جنرل مشرف کا تہہ دل سے شکریہ

جنرل پرویز مشرف کو قومی مجرموں کی فہرست سے نکال کر اور جھوٹ موٹ کا ایک مجرم بنا کر قوم کو دھوکا دیا جارہا ہے


Abdul Qadir Hassan April 24, 2013
[email protected]

آنکھیں کھلی رکھنے والے پاکستانیوں کے لیے تو پہلے بھی یہ راز کوئی راز نہیں تھا کہ ہماری اعلیٰ اور اونچی سیاسی قیادت کچھ بھی ہے پاکستانی نہیں ہے۔ یہ بڑے قومی فیصلے غیر ملکی حکمرانوں کے اشاروں پر کرتی ہے اور اس میں پاکستان کے قومی مفاد کی پروا نہیں کرتی۔ اس تمہید کو یہیں ختم کرتے ہوئے عرض ہے کہ پاکستان کی تاریخ کے چند اعلیٰ پائے کے ملزموں مجرموں میں سے ایک کو بری کر کے اپنی ملک کے ساتھ بے وفائی کا ایک کھلا ثبوت دے دیا ہے۔

جنرل پرویز مشرف کو قومی مجرموں کی فہرست سے نکال کر اور جھوٹ موٹ کا ایک مجرم بنا کر قوم کو دھوکا دیا جارہا ہے اور اپنے آپ کو ایک بار پھر بے نقاب کیا جا رہا ہے۔ حضرت علی کا وہ قول پھر یاد آتا ہے کہ جب کسی کو اختیار مال و دولت اور اقتدار ملتا ہے تو وہ بدلتا نہیں بے نقاب ہوتا ہے کہ اس کی اصل کیا ہے۔ ہمارے حکمران اور ارباب اقتدار ایک بار پھر بے نقاب ہوئے ہیں اور ایسے کہ پاکستانی قوم ہی نہیں عدل و انصاف کی انسانی تاریخ بھی ان پر تھوک رہی ہے۔ معلوم یہ ہوا کہ ہمارا اونچا طبقہ جسے اشرافیہ کہا جاتا ہے در حقیقت اس ملک کا سب سے چھوٹا اور کمیں طبقہ ہے جس نے آزادی کے شروع دن سے ہی اپنی بڑائی اور برتری کا ایک جال بن کر اس قوم پر ڈال دیا ہے جس کے اندر وہ اب تک بری طرح پھنسی ہوئی ہے۔

آج اس نے تاریخ کے سقوط ڈھاکہ جیسے دوسرے بڑے مجرم جنرل پرویز مشرف کو ''استثنیٰ'' دے دیا ہے۔ ان دنوں الیکشن ہو رہے ہیں یعنی پاکستانی قوم کچھ لوگوں کو اپنا مستقبل کا حکمران منتخب کر رہی ہے اور امید وار کون ہیں میں فی الحال اس بارے میں خاموش ہوں جب یہ سامنے آئیں گے تو تب تک کچھ قومی غیرت اگر باقی رہی تو عرض کریں گے ان لوگوں کے تعارف کی فی الوقت اس لیے ضرورت نہیں کہ ہماری بار بار پٹتی ہوئی قوم ان کو خوب پہچانتی ہے، وہ اگر زہر کھانا چاہتی ہے تو بڑے شوق سے کئی پرویز مشرف اس کی گواہی کے لیے تیار ہیں۔ اقبال کا منقولہ اور پسندیدہ ایک الہامی مصرعہ کہ ''ہزار بادۂ ناخوردہ در رگ تاک است'' کہ انگور کی اس بیل میں ابھی بے شمار جام بھرے ہوئے ہیں جنھیں اب تک کسی نے چکھا نہیں نچوڑا نہیں۔

ہم پاکستانی جنرل پرویز مشرف کے خلاف نعرے لگا رہے ہیں، یہ ہمارا ایک پرانا بے کار مشغلہ ہے۔ جیسے رونا اور قہقہہ لگانا ایک انسانی فطری مشغلہ اور اظہار کا طریقہ ہے، اسی طرح ہم کسی ناپسندیدہ سیاسی فرد یا عمل کے بارے میں نعرے لگا کر اظہار کرتے ہیں لیکن پرویز مشرف کے بارے میں یہ نہیں سوچ سکتے کہ وہ ہماری تاریخ کا ایک مہربان فرد ہے جس نے ہمیں ہماری خود مختاری، آزادی اور ایٹمی قوت ہونے کی اوقات یاد دلائی ہے کہ تم کیا ہو اور کیا بنتے ہو۔ سچ ہے کہ وہ ایسی قوم اور اس کے رہنمائوں سے ڈرتا ورتا نہیں ہے۔ اگر ڈرتا ہے تو وہ واقعی پرلے درجے کا احمق کمانڈو ہے جس کے پائوں وغیرہ میں تو بہت پھرتیاں ہیں مگر دماغ خالی ہے۔

ان حالات میں وہ پاکستان کیوں آیا، اس سوال پر بحث جاری ہے لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ قدرت نے اسے ہماری اوقات یاد دلانے اور ہماری عقل کا ماتم کرنے بھیجا ہے۔ میں ایک پاکستانی کی حیثیت سے اس کی آمد کا بہت شکریہ ادا کرتا ہوں اور اس شخص کا شکر گزار ہوں جس نے اپنے لیے بظاہر خطرات کے باوجود اس قوم پر یہ احسان کیا ہے۔ ذرا غور فرمائیے کہ ہمارے اس کمانڈو کے مضروب لیڈر بھی اسے معاف کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ ہم آپ تو بنے ہی معافی کے لیے ہیں ،کبھی کوئی ہم سے معافی منگواتا ہے اور کبھی ہم خود سراپا معافی بن جاتے ہیں۔

لگتا ہے ہمارے حکمران اپنا بھرم رکھنے کے لیے پرویز مشرف کو مجرم بنانے کا ڈرامہ کھیلتے رہیں گے، اس کے محل کو اس کی جیل بنائیں گے اور اس کی آمد و رفت کو کسی خطرناک مجرم کا رنگ دے کر اس کی سیکیورٹیاں بڑھاتے رہیں گے۔ لیکن ساتھ ساتھ اس مجرم اور ملزم سے پوچھتے بھی رہیں گے کہ سر کوئی تکلیف تو نہیں۔ کوئی بے ادبی تو نہیں ہوئی۔ مزید کوئی حکم۔ حالات بدلتے ہیں لیکن ہمارے ہاں جو لوگ حالات بدلتے ہیں وہ خود نہ جانے کب کے بدل چکے ہیں اور ان دنوں اپنے اس بدلے ہوئے حلیے میں سرگرم ہیں مگر پھر بھی اگر کبھی جنرل صاحب کے بارے میں کوئی ایسی خبر مل جائے جو عموماً کسی ملزم و مجرم کے بارے میں ہی ہوا کرتی ہے تو کسی غلط فہمی میں نہ پڑیں پریشان نہ ہوں۔

ایک غیر معمولی واقعہ ہوا ہے اور اوپر سے الیکشن بھی ہے اس لیے بات ادھر ادھر ہو جائے تو گھبرائیں نہیں، اپنی وفا شعاری قائم رکھیں، اس سے بڑا زوال کیا ہو گا اور ہم بحیثیت قوم اور کہاں کس کھائی میں گر سکتے ہیں، آزادی کے نصف صدی سے زائد کے عرصے میں ہمیں جس قدر رسوا کر دیا گیا اور جس غربت اور افلاس میں پھنسا دیا ہے اس سے بڑھ کر اور کیا ہو گا، اس لیے فی الوقت اب جنرل سید پرویز مشرف کا شکریہ ادا کریں۔ کئی دنوں سے میں جنرل صاحب کے بارے میں لکھ رہا ہوں مگر ان کے ان سفید بالوں والے گول مول سے دونوں کتوں کا حال پوچھنا بھول جاتا ہوں جو جنرل صاحب نے قوم کو اپنے پہلے دیدار کے موقعے پر دونوں بغلوں میں اٹھائے ہوئے تھے۔ خدا کرے وہ سلامت ہوں۔ ان سمیت جنرل صاحب کا شکریہ!

مقبول خبریں