افغانستان میں طالبان کے فاریاب اور قندھار میں چیک پوسٹوں پر حملے 22 اہلکار جاں بحق

امریکی فوج نے ہلمند میں توپ خانے کی مدد سے طالبان کے ایک کلیدی سرکش، کمان اور کنٹرول مرکز پر راکٹ حملہ کیا


News Agencies May 25, 2018
تاوان کے حصول کے لیے اغوا کی وارداتیں ایک بڑا مسئلہ بن گئیں، حکام۔ فوٹو : فائل

افغانستان کے 2 صوبوں میں مختلف مقامات پر طالبان کے حملوں میں افغان فورسز کے 22 اہلکار جاں بحق ہو گئے۔

حکام کے مطابق حملے شمالی صوبہ فاریاب اور جنوبی صوبے قندھار میں کیے گئے، فاریاب کے ضلع شیریں تگاب میں طالبان نے گزشتہ شب ایک فوجی اڈے اور 2 چیک پوائنٹس کو نشانہ بنایا جس میں افغان فوج کے 13 اہلکار مارے گئے جبکہ طالبان نے 25 فوجیوں کو یرغمال بھی بنا لیا۔

صوبہ قندھار کے شہر اسپن بولدک میں پولیس چیک پوسٹ پر حملے میں 2 پولیس اہلکار جاں بحق ہوئے، امریکی فوج نے صوبہ ہلمند میں توپ خانے کی مدد سے طالبان کے ایک کلیدی سرکش، کمان اور کنٹرول مرکز پر راکٹ حملہ کیا ہے، حملے کے نتیجے میں ہونیوالے جانی و مالی نقصان کے بارے میں اعلان میں مزید تفصیل بیان نہیں کی گئی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ''یہ مشہور ٹھکانہ تھا جہاں نامور طالبان رہنما بیٹھک کیا کرتے تھے، دریں اثنا کابل میں اقوام متحدہ کیلیے کام کرنے والے اسٹاف کی ایک رکن اور ان کے بیٹے کو رہا کر دیا گیا ہے، افغان شہریت رکھنے والی خاتون اور ان کے نوجوان بیٹے کو 22 جنوری کو اغوا کیا گیا تھا، افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن کے مطابق ان کی کار کو نامعلوم مسلح افراد نے روک کر انھیں اغوا کر لیا تھا جبکہ کار کے ڈرائیور کو قتل کر دیا گیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ افغانستان میں زیادہ تر تاوان کے حصول کیلیے اغوا کی وارداتیں ایک بڑا مسئلہ ہیں، لیفٹیننٹ جنرل اسکاٹ ملر کی افغانستان میں امریکا اور بین الاقوامی فورسز کا نیا کمانڈر نامزدکرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

یہ بات اس بارے میں معلومات رکھنے والے ایک امریکی عہدیدار نے امریکی ٹی وی کو بتائی، افغانستان میں امریکی قیادت کی بین الاقوامی فورسز کی کمان اس وقت امریکی جنرل جان نکلسن کر رہے ہیں۔

مقبول خبریں