شنگھائی تعاون تنظیم اور دہشت گردی

دہشت گردی کو کسی ملک،مذہب یا قوم کے ساتھ نہیں جوڑا جاسکتا۔


Editorial May 25, 2018
دہشت گردی کو کسی ملک،مذہب یا قوم کے ساتھ نہیں جوڑا جاسکتا۔ فوٹو: فائل

شنگھائی تعاون تنظیم انسداد دہشت گردی کے علاقائی ڈھانچے کے قانونی ماہرین کے گروپ کے اجلاس سے افتتاحی خطاب کرتے ہوئے پاکستان نے واضح کیا ہے کہ وہ خطے سے دہشت گردی اور شدت پسندی کے موثر خاتمہ کے لیے شنگھائی تعاون تنظیم اور رکن ملکوں کو مکمل تعاون کی فراہمی کے لیے تیار ہے۔

دہشت گردی کو کسی ملک،مذہب یا قوم کے ساتھ نہیں جوڑا جاسکتا۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ملکوں میں رابطوں،تجارت،توانائی اور اقتصادی ترقی کے لیے شاندار صلاحیتیں موجود ہیں۔ پاکستان کی سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے کہا کہ پاکستان کو خطے اور دنیا کودہشتگردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی سے در پیش خطرات کا ادراک ہے۔

پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اتفاق رائے کی حمایت کرتا ہے۔ ہمیں عالمی قانون اقوام متحدہ کے منشور کے آداب و اصولوں کی پاسداری کرنی چاہیے۔سیکریٹری خارجہ نے توقع ظاہر کی کہ شنگھائی تعاون تنظیم دہشت گردی اور شدت پسندی کے خاتمہ کے لیے موثر پلیٹ فارم ثابت ہوسکتی ہے۔

انھوں نے رکن ممالک پر زوردیا کہ وہ دہشت گردی اور شدت پسندی کے خاتمہ میں پاکستان کے تجربات سے استفادہ کریں۔ اسلام آباد میں ہونے والی اس پانچ روزہ کانفرنس کی میزبانی نیکٹا کر رہا ہے' بلاشبہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ انتہائی جراتمندی اور منصوبہ بندی سے لڑی ہے' اس حوالے سے پاک فوج کا کردار مثالی رہا ہے جس نے انتہائی پروفیشنل ازم' بہترین حکمت عملی اور جراتمندی سے دہشت گردوں کے خلاف موثر اور نتیجہ خیز جنگ لڑی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کو شکست دینے میں کامیاب رہا ہے'غور کیا جائے تو پاکستان نے جنوبی ایشیا اور وسط ایشیا تک کے خطے کو محفوظ بنانے میں مرکزی کردار ادا کیا ہے کیونکہ اگر پاکستان دہشت گردوں کو شکست نہ دیتا تو پورا وسط ایشیا اور پورا جنوبی ایشیا اس سے متاثر ہونا تھا۔

شنگھائی تعاون تنظیم بھی اس حوالے سے اہم کردار ادا کر سکتی ہے' اس تنظیم کے رکن ممالک کو دہشت گردی' دہشت گردوں' ان کے سہولت کاروں اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے پاکستان اور ایک دوسرے کی بھرپور مدد کرنی چاہیے تاکہ اس عفریت کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کیا جا سکے۔