ہیٹ ویو کی نذر 64 زندگیاں

جسم کو ڈھانپ کر باہر نکلیں تاکہ دھوپ کی تمازت سے براہ راست بچ سکیں


Editorial May 23, 2018
جسم کو ڈھانپ کر باہر نکلیں تاکہ دھوپ کی تمازت سے براہ راست بچ سکیں ۔فوٹو: فائل

کراچی میں سورج سوا نیزے پرکیا آیا کہ شدید گرمی کے تمام سابق ریکارڈ ٹوٹ گئے ، صرف تین دن میں 64 افراد جان سے گئے ، یہ اطلاع ایدھی فاؤنڈیشن کے ذمے داروں نے ذرایع ابلاغ کو مہیا کی جب کہ سیکریٹری صحت نے اسے غلط قرار دیا ۔ حیران کن بات یہ ہے کہ اس دورجدید میں تین دن بعد میڈیا کو یہ اطلاعات فراہم کی گئیں، حکومتی ذرایع کا کہنا تھا کہ ہیٹ ویوکی صورت میں ہیٹ اسٹروک سے متاثرہ مریض کثیر تعداد میں اسپتالوں میں لائے جاتے ہیں،جب کہ ایسے واقعات رپورٹ نہیں ہوئے ہیں۔

حقیقت جو بھی ہے اسے تحقیقات کے بعد سامنے آنا چاہیے کیونکہ چونسٹھ قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ایک معنی رکھتا ہے، اسے ہم انسانی المیہ قرار دے سکتے ہیں ۔ کراچی غریب اور بندہ پرورشہر ہے ، جو پورے پاکستان کے لوگوں کو اپنے دامن وسیع میں نہ صرف پناہ دیتا ہے بلکہ انھیں روزگار بھی فراہم کرتا ہے ۔ شہرکی آبادی میں جس تیزی سے اضافہ ہوا ہے اس کی مثال نہیں ملتی ۔ دوکروڑ آبادی والے شہر میں انفرا اسٹرکچر کے نام درختوں کی کٹائی نے ظلم ڈھایا ہے ۔ بلندوبالا کمرشل ورہائشی عمارتوں ، سڑکوں اور پلوں کی تعمیر کے دوران جو درخت کاٹے گئے، ان کے متبادل کچھ بھی نہیں لگایا گیا ماسوائے کھجور کے درختوں کے جو سوکھ گئے ، یونیورسٹی روڈ کی زندہ مثال موجود ہے ۔

ایک زمانہ تھا کہ شہر میں برگد اور نیم کے درخت باکثرت پائے جاتے تھے اب تو شہر میں دھوپ سے بچنے کے لیے کوئی درخت تو کیا کوئی جھاڑی نہیں ملتی ۔ دو دہائی قبل تک شہر کا موسم اتنا شدید نہیں ہوتا تھا، ملک بھر سے لوگ جون ، جولائی کی چھٹیاں منانے کراچی آتے تھے، اب یہ عالم ہے کہ اپریل سے قیامت کی گرمی پڑنا شروع ہوجاتی ہے۔ صنعتی آلودگی نے فضائیں بھی آلودہ کردی ہیں ۔ سانس لینا ویسے ہی دوبھر تھا جو اب لینا بھی مشکل ہوچلا ۔ ماہرین موسمیات نے انکشاف کیا ہے کہ سمندری ہواؤں کی مسلسل بندش '' ہیٹ ویو'' کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتی ہے ۔ اہل کراچی 2015 کے ماہ رمضان میں آنے والی خطرناک ہیٹ ویو کو نہیں بھولے ، جس میں کم وبیش پندرہ سو افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے ۔

اب بھی شہری بری طرح خوفزدہ ہیں ہیٹ ویو آنے سے ۔ اسکولوں کی تعطیلات مقررہ وقت سے پہلے کردی گئیں ہیں جب کہ جامعہ کراچی نے بائیس سے چوبیس مئی تک ہونیوالے تمام امتحانات بھی ملتوی کردیے گئے ہیں۔ حبس اور لو لگنے سے متاثرہ افراد کو بڑی تعداد میں اسپتالوں میں لایا جا رہا ہے ۔ ماہرین صحت نے ایڈوائس جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ گرمی کی شدت میں اضافے پر شہری بندکمروں میں نہ بیٹھے رہیں بلکہ کھلے سایہ دار مقامات پر بیٹھیں اور ٹھنڈا پانی زیادہ سے زیادہ پئیں، بلاضرورت دھوپ میں گھروں سے باہر نہ نکلیں اگر ضروری کام ہو توگیلے تولیے یا کپڑے سے سر اور جسم کو ڈھانپ کر باہر نکلیں تاکہ دھوپ کی تمازت سے براہ راست بچ سکیں۔

ماہرین صحت کا کہا بجا ، لیکن کراچی تو لاکھوں دیہاڑی دار مزدوروں کا شہر ہے، جو روزانہ کام پر نہ نکلیں تو شام کو ان کے گھر کا چولہا نہیں جلے گا۔ وہ تو مجبورو لاچار ہیں ان کا کوئی پرسان حال نہیں ۔ چند چوراہوں پر ہیٹ اسٹروک کے کیمپ لگا دینے سے صوبائی اور شہری حکومت اپنی ذمے داریوں سے بری الذمہ نہیں ہوسکتی۔ سر جوڑکر بیٹھیں، پلان تشکیل دیں ورنہ آنے والی ایک دہائی میں یہ شہر رہنے کے قابل نہیں رہے گا، یہ کہنا ہے ماحولیات کے ماہرین کا۔