فاٹا کے عوام کی شاندار فتح

فاٹا بل کی منظوری سے پارلیمنٹ کا وقار بحال ہوا ہے۔


Editorial May 26, 2018
فاٹا بل کی منظوری سے پارلیمنٹ کا وقار بحال ہوا ہے۔ فوٹو: فائل

قومی سیاست نے بلاشبہ جمعرات کو ایک سنگ میل عبور کرلیا اور تلخ ترین سیاسی موسم اور بلندیوں کو چھوتی ہوئی کشیدگی اور الزامات کی تلاطم خیزیوں کے بطن سے سیاسی فیصلہ میں انمول بالغ نظری کا ثبوت پیش کیا ہے جسے حالیہ جمہوری عمل کے دوران اختلاف رائے کے احترام کے باب میں آیندہ بھی مشعل راہ بنایا جائے تو وطن عزیز کو کوئی دشمن گزند نہیں پہنچا سکتا۔

یہ پیش رفت قومی اسمبلی میں جمعرات کو فاٹا کو مکمل طور پر صوبہ خیبرپختونخوا میں ضم کرنے کے لیے 31 ویں آئینی ترمیم کو دوتہائی اکثریت سے منظوری کی صورت ہوئی ہے۔31ویں آئینی ترمیم وزیر قانون و انصاف چوہدری محمود بشیر ورک نے پیش کی۔

وزیراعظم نے کہا بل منظوری کے نتائج پاکستان کے لیے بہت مثبت ہوں گے اور وہ اپوزیشن کے شکرگزار ہیں جنہوں نے ہمارا ساتھ دیا۔ انھوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ مذکورہ بل کی وجہ سے پاکستان میں عام انتخابات تاخیر کا شکار نہیں ہوںگے اور یہ وقت پر ہی منعقد کیے جائیں گے۔ آج ایوان نے یہ ثابت کیا کہ قومی معاملات پر یکجہتی ہوسکتی ہے لہٰذا جو بھی قومی معاملات ہیں انھیں ملکر ہی حل کرنا چاہیے۔ اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے کہا آج پاکستان کے لیے بہت بڑا دن ہے اور خوشی ہے کہ یہ بل بھاری اکثریت سے منظور ہوا ہے۔

جو بات خوش آیند ہے وہ پارلیمنٹ کی بالادستی پر سب کا اتفاق ہے، یہ کسی ایک شخص ،کسی ایک سیاسی جماعت، حکومت یا اپوزیشن کی مشترکہ کوشش کا ہرگز نتیجہ نہیں بلکہ ذمے دار جمہوری قوتوں، مذہبی جماعتوں، سول سوسائٹی ، دانشوروں ، سینئر صحافیوں اور علاقے کی ابھرتی ہوئی نوجوان نسل کی بے لوث جدوجہد، طرز استدلال اور فاٹا کے عوام سے قومی یکجہتی کا آئینہ دار ہے۔

فاٹا بل کی منظوری سے پارلیمنٹ کا وقار بحال ہوا ہے، قومی اسمبلی نے اس دن یہ بھی ثابت کیا ہے کہ سیاست امکانات کی سائنس بھی ہے اور حسب موقع آرٹ بھی ، بشرطیکہ ایشو کی اہمیت سارے پارلیمنٹیرینز کے پیش نظر ہو۔ حقیقت میں فاٹا بل کی منظوری عہد استعمار اور نوآبادیاتی تاریخ کے تابوت میں آخری کیل ہے ۔ یہ جشن مسرت ہے جو فاٹا عوام کے ساتھ ساتھ اہل وطن بھی مناتے ہوئے ایک نئے احساس سے سرشارہونگے ۔

سیاسی حلقوں کا یہ کہنا ہے کہ اس اعلان اور فیصلہ کو دیر آید درست آید کے تناظر میں دیکھا جائے تو تمام سیاسی قوتوں کی مشترکہ فتح ہے۔ یوں متحارب اور محاصرہ میں چومکھی لڑنے والی حکمراں جماعت نے میعاد مکمل کرتے ہوئے اپنا وعدہ نبھایا ہے جب کہ حکومت سے ستیزہ کار اپوزیشن نے بھی فاٹا عوام کی امنگوں کی ترجمانی کی، تحریک انصاف کی قیادت ایک طویل عرصہ کے بعد ایوان میں موجود تھی، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا آج پاکستان کی بہت بڑی جیت ہوئی ہے۔ قبائلی علاقوں میں جب پاکستانی قانون کا اطلاق ہوگا تو اس میں مشکلات آئیں گی تاہم فاٹا بل منظور کرکے قبائلی عوام کا دیرینہ مطالبہ پورا کر دیا گیا ہے۔

بلاشبہ منتخب اراکین کی رواداری، صبروتحمل اور سیاسی بصیرت بھی کام آئی ہے ، تاہم بل کی منظوری اب سینٹ سے بھی لی جائے گی اس لیے کام مکمل نہیں ہوا ، ابھی فاٹا کی جمہوری ، سیاسی اور اقتصادی تشکیلات کے ہفت خواں طے کرنا باقی ہیں، تیشہ فرہاد کی ضرورت ہے اس سنگلاخ علاقے میں جدید ترین مواصلاتی ، بلدیاتی، سماجی اور تعلیمی سہولتوں کا جال بچھایا جائے ۔ صحت ، تفریح، روزگار، رہائش اور طرز زندگی میں بنیادی تبدیلیوں کے لیے ذہنی اور فکری فضا تیار کی جائے، مسئلہ صرف حصول انصاف کے لیے عدلیہ تک رسائی کا نہیں ہے بلکہ وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں کو مل کر فاٹا کیلے فنڈز مہیا کرنے کا مالیاتی میکنزم تیار کرنا ہوگا۔

فاٹا نے دہشتگردی کے درد ناک ادوار بھگتے ہیں، ہزاروں گھرانے دربدر ہوئے، دہشتگردی کی آگ سلگا کر اپنوں کو تباہی سے دوچار کیا گیا ۔ پاک فوج کو دہشتگردوں کا صفایا کرنے کا فری ہینڈ ملا تو دنیا نے دیکھا کہ کیسے بے رحم ماسٹر مائنڈ فاٹا سے راہ فرار اختیار کرنے پر مجبور ہوئے، آج فاٹا میں دہشتگردی سے متاثرہ خاندانوں کی بحالی کا بیشتر کام مکمل ہوچکا ہے، انفرااسٹرکچر بچھانے کی رفتار مزید تیز ہونی چاہیے، امن بحال ہوا ہے، اہل فاٹا کے بدن پر امریکی ڈرون حملوں کے جتنے زخم ہیں سیاست دانوں نے مل کر اسی کشادہ دلی اور خلوص نیت کے ساتھ ان کے اندمال کی صورت نکالنی ہے۔

درحقیقت فاٹا اصلاحات پر مکمل عملدرآمد کے لیے غیرمعمولی اقدامات ناگزیر ہیں ۔یہ بھی صائب پیش رفت ہے کہ ترمیمی بل کو229 ووٹوں سے جب کہ شق وار منظوری کے دوران ترامیم کو 230 سے زائد ووٹوں سے منظور کیا گیا، حکومتی اتحادی جماعتیں جمعیت علماء اسلام (ف) اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی بل کی مخالفت کرتے ہوئے احتجاجاً واک آؤٹ کر گئیں۔ تحریک انصاف کے منحرف رکن داور کنڈی اور قبائلی رکن بلال الرحمان نے بھی فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کرنے کی مخالفت کی۔

آئینی ترمیم کو مسلم لیگ (ن)، پیپلزپارٹی، تحریک انصاف، جماعت اسلامی، عوامی نیشنل پارٹی، ایم کیو ایم اور دیگر اپوزیشن جماعتوں اور فاٹا ارکان کی حمایت سے منظور کیا گیا۔ تاہم اب بھی ضرورت فاٹا انضمام کے مخالف سیاسی زعما سے جمہوری رابطے بحال رکھنے کی ہے، وہ خطے کا پارٹ اینڈ پارسل ہیں۔