ٹرمپ کا فیصلہ کم جونگ سے ملاقات منسوخ

امریکا اور شمالی کوریا کے صدور کا رویہ انتہائی بے رحمانہ اور سفاکانہ تو ہی ہے بلکہ انتہائی بچگانہ بھی ہے۔


Editorial May 26, 2018
امریکا اور شمالی کوریا کے صدور کا رویہ انتہائی بے رحمانہ اور سفاکانہ تو ہی ہے بلکہ انتہائی بچگانہ بھی ہے۔ فوٹو: سوشل میڈیا

امریکا اور شمالی کوریا کا تنازع بات چیت کے ذریعے حل ہونے کی امیدوں پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پانی پھیرتے ہوئے اگلے ماہ سنگاپور میں ہونے والی جوہری سربراہی کانفرنس کی منسوخی کا اعلان کردیا ہے ۔

خط میں وجہ شمالی کوریا کا 'غصہ' اور 'دشمنیت' کو ٹھہرایا گیا ہے ۔اس سے قبل شمالی کوریا نے امریکی نائب صدر مائیک پنس کو ''جاہل اور بے وقوف'' کہا تھا۔ عالمی ہتھیاروں کی تیاری اور استعمال نے عالم انسانیت کو ایسے گہرے گھاؤ لگائے ہیں ، جو آج تک بھر نہیں سکے ہیں۔

دوسری عالمی جنگ میں جاپان کے دو شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی پر جو ایٹم بم برسائے گئے، لمحوں میں لاکھوں انسانوں کو لقمہ اجل بنا ڈالا،آج بھی ان شہروں میں کئی دہائیاں بیت جانے کے بعد تابکاری کے اثرات ختم نہیں ہوسکے ہیں ۔

آج تو ان سے بھی ہزارگنا زیادہ طاقتور ایٹم بم بنا لیے گئے ہیں ۔امریکی صدرکا چناؤ تو امریکی قوم نے کیا تھا، لیکن ان کے اقدامات سے لگتا ہے یہ فیصلہ غلط تھا ، جس کے برے اثرات پوری دنیا پر پڑیں گے ۔ دوسری جانب ٹرمپ کے اعلان سے کچھ ہی قبل شمالی کوریا نے اپنی ایٹمی تجربہ گاہ بھی منہدم کردی تھی۔

شمالی کوریا کے مطابق اس اقدام کا ممکنہ مقصد علاقائی کشیدگی میں کمی لانا ہے۔ یوں سمجھ لیجیے کہ شمالی کوریا نے امن کی جانب قدم بڑھایا تو امریکا پیچھے ہٹ گیا ۔ امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ انھیں امید ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کے درمیان طے شدہ ملاقات اب بھی ہو سکتی ہے۔

شمالی کوریا نے کہا کہ اگر مذاکرات میں ناکامی ہوئی تو بھر پور ایٹمی طاقت کا مظاہرہ ہوگا جب کہ اقوام متحدہ نے شمالی کوریا کے رہنماکم جونگ ان اورامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ملاقات کے سلسلہ میں شمالی کوریائی سفارتکاروں پر عائد سفری پابندی اٹھا لی ہے۔ ایٹمی جنگ کا مطلب صرف اور صرف تباہی وبربادی ہے اس کے سوا کچھ نہیں۔ دنیا ایک ایسے نازک موڑ پر آ کر کھڑی ہوگئی ہے جس کا تصور نہیں کیا جاسکتا ہم سب بارود کے ڈھیر پر بیٹھے ہیں۔

امریکا اور شمالی کوریا کے صدور کا رویہ انتہائی بے رحمانہ اور سفاکانہ تو ہی ہے بلکہ انتہائی بچگانہ بھی ہے۔ اقوام عالم کو چاہیے کہ وہ دنیا میں امن کی بحالی کے لیے دونوں کو مذاکرات کی میز پر لائیں تاکہ دنیا کو ایٹمی جنگ کی تباہ کاریوں سے بچایا جاسکے ۔