بلوچستان بارودی سرنگ دھماکے دہشت گرد سرگرم

بلوچستان میں کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب کوئی نہ کوئی جان لیوا حملہ یا دھماکا نہ ہو۔


Editorial May 26, 2018
بلوچستان میں کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب کوئی نہ کوئی جان لیوا حملہ یا دھماکا نہ ہو۔ فوٹو : ایکسپریس

بلوچستان ایک عرصہ سے انارکی اور دہشت گردانہ کارروائیوں کی آگ میں جھلس رہا ہے۔ بلوچستان کے رہائشی مکمل قیام امن کے متلاشی ہیں لیکن افسوسناک امر ہے کہ بلوچستان میں جب بھی امن و امان کی صورتحال بہتر ہوتی ہے تو دہشت گردی کا کوئی نہ کوئی افسوسناک واقعہ رونما ہوجاتا ہے۔

ایک جانب حکومت بلوچستان کے ناراض اور باغی کرداروں کو منا کر قومی دھارے میں شامل کرنے کی کوششوں میں مصروف عمل ہے اور دوسری جانب شرپسند اور دہشت گرد عناصر کے خلاف آپریشن ردالفساد بھی جاری ہے۔ تشویشناک امر یہ ہے کہ بلوچستان میں کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب کوئی نہ کوئی جان لیوا حملہ یا دھماکا نہ ہو۔

لیویز کے مطابق جمعرات کو بھی قلات کے علاقے میں سڑک کے کنارے نصب بارودی سرنگ پھٹنے سے بہادرخان نامی شخص جاں بحق اور ایک زخمی ہوگیا جب کہ ڈیرہ بگٹی کے علاقے سنگ سیلا میں بارودی سرنگ دھماکے میں 2 سیکیورٹی فورسز اہلکار زخمی ہوگئے۔ جنھیں اسپتال منتقل کردیا گیا۔

دوسری جانب قانون نافذ کرنے والے ادارے اور ایف سی اہلکار بھی تخریب کاروں کو ناکام بنانے کی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ فرنٹیئر کور نے کوہلو کے علاقے کلی محبت خان کے قریب نصب بارودی سرنگ کو ناکارہ بنا کر تخریب کاری کا منصوبہ ناکام بنایا، جب کہ آپریشن ردالفساد کے تحت مستونگ اور گراڈنالہ میں ایف سی نے دو کارروائیوں میں 5 راکٹ معہ لانچر، دو 107 ایم ایم کے میزائل اور ہزاروں راؤنڈ قبضے میں لے کر تخریب کاری کے بڑے منصوبے ناکام بنادیے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ دہشت گرد عناصر اور شرپسندوں کے خلاف پوری قوت کے ساتھ متحرک ہوا جائے۔

اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ بلوچستان کے حالات خراب کرنے میں شرپسند پڑوسی ملک کا ہاتھ شامل ہے، بلوچستان کی اسٹریٹیجکل اہمیت کے پیش نظر ملک دشمن قوتوں نے اسے نشانے پر لیا ہوا ہے، بالخصوص بھارت ہماری ملکی سلامتی کو نقصان پہنچانے کے لیے افغانستان کے راستے صوبہ میں بدامنی پھیلانے کے درپے ہے۔ کلبھوشن یادیو جیسے بھارتی جاسوس کا بلوچستان سے گرفتار ہونا اس بات کی واضح دلیل ہے۔

بھارت کی بلوچستان میں بے جا مداخلت کی وجہ سے صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو مسلسل خطرہ لاحق ہے ، یہی وجہ سے کہ آئے روز یہاں دہشت گردی کے چھوٹے بڑے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف سیکیورٹی فورسز، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور تمام اسٹیک ہولڈرز ہمہ وقت چوکس رہیں۔ عوام بھی ہوشیار اور اپنے اردگرد مشکوک عناصر پر نظر رکھیں تاکہ دہشت گردی اور انتہاپسند عناصر کا مکمل قلع قمع کیا جاسکے۔