قبائلی عوام کا مستقبل یقینی بنانا
یہ عجیب اور انتہائی غریب مخلوق پاکستان کے کنارے کنارے غیر آباد جنگلوں میں رہتی ہے جسے ’’ علاقہ غیر ‘‘ کہا جاتا ہے
گورنر صاحب جناب افتخارمحمد جھگڑا نے ایک ایسی خوشخبری سنائی کہ ہمارا گملہ گملہ گارڈن گارڈن ہوگیا تو پھر سوچئے ان لوگوں کا کیا حال ہوا ہوگا جن کا اس '' خوش خبری '' سے براہ راست تعلق ہے۔خودقبائلی عوام نے بھی سرکار دولت مدار کو کئی بار درخواستیں دے رکھی ہیں کہ انھیں غلطی سے انسانوں میں شمار کیا جاتا ہے جب کہ ہیں نہیں، اس لیے متعلقہ کاغذات میں بھی تصحیح کی جائے کہ آیندہ ہمیں انسان وغیرہ کے غلط نام سے یا د نہ کیا جائے اور اپنے صحیح نام حیوان سے پکارا اور لکھا جائے ۔
لیکن شاید وہ در خواستیں کسی '' کچھ نے '' پر لدی ہوئی ہیں کہ ابھی منزل مقصود پر نہیں پہنچ پائی البتہ متعلقہ لوگوں نے اتنی مہربانی کی ہے کہ اب ان کو انسان کے غلط نام سے بھی نہیں پکارا جاتا اور اپنے حقیقی نام حیوان سے بھی یاد نہیں کیا جاتا ہے صرف قبائلی عوام کہا جاتا ہے جس سے انسانوں اور حیوانوں دونوں کی '' بُو '' آتی ہے۔
یہ عجیب اور انتہائی غریب مخلوق پاکستان کے کنارے کنارے غیر آباد جنگلوں میں رہتی ہے جسے '' علاقہ غیر '' کہا جاتا ہے کیونکہ اس میں وہ تمام نشانیاں پائی جاتی ہیں جو کسی '' غیر '' کے لیے لازم و ملزوم ہوتی ہیں ۔کسی زمانے میں اسے '' یا غستان '' بھی کہا جاتا تھا جو کسی بھی زبان کا کوئی لفظ نہیں کیونکہ یہ لوگ بھی کسی کیٹگیری میں نہیں ہیں چنانچہ '' باغی '' میں ایک نقطہ ڈال کر یاغی '' او '' یاغستان '' کا چوزا نکال لیا گیا تھا ۔ کیونکہ '' باغی '' کی مماثلت ''باغ ''سے تھی اور یہ علاقہ '' باغ '' بالکل بھی نہ تھا ۔ یہ الگ بات ہے کہ کبھی کبھی یہاں کمشل باغ، منگل باغ اور بدھ باغ وغیرہ بھی پیدا ہو جاتے ہیں۔
ویسے تو قبائلی عوام کا بیانیہ جناب حضرت مدظلہ العالی اور جناب محمود خان اچکزئی کے نام رجسٹرڈ ہے لیکن یہ دونوں دریا دل اور مرنجا مرنج لوگ ہیں اس لیے اوروں کو بھی اس سے مستفید ہونے کی اجازت دے دیتے ہیں، اس لیے جس کا جب اور جہاں جی چاہیے ۔ ان '' قبائلی عوام '' کے بارے میں اپنا '' بیانیہ '' لانچ کر دیتا ہے۔جہاں تک گورنر صاحب آف صوبہ خیر پہ خیر عرف کے پی کے کا تعلق ہے تو اس کا تو کام ہی قبائلی عوام کو قبائلی عوام بنانے کا ہوتا ہے اور بناتے رہتے ہیں چنانچہ جب بھی کوئی گورنر تشریف فرما ہوتا ہے وہ یہی بنانے کا کام جاری رہتا ہے لیکن اس مرتبہ بالکل ہی خلاف معمول، خلاف روایت اور خلاف توقع یہ نیا مژدہ جان فزا سننے میں آیا ہے کہ
'' قبائلی عوام کا مستقبل یقینی بنایا جائے گا ''
اور یہ بالکل ہی نئی بات ہے، اتنی نئی کہ اس سے پہلے کبھی اس قسم کی باتیں سننے میں نہیں آئی ۔ '' قبائلی عوام '' ۔ کا مستقبل اور پھر '' یقینی '' ہے نا بڑی چونکا دینے والی بات اور پھر سب سے زبردست پہلو اس کا یہ ہے کہ ابھی صرف ستر سال ہی تو گزرے ہیں پاکستان کو اور اتنی جلدی قبائلی عوام کے نہ ماضی کی نہ حال کی بلکہ '' مستقبل '' کی بات اور وہ بھی ''یقینی '' اس بے پناہ '' جلدی '' پر ہمیں وہ چرسی یاد آرہا ہے جسے ایک مردے کا کفن اور دوسرا سامان لانے کے لیے بھیجا گیا تھا لیکن راستے میں اسے چرسیوں کی ٹولی مل گئی اور ایک دو سوٹے مارنے کے لیے ٹھہر گیا۔ اب یہ وقت کم بخت جو چرسیوں اور پاکستانیوں کا جدی پشتی دشمن ہے اتنی تیزی سے گزرا کہ ایک دو سوٹوں میں صبح سے دوپہر دوپہر سے شام اور شام سے رات ہوگئی ۔ اب رات میں تو بازار بند ہو جاتے ہیں، اس لیے چرسی بھی وہیں لیٹ گیا۔
ادھر گائوں کی بھی سمجھ ٹھکانے آگئی کہ جسے کفن اور دفن کا سامان لانے بھیجا تھا وہ چرسی بھی تھا، اس لیے انھوں نے کوئی اور آدمی دوڑا کر اور سامان منگوا کر مردے کو ٹھکانے لگادیا ۔دوسرے دن چرسی کفن دفن کا سامان سر پررکھے پہنچ گیا تو دروازے میں ٹکرا کر گر پڑا۔ اٹھنے لگا تو اپنا لباس جھاڑ تے ہوئے بولا ، جلدی کا کام ایسا ہی ہوتا ہے ۔اور ہمیں بھی یہی خدشہ ہے کہ قبائلی عوام کا مستقبل یقینی بنانے کا پراجیکٹ ہے، کہیں یہ بھی '' جلدی '' کا شکار نہ ہو جائے، اس سے ایک بات یہ بھی نکلتی ہے کہ ابھی تک حکومت قبائلی عوام کا ماضی اور حال '' یقینی بنانے '' میں نہایت بزی رہی ہوگی اور ان دونوں یعنی ماضی اور حال کو خوب اچھی طرح یقینی بنانے کے بعد اب مستقبل کے لیے فرصت ملی ہو ۔ قبائلی عوام کے مستقبل کو یقینی بنانے کا فیصلہ تو ہوگیا ۔ لیکن اس '' مستقبل '' کو ڈھونڈا کیسے جائے گا ۔
کیونکہ مستقبل تو ہمیشہ ماضی اور حال کے ساتھ جڑا ہوتا ہے اور یہاں تو یہ دونوں '' حضرات '' موجود ہی نہیں ہیں نہ آج تک کسی نے قبائلی عوام کا '' ماضی '' دیکھا ہے اور نہ حال، اگر دیکھی ہے تو صرف بے حالی اور بد حالی دیکھی ہے بلکہ '' خوشحالی '' کے سوا جتنی بھی '' حالیاں '' ہیں وہ یہاں آتے ہوئے ڈرتی رہی ہیں ۔ اور ماضی تو خیر ماضی تھا، ایسے میں کام تو بڑا دشوار ہے، پہلے '' مستقبل '' کو ڈھونڈنا اور پھر اسے یقینی بنانا لیکن ہمیں حکومت اور قبائلی انتظامیہ پر پورا بھروسہ ہے کہ وہ قبائلی عوام کے مستقبل کو ٹھیک اسی طرح بنا دے جتنا وہ اپنے مستقبل کو یقینی بناتی رہی ہے۔