دشمن کی تمیز اور ہماری مذہبی قیادت کی ایمانداری کا عالم یہ ہے کہ انھیں عوامی حمایت سے 35 سالہ محرومی نے اس قدر موقع پرست بنادیا ہے کہ وہ محض اس امید پر کہ شاید یہ دہشت گرد پاکستان کے اقتدار پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوجائیں اور انھیں اقتدار میں حصہ مل جائے ان کی بلاواسطہ یا بالواسطہ حمایت کر رہے ہیں۔ اس منظرنامے میں وہ مذہبی جماعتیں لائق تحسین ہیں جو کھل کر نہ صرف دہشت گردوں کی غیر مشروط مذمت کررہی ہیں بلکہ ان کی بربریت کے خلاف سڑکوں پر آرہی ہیں۔

ہمارا تیسرا اہم قومی مسئلہ بجلی گیس کی لوڈشیڈنگ ہے۔ ہماری اپوزیشن اس مسئلے کے حوالے سے سابق حکومت پر تنقید اور الزامات کی بارش کرتی رہی ہے کہ یہ مسئلہ اس کی نااہلی سے پیدا ہوا ہے لیکن اب یہی جماعتیں فرما رہی ہیں کہ اگر وہ اقتدار میں آگئیں تو چار پانچ سال میں یہ مسئلہ حل کریں گی، اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ مسئلہ صرف سابق حکومت کی نااہلی کا مسئلہ نہیں بلکہ اس مسئلے کا تعلق ان تمام جماعتوں سے ہے جو ماضی میں برسراقتدار رہی ہیں اور اس مسئلے کو حل کرنے میں اس لیے ناکام رہی ہیں کہ اس مسئلے پر سوچنے اور منصوبہ بندی کرنے کے لیے یا تو ان کے پاس وقت نہ تھا یا پھر وہ اس قدر نااہل تھیں کہ انھیں اس مسئلے کی سنگینی کا احساس ہی نہ تھا۔ اب بھی یہ جماعتیں اس اہم قومی مسئلے پر سر جوڑ کر بیٹھنے اور کوئی ٹھوس منصوبہ بندی کے بجائے خوش کن دعوؤں پر ہی قناعت کر رہی ہیں۔

ہمارا ایک بڑا قومی مسئلہ ہماری خارجہ پالیسی میں مذہبی انتہاپسندی اور ماتحتی کا عنصر ہے۔ امریکا ایک سامراجی ملک ہے لیکن امریکا اور اس کے اتحادی دنیا کی ایک بڑی طاقت ہیں اور کوئی ملک ان سے اندھی مخالفت کا راستہ اپنا کر اپنے قومی مفادات کو داؤ پر نہیں لگا سکتا۔ جب ہم امریکا کے ڈرون حملوں کی مذمت کرتے ہیں تو ہمیں اس حقیقت کا بھی ادراک ہونا چاہیے کہ بے لگام دہشت گردی نے خیبر سے کراچی تک عوام کی جان و مال کو غیر محفوظ بنادیا ہے۔ یہ چند اہم قومی مسائل ایسے ہیں جن پر سیاسی اور مذہبی جماعتوں کو ایک واضح پالیسی اختیار کرنا ہوگی محض نعرے بازی اور عوام کو بے وقوف بنانے کی سیاست سے کچھ حاصل نہ ہوگا۔ نہ ادھورے اور اصل مسائل سے چشم پوشی سے عوامی حمایت حاصل ہوسکتی ہے۔

مقبول خبریں