جمہوریت کی خوش آیند پیش قدمی

خوش آیند پیش رفت یہ ہے کہ عام انتخابات 2018ء کی تیاریاں آخری مراحل میں داخل ہوگئی ہیں۔


Editorial May 31, 2018
خوش آیند پیش رفت یہ ہے کہ عام انتخابات 2018ء کی تیاریاں آخری مراحل میں داخل ہوگئی ہیں۔ فوٹو: فائل

ISLAMABAD: اسلام آباد ہائیکورٹ نے ملک بھر کے 4 اضلاع کی حلقہ بندیاں کالعدم قرار دیتے ہوئے الیکشن کمیشن کو حکم دیا ہے کہ قواعد کے مطابق ان اضلاع میں ازسر نو حلقہ بندیاں کرے اور ہر نشست پر آبادی کا تناسب بھی مدنظر رکھا جائے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے 20 حلقوں سے متعلق مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے رہنماؤں کی 37 درخواستوں پر سماعت کی، جن اضلاع کی حلقہ بندیاں کالعدم قرار دی گئی ہیں ان میں جہلم، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ اور لوئر دیر شامل ہیں۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ضلع خوشاب میں صوبائی حلقہ بندیوں کی ازسر نو تشکیل کی درخواست کی سماعت مکمل کرلی۔

بلاشبہ حلقہ بندیوں اور مردم شماری سے متعلق ایشوز کو انتخابی سیاسی سیاق وسباق میں کئی سیاسی جماعتوں نے بہت پہلے محسوس کیا تھا اور الیکشن کمیشن نے بھی کماحقہ ان دونوں معاملات کو پیش نظر رکھا تھا، تاہم عدالتی احکامات سے معاملہ کا حل نکل آئیگا، عدالتی حکم بادی النظر میں ایک طرح سے حلقہ بندیوں کے ضمن میں ری ایڈجسٹمنٹ آرڈر ہے جب کہ یہ تکنیکی کام ہے اور جسے الیکشن کمیشن عدالتی حکم کی روشنی میں مزید بہتر انداز میں پایہ تکمیل تک پہنچا سکتا ہے مگر دیکھنا ہوگا کہ الیکشن کمیشن کی عدالتی احکامات کے پیش نظر کیا صائب اور موثر حکمت عملی ہوگی جو عدالت اور درخواست دہندگان کو مطمئن بھی کردے۔

بلاشبہ الیکشن کمیشن کے پاس وقت کی کمی ہے مگر عزم و ارادہ ناقابل شکست اور بے پایاں ہے، توقع ہے عدالتی حکم پر جلد عملدرآمد کیا جائے گا، عدالت نے بہاولپور، رحیم یار خان، چکوال، ہری پور اور بٹگرام کی حلقہ بندیوں سے متعلق فیصلہ محفوظ کرلیاہے، اسلام آباد ہائیکورٹ میں حلقہ بندیوں سے متعلق کل 108 درخواستیں زیرسماعت ہیں، ادھر لاہور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کے رکن صوبائی اسمبلی شعیب صدیقی کی حلقہ بندی کے خلاف درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر مسترد کردی۔

خوش آیند پیش رفت یہ ہے کہ عام انتخابات 2018ء کی تیاریاں آخری مراحل میں داخل ہوگئی ہیں، مسلم لیگ (ن) نے آیندہ الیکشن میں صوبہ پنجاب سے امیدواروں کے چناؤ کے لیے پارلیمانی بورڈ تشکیل دیدیا، تینوں مسلح افواج کے چاق وچوبند دستے جمعرات کو افطار سے پہلے ایوان وزیراعظم میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو شایان شان طریقے سے الوداعی گارڈ آف آنر دیں گے، سیاسی کارکن آیندہ الیکشن کیلیے انتخابی مہم شدید گرمی میں جاری رکھنے پر مضطرب ہیں۔

ادھر قومی اسمبلی کی مدت ختم ہونے میں صرف دو دن باقی ہیں، لیکن حلقہ این اے 120 سے منتخب رکن قومی اسمبلی، سابق وزیراعظم نواز شریف کی اہلیہ کلثوم نواز اپنی رکنیت کا حلف نہ اٹھا سکیں۔ سابق خاتون اول اپنے کاغذات نامزدگی کی منظوری کے روز ہی الیکشن سے ایک ماہ قبل لندن علاج کے لیے روانہ ہوگئی تھیں اور اسی وجہ سے وہ اپنی الیکشن مہم میں بھی شرکت نہ کرسکی تھیں، ادھر بلوچستان اسمبلی کا آخری اور الوداعی اجلاس بدھ کو اسپیکر راحیلہ حمید درانی کی صدارت میں ہوا، واضح رہے 31 مئی کو رات 12 بجے بلوچستان اسمبلی تحلیل ہوگی جب کہ بلوچستان میں نگراں وزیراعلی کا فیصلہ نہیں ہوسکا، البتہ سندھ اسمبلی اور سندھ کابینہ تحلیل کیے جانے کے نوٹیفکیشن جاری کردیے گئے۔

خیبرپختونخوا میں نگران وزیراعلیٰ کے تقرر کے سلسلے میں وزیراعلیٰ پرویزخٹک اور مولانا لطف الرحمٰن کی جانب سے اعلان نہ ہونے کے باعث اس ضمن میں پائی جانے والی کنفیوژن ختم نہ ہوسکی۔

دونوں رہنماؤں کے پاس نگران وزیراعلیٰ کے تقرر کے اعلان کے لیے صرف ایک دن باقی رہ گیا ہے جو پورا ہونے پر معاملہ پارلیمانی کمیٹی کے سپرد ہوجائے گا۔ وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف گزشتہ روز پاک فوج کے افسروں اور جوانوں سے اظہاریکجہتی کیلیے شمالی وزیر ستان کے علاقے میرانشاہ گئے۔

وزیراعلیٰ نے فوجی افسروں اور جوانوں کے ساتھ تین گھنٹے گزارے۔ فاٹا انضمام پر پورے خیبر پختونخوا میں جشن کا سماں ہے مگر جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے فاٹا انضمام کا معاملہ قبائل جرگہ کے سامنے رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کام اسمبلی نے خود نہیں کیا بلکہ فاٹا کا انضمام پارلیمنٹ کی گردن مروڑنے والی قوت نے کروایا۔ بہرکیف الیکشن فیور کا آغاز ہوگیا ہے، الیکشن کمیشن نے 77 سیاسی جماعتوںکو انتخابی نشان الاٹ کردیے۔

پاکستان تحریک انصاف کو بلا، ن لیگ کو شیرکا نشان الاٹ کردیا، پاکستان پیپلزپارٹی کو تلوار، پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کو تیرکا نشان ملا، مسلم لیگ قائداعظم نے سائیکل کے نشان سے دستبردار ہوکر انتخابی نشان ٹریکٹر حاصل کرلیا، ایم کیو ایم پاکستان کو پتنگ، متحدہ مجلس عمل کو کتاب، اے این پی کو لالٹین کا نشان الاٹ کردیا گیا۔ چیف الیکشن کمشنر جسٹس سردار رضا کی سربراہی میں پانچ رکنی الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں کو انتخابی نشانات الاٹ کرنے سے متعلق اجلاس کی صدارت کی۔

الیکشن کمیشن نے بغیر اعتراضات والی 77 سیاسی جماعتوں کو ان کی مرضی کے انتخابی نشان الاٹ کیے۔ تارے کا انتخابی نشان پیرپگاڑا کی زیرقیادت گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کو الاٹ کر دیا گیا۔ تلوارکے انتخابی نشان کے لیے پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹرینز، پیپلزپارٹی شہید بھٹو، پاکستان پیپلزپارٹی ورکرز نے خواہش کا اظہارکیا تھا، پیپلز نیشنل پارٹی نے بھی تلوار کا نشان مانگا۔ الیکشن کمیشن نے عوامی مسلم لیگ کو قلم دوات، پاکستان کسان اتحاد کو ہل، پاکستان پیپلزپارٹی ورکرز کو وکٹری کا انتخابی نشان الاٹ کیا۔

پاکستان تحریک انصاف (گلالئی) بلے باز کے نشان کی خواہشمند تھی مگر الیکشن کمیشن کی جانب سے انھیں ریکٹ کا نشان الاٹ کیا گیا۔ پاکستان تحریک انصاف گلالئی نے الیکشن کمیشن میں من پسند انتخابی نشان ''بلے باز'' نہ ملنے پر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کا فیصلہ کیا ہے، جمعیت علمائے اسلام کے صوبائی جنرل سیکریٹری ملک سکندرخان ایڈووکیٹ نے کہا ہے انتخابات کی تیاریاں مکمل کرلی گئیں، متحدہ مجلس عمل نے پارلیمانی بورڈ تشکیل دے دیا، ایم ایم اے 5 جون تک امیدواروں کے ناموں کو حتمی شکل دے گی۔

میڈیا میں بحث جاری ہے کہ وفاقی حکومت کے حکام نے سابق آرمی چیف جنرل (ر) مرزا اسلم بیگ اور سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) اسد درانی کے خلاف سپریم کورٹ کے احکامات پر کارروائی کا آغاز کرنے کے لیے پالیسی کا معاملہ سردمہری کی نذرکردیا، پنجاب میں 6 ہزار سے زائد پولنگ اسٹیشنز حساس ترین قرار دے دیے گئے ہیں، یوں دیگر صوبوں میں بھی سکیورٹی ہائی الرٹ رہنے کی توقع ہے، الیکشن کے خلاف عالمی قوتوں کی سازش تھیوری کا انکشاف بھی ہوا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اندیشہ ہائے دور دراز بہت ہیں مگر جمہوری حکومت کا اپنی مدت پوری کرنا ایک نیک شگون ہے، گردشی قرضہ اگرچہ 573 ارب سے تجاوز کرچکا ہے اور پاکستان پوسٹ کو 10 ارب کے خسارہ کا سامنا ہے، مگر وفاقی حکومت نے توانائی بحران کے خاتمہ کا اعلان کیا ہے، نگراں وزیراعظم کو فول پروف سکیورٹی دے دی گئی ہے اور سچ یہ ہے کہ ملک کے مستقبل کے حوالہ سے بربادی و زمیں بوس gloom-doom ہونے کا نقشہ کھینچنے والی جو جمہور دشمن قوتیں تھیں ان کے لیے جمہوریت کی پیش قدمی آج ایک ڈراؤنا خواب بن چکا ہے۔ اب گیند سیاسی جماعتوں اور ووٹرز کے کورٹ میں ہے اور تاریخ کی نگاہیں پاکستان پر جمی ہوئی ہیں۔