عطار کے اسی لونڈے سے دوا
کوئی اندھا بھی محض ہاتھ پھیر کر اور حساب لگا کر یہ سمجھ سکتا ہے کہ میرا لباس جو بچپن کا ہے اب مجھے پورا نہیں آرہا ہے۔
ہم نے ایک دو مرتبہ پہلے بھی قوانین ماڈل 1935ء ورسز جرائم 2018ء پر بات کی ہے اور بڑا گمبھیر مسٔلہ ہے کہ قوانین تو ہاتھ میں وہی پرانا زنگ آلود نیزہ لیے کھڑے ہیں اور جرائم کلاشن کوف اور ڈرون تک پہنچ چکے ہیں۔ تھانوں میں پرانی تھری ناٹ تھری بندوقوں کی جگہ کلاشن کوف نے لے لی ہے۔ پولیس گھوڑے کی سواری سے 4x4 گاڑیوں تک پہنچ گئی۔
چور نقب زنی اور راہزنی سے انویسیٹمنٹ کمپنیوں سیاست، بارگینگ اور پراپرٹی و تعمیرات تک پہنچ گئے ہیں لیکن قوانین وہی تعزیرات ہند کے چل رہے ہیں۔ بعض مقامات پر کتوں اور گدھوں کے گوشت بیچنے کے جرائم سامنے آئے ہیں لیکن قانون وہی بیل ایبل اور نان بیل ایبل کے چکر میں پڑا ہوا ہے، جرائم اجتماعی قتل بذریعہ ملاوٹ وغیرہ اور چھوٹی چھوٹی معصوم بچیوں تک کے لیے خطرہ بن چکے ہیں اور قانون شک کا فائدہ اور معصوم کو سزا نہ ملنے پر اٹکا ہوا ہے۔
کھڑا ہوں آج بھی روٹی کے چار حرف لیے
سوال یہ ہے کتابوں نے کیا دیا مجھ کو
اور اس کی تو بات ہی نہ کریں تو اچھا ہے کہ یہ قصہ بہت ہی درد ناک ہے کہ قانون کی جھولی میں خود قانون والوں نے اتنے چھید کیے ہوئے ہیں کہ ان میں سے جرائم کا ہاتھی بھی بہ آسانی گزر جاتا ہے بلکہ باعزت گزر جاتا ہے۔ معاملہ کسی طوائف کے کوٹھے جیسا پیسہ پھینک تماشا دیکھ کا ہو چکا ہے۔ ہمارا دعویٰ ہے اور اسے کوئی نہیں جھٹلا سکتا کہ موجودہ وقت جو ''لاقانونیت'' خود قوانین کے علمبردار پھیلا رہے ہیں اتنی شاید لاقانونیت نے بھی قوانین کو نہیں پہنچائی ہوگی۔ اگر اس میں کہیں کسی قانون کا کسی اور چھوٹی موٹی کی طبیعت پر کچھ گراں گزرتا ہے تو اس کے لیے ہم پہلے معذرت خواہ ہیں لیکن حقیقت بہر حال حقیقت ہوتی ہے گلیلو گلیلی کو جب چرچ نے تو یہ ثابت کرنے پر مجبور کیا تو اس نے کہا میں اپنے خیالات سے توبہ کرتا ہوں لیکن اس کے باوجود زمین سورج کے گرد گھوم رہی ہے۔
کس نے کسی کوٹھے کی نائیکہ سے کہا کہ تم عورت ہو کر عورتوں پر اتنے مظالم ڈھاتی ہو تو اس نے کہا کس نے کہا کہاں میں عورت ہوں میں تو نائیکہ ہوں صرف نائیکہ۔ لیکن اس مرحلے پر پہنچ کر اچانک ایک نیا خیال ہمارے ذھن میں کود پڑا ہے کہ یہ جو ہم کہہ رہے ہیں کس سے کہہ رہے ہیں ؟ اورکیا صرف ہم ہی واحد سقراط بقراط ہیں کہ جو ہم سمجھ رہے ہیں وہ ''دوسرے'' نہیں سمجھ رہے ہیں واقعی یہ تو ہم نے سوچا ہی نہیں تھا کہ ہم کسی سے بلکہ ''کس کو'' کہہ رہے ہیں کیونکہ کون ہے جو نہیں جانتا اور کون ہے جو نہیں سمجھتا۔
سب سمجھتے ہیں اور سب چپ ہیں
کوئی کہتا نہیں کہ تم سے کہیں
کوئی اندھا بھی محض ہاتھ پھیر کر اور حساب لگا کر یہ سمجھ سکتا ہے کہ میرا لباس جو بچپن کا ہے اب مجھے پورا نہیں آرہا ہے کہا ں وہ وقت جب میں آٹھ دس سال کا بچہ تھا اور کہاں یہ کہ اب میں ساٹھ ستر سال کا ہو چکا ہوں اگر یہی لباس پہنوں گا تو تماشہ بن جاؤں گا ستر پوشی تو ممکن نہیں لیکن عین ممکن ہے کہ لباس ہی پھٹ جائے اور ''جسم'' کے اعضاء اس سے باہر نکل پڑیں کہ جسم بڑا ہوچکا ہے اور لباس تو بڑ ا ہوتا ہے۔ پشتو میں ایک کہاوت ہے کہ سوتے کو تو جگایا جا سکتا ہے لیکن جاگا ہوا سونے کا فریب کرے تو اسے کوئی نہیں جگا سکتا ہے یا یہ نہیں چلو گے تو اٹھالوں لیکن اٹھاؤ گے نہیں توکیسے کھلاؤں گا
ہم کو ان سے وفا کی ہے امید
جو نہیں جانتے وفا کیا ہے
بات تھوڑی غلط ہو گئی وہ جانتے تو خوب ہیں کہ ''وفا'' کیا ہے بلکہ وفا یہ بھی جانتے ہیں کہ وفا میں ان کا فائدہ کیا ہے۔بھلا کوئی اپنی دو دھیل گائے یعنی ذبح کرسکتا ہے؟ پھل دار باغ بھی کاٹ سکتا ہے؟ یا اپنا کھیت اجاڑ سکتا ہے مسائل نہ ہوں تو ''حل'' کرنے والے کیا کھائیں جرائم نہ ہوں تو چھڑانے والے کیا کھائیں گے مجرم نہ ہو تو ووٹر کیسے بنائے جائیں گے۔ تھانہ کچہری جاجا کر یک جہتی کا اظہار کیسے کیا جائے گا۔ ب یہ جو مختلف مقامات پر جنسی جرائم ہوئے ہیں بچیوں کو نشانہ بنایا گیا گدھوں کتوں کو بیچنے والے پکڑے گئے ذرا جاکر ان کے ارگرد دیکھئے غم خوروں اور غم گساروں میں وہی لوگ نظر آئیں گے جن سے ہم ''توقعات'' وابستہ کیے ہوئے ہیں۔
ایک فلم کا منظر یاد آرہا ہے ایک بہت ہی ظالم بدمعاش اور خونخوار مجرم ایک ''بڑے'' کے ہاں پناہ لیے ہوئے تھا اور وہ اسے تسلی دے رہا تھا کہ فکر نہ کرو میرے ہوتے ہوئے کوئی تمہارا بال بھی بانکا نہیں کرسکتا۔ اتنے میں ان لوگوں کا ایک ہجوم آجاتا ہے جو اس مجرم کا نشانہ بنے ہیں ''بڑا'' ان کی فریاد سن کر ''بے حد'' دکھی ہو جاتا ہے اتنا ظلم اتنی زیادتی؟
میں اپنے علاقے میں اس قسم کا ظلم اورایسے ظالم لوگ بالکل برداشت نہیں کروں گا اور پھر ٹیلیفون اٹھا کر پولیس سے کہتا ہے کہ فلاں مجرم کو جلد از جلد گرفتار کرکے کیفر کردار تک پہنچایا ہجوم سے مخاطب ہو کر کہتا ہے ''میرے بچوں'' پر ظلم کرنے والے کی میں ایسی تیسی کردوں گا تم جاؤ اب یہ میرا کام ہے میں اس مجرم کو ہر گز نہیں چھوڑوں گا،اور واقعی اس نے اس ''مجرم'' کو نہیں چھوڑا گرفتار ہونے کے لیے اسے آرام سے رکھا اور پھر اسے سمجھا کر کہا کہ جاکر دوچار اوروں کو بھی نشانہ بنا دو خاص طور پر فلاں فلاں کو اس لیے تو ستر سال سے کوئی خاص قانون سازی نہیں ہوئی کیونکہ قانون ساز خود اپنے ''ساز'' میں مصروف رہتے ہیں اور موجود قوانین میں مزید چھید ڈالنے کی سعی کرتے رہتے ہیں۔
اب یہ جو '' ڈرامہ '' کھیلا جا رہا ہے اس سے عام آدمی کا کیا سنور جائے گا ایک کھیل جو چل رہا ہے ان خداماروں کے سر کے اوپر جو معاشرے میں ان ہی کے کرتوتوں کی سزا بھگت رہے ہیں اور ان ہی کے پالے ہوؤں کا نشانہ بن رہے ہیں پانی ہے جو بلویا جا رہا ہے بھوسہ ہے جو اڑایا جا رہا ہے تاکہ کرنے والے کرتے رہیں اور بھگتنے والے بھگتتے رہیں۔ چند اعلانات چند خوشخبریاں چند سبز باغ چند کیفر کردار کے ڈائیلاگ عوام کو کیا فرق پڑنے والا ہے یہ چور نہ سہی دوسرا سہی یہ نہیں اورسہی اور نہیں اور سہی ۔