گورے بلیک میں ٹکٹ بیچنے لگے

قوانین پر سختی سے عمل درآمد کی وجہ سے لوگ یہاں احتیاط سے ہی کام لیتے ہیں۔


Saleem Khaliq May 25, 2018
قوانین پر سختی سے عمل درآمد کی وجہ سے لوگ یہاں احتیاط سے ہی کام لیتے ہیں- فوٹو: فائل

AMSTERDAM: مجھے ایسا کیوں محسوس ہو رہا ہے جیسے یہ میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں ، کیا کروں ہر بارہوتا ہی ایسا ہے، ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے کو تو چھوڑیں ٹیسٹ میچ کے دوران بھی لارڈز شائقین سے کھچا کچھ بھرا ہوتا ہے،اس بار بھی میں جیسے ہی سینٹ جانز ووڈ ٹیوب اسٹیشن سے باہر آیا تو بڑی تعداد میں ٹکٹیں بلیک کرتے لوگ دکھائی دیے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ بیشتر گورے تھے، میں نے جب ان کی تصویر بنانا چاہی تو بڑے جارحانہ انداز میں دور سے ہی چلاتے ہوئے ان میں سے ایک نے مجھے روکا، روڈ پر آ کر دیکھا تو دور تک لوگوں کی قطاریں لگی ہوئی تھیں، موجودہ دور میں ٹیسٹ کرکٹ دنیا بھر میں دم توڑ رہی ہے، آئی سی سی اس کی بقا کیلیے چیمپئن شپ ، نائٹ میچ سمیت مختلف اقدامات کرنے میں مصروف ہے۔

البتہ انگلینڈ میں ٹیسٹ کی مقبولیت برقرارہے، یہاں اب بھی لوگ بڑی تعداد میں اسٹیڈیم کا رخ کرتے ہیں،آن لائن ٹکٹوں کی فروخت کئی ماہ قبل شروع ہوتی اور میچ سے قبل بیشتر فروخت بھی ہو جاتی ہیں، لارڈز ٹیسٹ کے بھی ابتدائی تین روز کی بیشتر ٹکٹیں بک چکیں جس سے بلیک والوں کی چاندی ہو گئی اور وہ خوب کمائی کر رہے ہیں،صحافی ہونے کا یہ فائدہ ہوتا ہے کہ لائن میں نہیں لگنا پڑتا یہاں بھی انگلش کرکٹ بورڈ کی جانب سے جاری کردہ ایکریڈیٹیشن کارڈ دکھا کر اندر داخل ہوگیا۔

دنیا بھر میں بڑے ایونٹس کے دوران سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے جاتے ہیں لارڈز میں بھی کوئی بغیر تلاشی اسٹیڈیم میں داخل نہیں ہو سکتا، البتہ اس دوران خیال رکھا جاتا ہے کہ عوام کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے، گراؤنڈکے اندر ہر اسٹینڈ کے سامنے کرسی پر شائقین کی جانب چہرہ کیے ایک سیکیورٹی اہلکار بیٹھا ہوتا ہے، لوگ میچ اور وہ انھیں دیکھتا رہتا ہے۔

جیسے ہی کوئی کچھ گڑبڑ کرے اس کا کام فوراً اس کی رپورٹ کرنا ہوتا ہے، مگر قوانین پر سختی سے عمل درآمد کی وجہ سے لوگ یہاں احتیاط سے ہی کام لیتے ہیں، کبھی کبھار کوئی سرپھرا شرط جیتنے کیلیے لباس کی قید سے آزاد ہو کر اگر اسٹیڈیم کے اندر چلا جائے تو بھاری جرمانہ آئندہ کیلیے سبق دے دیتا ہے، آج لارڈز کے باہر بھی فٹ پاتھ پر شائقین کی طویل قطاریں لگی تھیں مگر روڈ پر ٹریفک رواں رہا، رضاکار ہر جگہ مدد کیلیے موجود تھے، بدھ سے ہی لندن میں ہلکی بارش کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا جو صبح تک جاری رہا، میری اسٹیڈیم روانگی کے وقت بھی بوندا باندی ہو رہی تھی مگر منزل تک پہنچنے سے قبل موسم بہترہو گیا اور ٹیسٹ کا بروقت آغاز ہوا۔

انگلینڈ نے شاید پاکستان کو آسان حریف سمجھا یا کپتان جوئے روٹ کو اپنی بیٹنگ لائن پر بہت بھروسہ تھا، اسی لیے بادلوں سے ڈھکے آسمان اور تیز ہواؤں کے باوجود انھوں نے پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا، حالانکہ اس وقت پیسرز تباہی مچا سکتے تھے، بعد میں یہی ہوا اور پاکستان نے میزبان بیٹنگ لائن کو 200 رنز بھی نہیں بنانے دیے، خیر میچ رپورٹ تو آپ الگ سے بھی پڑھ لیں گے میں دیگر باتوں پر ہی توجہ مرکوز رکھتا ہوں، اس وقت میرے سامنے شائقین سے مکمل بھرا ہوا اسٹیڈیم ہے جہاں ہر اچھے شاٹ اور وکٹ پر کھلاڑیوں کو بھرپور داد دی جاتی ہے۔

البتہ برصغیر جیسا ماحول نہیں ہوتا جہاں شائقین کو ہر طرح سے مقابلے سے لطف اندوز ہونے کی اجازت ہوتی ہے، آپ کو ایک دلچسپ بات بتاتا چلوں لارڈز میں پرچم ساتھ لانے کی اجازت نہیں ہے چاہے وہ میزبان یا ہوم ٹیم کسی کا بھی ہو، البتہ ایک مقامی صحافی نے بتایا کہ گذشتہ برس لارڈز میں ایم سی سی کیخلاف افغانستان سے تاریخی میچ کے دوران افغان شائقین اپنے پرچم چھپا کر اسٹیڈیم لے آئے تھے، ماضی میں تو لارڈز میں خاصا سخت ڈریس کوڈ اپنایا جاتا تھا اور چوکے پر بھی ہلکی سی تالیاں بجنے کی آواز آتی تھی مگر اب آہستہ آہستہ روایات تبدیل ہو رہی ہیں۔

زمانہ بدل چکا اور لارڈز کے منتظمین کو بھی اس بات کا اندازہ ہے کہ وقت کے ساتھ چلنا ہی مناسب رہتا ہے، لندن میں سحری کا وقت تقریباً رات ڈھائی بجے اور افطار 9 بجے کے بعد ہوتا ہے البتہ بہتر موسم سے روزے داروں کو وقت گذرنے کا احساس نہیں ہوتا، میرے جیسے کراچی والے کیلیے تو یہاں کا12 ڈگری درجہ حرارت بھی خاصا سرد موسم ہے،اس سے قبل چند روز امریکا میں گذارے وہاں بھی تقریباً ایسا ہی موسم تھا، بقول مقامی لوگوں کے یہ ان کی ''گرمیاں'' ہیں، ذرا کوئی ان کو کراچی تو لے جائے جہاں 40،42 درجہ حرارت میں رہ کر پتا چلے گا کہ گرمی کسے کہتے ہیں۔

سابق کپتان وسیم اکرم، وقاریونس اور رمیز راجہ بھی کمنٹری کیلیے انگلینڈ آئے ہوئے ہیں، لارڈز میں وقفے کے دوران یہ اکثر پاکستانی صحافیوں کے ساتھ بیٹھ کرغیررسمی بات چیت کرتے رہتے ہیں، ابھی کچھ دیر پہلے وسیم اکرم ہمارے ساتھ بیٹھے تھے اور انھوں نے بتایا کہ کئی برس سے انھوں نے گوشت کا استعمال تقریباً ترک کر دیا ہے البتہ مچھلی ضرور کھاتے ہیں۔

ان کے ہر کھانے میں سبزیوں کا بڑا حصہ شامل ہوتا ہے شاید 52 سال کی عمر میں ان کی بہترین فٹنس کا یہی راز ہے، اس دوران وقار یونس آئے تو وسیم اکرم نے ان سے پنجابی میں کوئی مذاق کیا، ماضی میں ایک دوسرے کو بڑا حریف سمجھنے والے سابق پیسرز اب گہرے دوست ہیں، ان کی رقابت کا پاکستان کرکٹ کو فائدہ ہی ہوا تھا، دونوں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کیلیے بہترین پرفارمنس کیلیے جان لڑا دیتے جس سے حریف بیٹنگ لائن کی شامت آ جاتی۔

لارڈز ٹیسٹ میں بہترین بولنگ کی بدولت اب تک میچ پر پاکستان کی گرفت مضبوط نظر آ رہی ہے، بولنگ کا تو ویسے ہمیشہ سے کوئی مسئلہ نہیں ہوتا البتہ اصل ڈر بیٹنگ لائن سے ہے، جس کنڈیشنز میں ہمارے پیسرز نے انگلش ٹیم کو مشکلات کا شکار کیا وہاں ہمارے ناتجربہ کار بیٹسمین کیسا پرفارم کرتے ہیں یہ دیکھنا دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا، خیر ہمیں اچھے کی امید رکھنی چاہیے امید ہے کہ بولرزکی طرح بیٹسمین بھی مایوس نہیں کریں گے۔

(نوٹ: آپ ٹویٹر پر مجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں۔