نیوزی لینڈ کرکٹ تنازع عدالت پہنچنے کا خدشہ ٹل گیا

جان پارکر کے معافی مانگنے پربرینڈن میک کولم نے مقدمہ کرنے کا ارادہ ترک کر دیا۔


Sports Desk/AFP April 24, 2013
جان پارکر کے معافی مانگنے پربرینڈن میک کولم نے مقدمہ کرنے کا ارادہ ترک کر دیا۔ فوٹو: فائل

لاہور: نیوزی لینڈکرکٹ تنازع عدالت تک پہنچنے کا خدشہ ٹل گیا، سابق کپتان جان پارکر کے معافی مانگنے پر موجودہ قائد برینڈن میک کولم نے مقدمہ کرنے کا ارادہ ترک کر دیا،انھوں نے پارکر کے دعوئوں کو اپنے وقار پر حملہ قرار دیا تھا۔

تفصیلات کے مطابق رواں ماہ کے آغاز میں جان پارکر نے الزام لگایا تھا کہ میک کولم گذشتہ برس روس ٹیلر کو قیادت سے ہٹائے جانے سے پہلے ہی واقف تھے، بیٹسمین نے اسے غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ انھیں اس فیصلے کا کوئی علم نہیں تھا۔ ان دنوں آئی پی ایل کے سلسلے میں بھارت میں موجود میک کولم نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ اگر پارکر نے الزام واپس نہ لیا تو وہ ان پر ہتک عزت کا دعویٰ کر دیں گے۔

گذشتہ دنوں یہ اطلاعات سامنے آئیں کہ سابق کرکٹر نے دوٹوک انداز اپناتے ہوئے عدالت میں ہی جواب دینے کا اعلان کیا ہے، مگر منگل کو پارکر کی جانب سے معذرتی بیان سامنے آ گیا، اسے میک کولم کے وکل نے میڈیا کو جاری کیا۔



پارکر نے کہا کہ ان کا مطلب یہ نہیں تھا کہ بیٹسمین بے ایمان ہیں یا ٹیم پر اپنے ذاتی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں، وہ میک کولم کی دل آزاری نہیں کرنا چاہتے تھے، اگر ان کی کسی بات سے میک کولم کی ساکھ کو نقصان پہنچا تو وہ اس پر دلی معذرت کرتے ہیں، اس بیان کے بعد دونوں فریقین کی جانب سے کوئی قانونی چارہ جوئی نہیں کی جائے گی۔

یاد رہے کہ ٹیلر کو قیادت سے ہٹائے جانے سے کیوی کرکٹ حلقوں میں بحث چھڑ گئی تھی، کئی سابق کرکٹرز نے کہا تھا کہ بیٹسمین کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا گیا، نیوزی لینڈ کرکٹ میں تبدیلی کیلیے لابنگ کرنے والے سابق کپتانوں کے گروپ میں پارکر بھی شامل ہیں، ان تمام کا خیال ہے کہ کرکٹ کھیلنے کا محدود تجربہ رکھنے والے بیوروکریٹس نے کھیل کے معاملات کو سنبھالا ہوا ہے۔