گندم کی فصل الیکشن اور ایک قیدی
معلوم نہیں وہ کتنا بڑا احمق تھا جس نے عین گندم کی کٹائی کے موقع پر الیکشن رکھایا تاکہ ووٹر الیکشن سے دور رہیں.
پاکستان بھر میں الیکشن برپا ہے اور جو امیدوار ہیں، ان کی تو جان پر بنی ہوئی ہے مگر ووٹروں کی جان بنی ہوئی ہے۔ ڈیرے آباد ہیں، حقے تازہ کر دیئے گئے ہیں، کمی کاری مہمانوں کی خدمت میں مصروف ہیں، ہر طرف جشن کا سماں ہے، کسی ناکامی اور دلوں کے اندیشے بھلا کر ہر کوئی خوش خوش دکھائی دے رہا ہے اور سب کر رہے ہیں آہ و فغاں سب مزے میں ہیں۔
کوئی امیدوار اندر سے کتنا ہی بدمزہ کیوں نہ ہو نظر وہ مزے میں آتا ہے مجھ سمیت کیونکہ میں اس الیکشن کے اس فساد فی الارض میں محفوظ ہوں۔ یہ پہلا الیکشن ہے جب ہم سب عزیز و اقارب دوسروں کا تماشا کر رہے ہیں۔ ہمارے آخری اور کامیاب امیدوار ہمارے بھائی میاں سلطان اعوان تھے۔ ان کی وفات کے بعد اب کسی میں یہ بوجھ اٹھانے کی ہمت نہیں۔ بابو زیادہ زمیندار کم ہوں تو الیکشن میں نہ جانے کیا ہو لیکن ہمارے الیکشن میں حالات اکثر ساز گار ہی رہتے ہیں۔
بہر کیف اب جب اس کی گلی چھوڑ دی ہے تو ادھر ادھر جھانکنا کیا۔ ہم کاشتکار گندم کی فصل کاٹ رہے ہیں اور اس میں بچوں سے لے کر بوڑھوں تک سبھی مصروف ہیں۔ معلوم نہیں وہ کتنا بڑا احمق تھا جس نے عین گندم کی کٹائی کے موقع پر الیکشن رکھایا تاکہ ووٹر الیکشن سے دور رہیں، ہر سال میرے گھر کے ملازمین گندم کی کٹائی کا عذر کر کے چھٹی پر چلے جاتے ہیں۔ یہ لوگ محنت کے بعد کوئی سال بھر کی گندم جمع کر لیتے ہیں۔ کچھ مزدوری میں کچھ داد و دہش میں۔
ہمارے زرعی ملک کا یہی معمول ہے اور ہم اسی طرح سال بھر کی روزی جمع کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن الیکشن کمیشن کے شہری بابوئوں کو شاید اس صورت حال کا علم ہی نہیں تھا کہ فصلوں کے موسم میں ہماری کیا حالت ہوا کرتی ہے۔ مجھے یاد ہے کہ جب اسکول میں گرمیوں کی چھٹیاں ہوتی تھیں تو ان چھٹیوں کو فصلوں کی چھٹیاں کہا جاتا تھا۔ فوج میں ملازم سپاہیوں کو بھی اگر چھٹی مل جاتی تو وہ خاکی پتلون اور بنیان میں گندم کاٹتے دکھائی دیتے۔
گندم کی کٹائی کے اس مختصر سے وقفے میں کاشتکار کی مصروفیت آج بھی وہی برسوں پرانی ہوتی ہے۔ کٹائی کے لیے ٹریکٹر موجود ہیں لیکن ان کو چلانے والے ڈیزل کا معاوضہ کون ادا کرے اس لیے اس شدید گرمی میں بھی فصل بہر حال کاٹنی ہوتی ہے۔
چاندنی راتوں میں تو کاشتکار رات کو بھی یہ کام کرتے ہیں کہ گرمی ذرا کم ہوتی ہے لیکن موسم کوئی سا بھی ہو جب کھلیان پر سنہری دانے بکھر جاتے ہیں اور ان میں سے مٹی الگ کرنے کے لیے جب انھیں ہوا میں اچھالا جاتا ہے تو یوں لگتا ہے جیسے گندم کے یہ دانے آسمان سے گر رہے ہیں۔ گندم کی کٹائی اور گہائی یہ سخت موسم بھی کسان کے لیے زندگی بخش ہوتا ہے اور جب گھر میں سال بھر کا اناج جمع ہو جاتا ہے تو کوئی پرانا بدلہ بھی چکایا جا سکتا ہے کہ جیل وغیرہ چلے گئے تو گھر والے بھوکے نہیں مریں گے۔
اور جیل کے اس ذکر سے ایک قیدی یاد آ رہا ہے جو اپنے محل کے دو پسندیدہ کمروں میں قید ہے، باورچی خانہ بھی کھلا ہے اور صبح ناشتے سے لے کر رات بھر تک کے تمام لوازمات موجود ہیں۔ جیل سے دو خصوصی خادم بھی بھجوا دیئے گئے ہیں تاکہ جیل کا بھرم رکھا جا سکے کیونکہ کوئی بھی ایسی جیل کو 'جیل' ماننے پر تیار نہیں ہے۔ نوابزادہ نصراللہ خان ایسی کسی قید کو 'کیا اسیری ہے کیا رہائی ہے' کہا کرتے تھے۔ یعنی پورا شعر یوں کہ ''مجھ کو اپنا بنا کے چھوڑ دیا...'' ایک فلمی شعر بھی یاد آ رہا ہے
ایسی دی ان کو سزا... آنکھوں میں قید کیا
اس جرنیل کی قید کے بارے میں ایک معقول بات چوہدری شجاعت حسین نے کہی کہ ذرا دھیان رکھیں اور اس قیدی کی کسی سزا کو معمول کی کوئی سزا نہ سمجھیں۔ ایٹمی پاکستان کے اس گرم و سرد چشیدہ لیڈر نے ہمیں بتایا ہے کہ ہماری اصل اوقات کیا ہے۔ بعض دوسرے بڑے لیڈر بھی دفعہ 6 کی بات نہیں کر رہے۔ دراصل اس جرنیل سے حماقت ہو گئی ہے۔ ہمارے دوست نصرت جاوید نے ایک کم گو سینئر جرنیل اور سفارت کار کے حوالے سے یہ بات بتائی ہے کہ کسی کمانڈو میں اچھل کود بہت ہوتی ہے مگر عقل میں تصرف نہیں ہوتا۔
ہمارے اس کمانڈو کو اس کی یہی بے سوچی سمجھی اچھل کود مروا گئی ہے۔ کچھ بھی کہیں وہ قید میں ہے اور قانوناً اپنے محل سے متعلقہ تھانے کے عملے کی تحویل میں ہے۔ اگر انھیں اوپر سے اجازت ملے تو تھانے کی ننگے فرش والی حوالات میں آرام کے لیے بند کر دیں مگر کیا کریں کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں نہ اسلام ہے نہ جمہوریت ہے اور نہ ہمارے خوابوں کا پاکستان۔ ایسے جرائم پیشہ قیدی کی قیمت گندم کی ایک بوری سے بھی کم ہے جو ان دنوں کسانوں کے گھروں کو آباد کر رہی ہے۔