الیکشن میں نوجوان ووٹرز کا اہم کردار

نوجوانوں کی سیاسی اور معاشرتی زندگی میں موثر شمولیت جمہوریت میں ناگزیر ہے۔


Editorial May 27, 2018
نوجوانوں کی سیاسی اور معاشرتی زندگی میں موثر شمولیت جمہوریت میں ناگزیر ہے۔ فوٹو: فائل

TOKYO: وطن عزیز میں عام انتخابات سر پر ہیں جن میں رائے دہندگان نہ صرف اپنے پسند کی سیاسی پارٹی کو منتخب کریں گے بلکہ ان انتخابات میں یہ فیصلہ بھی ہو گا کہ ہماری نوجوان نسل کے مسائل کے حل کے لیے کیا لائحہ عمل طے کیا جائے گا کیونکہ ملکی تاریخ کا یہ پہلا موقع ہے جب کہ 18 سے 35 سال کی عمر والے نوجوانوں کی تعداد اتنی زیادہ ہو گئی ہے، اس لیے یہ توقع کی جا رہی ہے کہ اس پارٹی کو سب سے زیادہ اکثریت ملے گی جس کی طرف یہ نوجوان راغب ہوں گے۔

اعداد وشمار کے مطابق اس مرتبہ ووٹ کے لیے رجسٹر کیے جانے والے 46 ملین (چار کروڑ ساٹھ لاکھ) ووٹرز کی عمر 18 سال سے 35 سال کے درمیان ہے جب کہ ووٹروں کی مجموعی تعداد 105.96 ملین بتائی گئی ہے جو اندازاً گیارہ کروڑ کے لگ بھگ بنتی ہے۔ ان میں سے 17.44 ملین (ایک کروڑ چوہتر لاکھ) ووٹروں کی عمر اٹھارہ سے 25 سال کے درمیان ہے جو کہ پہلی مرتبہ حق رائے دہندگی استعمال کریں گے لیکن ابھی یہ دیکھنے کی بات ہے کہ عام انتخابات کے دن ان میں سے کتنے فی الحقیقت پولنگ اسٹیشن تک جانے کی زحمت کریں گے۔ ان میں زیادہ تر وہ ہیں جو سیاست دانوں کی وعدہ خلافیوں سے نالاں ہیں۔

26 سے 35 سال کی عمر کے ووٹروں کی تعداد سب سے زیادہ یعنی 29.99 ملین یعنی تین کروڑ کے لگ بھگ ہے جو کہ باقاعدہ رجسٹرڈ ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر غربت اور بے روزگاری کا شکار ہیں جو معاشرے میں کوئی مثبت تبدیلی وقوع پذیر نہ ہونے پر مایوسی کے حصار میں ہیں۔ اگر ہم 2013ء کے انتخابات سے کوئی سبق سیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ زیادہ تر رجسٹرڈ ووٹر پولنگ تک نہیں پہنچے تھے۔

نوجوان ووٹر چاہتے ہیں کہ ملک کے پسماندہ علاقوں کو تعمیر وترقی کی دوڑ میں شامل کیا جائے لہٰذا وہ افراد اپنے ووٹ کا استعمال زیادہ دانش مندی سے کریں گے تاکہ انھیں اپنے جمہوری فرائض کی کماحقہ ادائیگی کے لیے دباؤ ڈال سکیں۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ نوجوانوں کی سیاسی اور معاشرتی زندگی میں موثر شمولیت جمہوریت میں ناگزیر ہے۔

2013ء میں پی ٹی آئی کو یقین تھا کہ نوجوانوں کے نام ووٹ اس کی جھولی میں گریں گے مگر عملی طور پر ایسا نہ ہو سکا۔ خاص طور پر دیہی علاقوں سے اسے ووٹ نہ مل سکے۔ ظاہر ہے کہ میڈیا پر دیے جانے والے پیغامات اور ٹیوٹر وغیرہ کا اثر دیہی علاقوں میں نہیں ہوتا۔